اللہ رب العالمین کی رضا مندی کا ایک اہم ذریعہ اور سبب توبہ واستغفار ہے: مولانا محمد رحمانی مدنی




توبہ ، استغفار، نیکیاں، صدقۂ جاریہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ، مصائب اور مشکلات کا لاحق ہونا گناہوں کی معافی کے اسباب ہیں
نئی دہلی: (پریس ریلیز) شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے دس ایسے اسباب کا تذکرہ فرمایا ہے جن کے ذریعہ انسان کے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے ،یہ اسباب شیخ الاسلام کے فتاوی ابن تیمیہ کی دسویں جلد میں موجود ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے گناہوں سے توبہ کریں کیوں کہ توبہ کرنے والا گناہوں سے اس طرح پاک کردیا جاتا ہے جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ اسلام میں توبہ واستغفار کی بڑی اہمیت وفضیلت ہے لیکن عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ استغفار تو کثر ت کے ساتھ کرتے ہیں لیکن توبہ کا اہتمام کرنے والے بہت کم ہی لوگ نظر آتے ہیں ۔توبہ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ماضی کے گناہوں پر ندامت کا اظہار کرے، حال میں ہونے والے گناہوں کوچھوڑدے اورمستقبل سے متعلق یہ عزم کرے کہ آئندہ گناہوں کو انجام نہیں دے گا اوراستغفار کا معنی مغفرت طلب کرنا ہے یعنی انسان کے گناہوں پر اللہ اس کی ستر پوشی کردے اور اسے معصیت کے اثرات سے محفوظ کردے کہ وہ عذابِ الٰہی کا مستحق نہ ہوجائے۔ اورتوبہ کرنے کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ توبہ میںاستغفار شامل ہوتاہے لہٰذا انسان کو توبہ اور استغفار دونوں کا بھر پور اہتمام کرنا چاہیے۔
ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ،نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق جوگابائی میں خطبہ¿ جمعہ کے دوران کیا ۔ مولانا توبہ واستغفار اورگناہوں کی مغفرت کے مختلف اسباب اورذرائع کا تذکرہ فرمارہے تھے ۔ مولانا نے گناہوں کی مغفرت اوربخشش کے دس اسباب کا تذکرہ فرمایا جودرج ذیل ہیں۔
۱- توبہ کرنا گناہوں کی مغفرت کا اہم سبب ہے کیوں کہ توبہ کرنے والے کے گناہ ویسے ہی مٹادیے جاتے ہیں گویا اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہ ہو۔
۲- استغفار کرنے سے اللہ رب العالمین اپنے بندے کوبخش دیتا ہے لہٰذا اس کا بھی اہتمام کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔
۳- اعمال صالحہ کوانجام دینے سے بھی اللہ تعالیٰ گناہ صغیرہ کو معاف فرمادیتا ہے لہٰذا نیک اعمال کا اہتمام بھی کثرت سے کیا جانا چاہیے۔
۴- مو¿من بندوں کا اپنے بھائی اوردوست کے لیے زندگی میں یا موت کے بعد استغفار کرنے سے بھی انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
۵- دوستوں اور رشتہ داروں کی طرف سے میت کے لیے صدقہ¿ جاریہ کا ہدیہ بھی گناہوںکی معافی کے اہم اسباب میں سے ایک ہے۔
۶- رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ایسے بندے کے حق میں بروز قیامت شفاعت کرنا جوبدعات وخرافات سے بچتا تھا اوراتباع سنت کا خیال رکھتا تھا۔
۷- بندہ کو دنیا میں جومصائب اور مشکلات لاحق ہوتی ہیں ان کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کومعاف فرماتا ہے ۔
۸- برزخی زندگی میں پہنچنے والی تکلیفیں بھی مو¿من کے لیے گناہوں کا کفارہ ہوںگی۔
۹- قیامت میں قیامت کی ہولناکی اورشدّت بھی بندہ¿ مومن کے لیے گناہ کا کفارہ ہے ۔
۰۱- اللہ ارحم الراحمین کا اپنے بندہ پر رحم کرنا اور اپنے فضل خاص سے اسے معاف کردینا بھی گناہوں کی معافی کا اہم سبب ہے لہٰذا ہمیں اللہ کے رحم کے حصول کے اسباب اختیار کرنے چاہیے۔
خطیب محترم نے 11جون 2021ءکودیے گئے خطبہ¿ جمعہ کوبھی اس تسلسل کے لیے سننے کی اپیل کی جس میں روز مرہ کی زندگی کے کچھ ایسے مسنون اعمال کا ذکر کیا گیا تھا جن کے ذریعہ گناہوں کومٹانے کے آسان طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں وہ خطبہ Sanabil Dawah Centre نامی یوٹیوب چینل پر سنا جاسکتا ہے ۔
اخیر میں مسلمانوں سے توبہ واستغفار کا اہتمام کرنے کی اپیل اور قرآن وسنت کی جانب رجوع کرنے کی گزارش پر خطبہ ختم ہوا۔


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *