کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک قدم نے ممتا بنرجی کی وزیر اعلیٰ کی کرسی کو خطرے میں ڈالا

88

کلکتہ ہائی کورٹ نے بھوانی پور اسمبلی سیٹ پر ہونے جا رہے ضمنی انتخاب کو لے کر داخل کی گئی مفاد عامہ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے آئینی بحران کے معاملے پر انتخابی کمیشن سے حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو اگر وزیر اعلیٰ کی کرسی پر برقرار رہنا ہے تو انھیں بھوانی پور اسمبلی سیٹ پر ہو رہے ضمنی انتخاب میں جیت حاصل کر اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنی ہوگی۔ ان کی جیت بی جے پی امیدوار پرینکا ٹبریوال کے سامنے آسان معلوم دے رہی ہے، لیکن کلکتہ ہائی کورٹ نے آج ایک مفاد عامہ عرضی پر سماعت کے بعد جو قدم اٹھایا ہے اس نے ممتا بنرجی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
دراصل بھوانی پور اسمبلی سیٹ کے لیے ہونے والے ضمنی انتخاب کو لے کر اندیشے کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے بھوانی پور اسمبلی سیٹ پر 30 ستمبر کو ہونے جا رہے ضمنی انتخاب کو لے کر داخل کی گئی مفاد عامہ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے آئینی بحران کے معاملے پر انتخابی کمیشن سے حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ حلف نامہ 24 گھنٹے کے اندر داخل کرنے کو کہا گیا ہے۔ اب اس معاملے کی سماعت جمعہ یعنی 24 ستمبر کو ہوگی۔
واضح رہے کہ اسمبلی انتخاب میں نندی گرام کی سیٹ سے ناکام ہونے کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھوانی پور سے ضمنی انتخاب لڑ رہی ہیں۔ انھیں وزیر اعلیٰ عہدہ پر بنے رہنے کے لیے 5 نومبر سے پہلے منتخب ہونا ہوگا۔ اگر وہ منتخب نہیں ہوتی ہیں تو ان کی وزیر اعلیٰ کی کرسی چلی جائے گی۔ اس تعلق سے ممتا بنرجی نے بدھ کے روز خود عوام سے گزارش کی تھی کہ وہ ووٹ کریں، کیونکہ وہ انتخاب نہیں جیتتی ہیں تو کوئی دوسرا وزیر اعلیٰ ہوگا۔
(قومی آواز)