بہار کی نمائندہ مسلم تنظیموں نے حضرت امیر شریعت کو مبارک باد پیش کیا

مسلم لڑکیوں کے ارتداد، ماب لنچنگ، تعلیم و صحت ، بے قصور مسلم نوجوان اور دیگر اہم مسائل پر ساتھ کام کرنے کا عزم
پٹنہ: (پریس اعلامیہ) امارت شرعیہ کے مرکزی دفتر میں بہار کی نمائندہ مسلم تنظیموں نے حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی کو امیر شریعت منتخب کیے جانے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے مختلف مسائل پر ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔
اس موقعہ سے امیر جماعت اسلامی حلقہ بہار مولانا رضوان احمد اصلاحی صاحب نے کہا کہ امیر شریعت سابعؒ کے انتقال کے بعد امارت ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہوگیا تھا، لیکن جس منظم طریقے سے انتخاب ہوکر یہ معاملہ حل ہوا وہ قابل تعریف ہے، ہم لوگوں کو چاہیے کہ مسلکی، گروہی اور ادارہ جاتی تعصب سے اوپر اٹھ کر کام کریں۔ بالخصوص مسلمانوں کے تحفظ اور اُن کی ترقی کے لیے ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بیروزگاری، تعلیمی مسائل، الحاد اور دہریت کی جانب ہمارے نوجوان جس طرح جارہے ہیں ان کی جانب ہماری توجہ بھی نہیں جاتی، حالاں کہ وہ بہت اہم مسئلہ ہے خاص کر موجودہ وقت میں مسلم بچیوں کے ارتداد کا مسئلہ ہے، اس کے لیے ایک ایک مسئلہ پر باضابطہ بیٹھنے کی ضرورت ہے اور گروپ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ عملی نفاذ کی جو کوشش ہوسکتی ہے وہ کی جائے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے پہلے بھی تعاون کیا گیا ہے اور آگے بھی کیا جائے گا، حضرت امیر شریعت جو حکم فرمائیں گے ان شاء اللہ ہم لوگ مل جل کر ان کاموں کو انجام دیں گے۔
جمعیۃ اہل حدیث کے امیر مولانا خورشید احمد مدنی صاحب نے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں، آپ ہی میں کا ایک فرد ہوں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ امارت شرعیہ پر اللہ کا خاص کرم ہے کہ امارت شرعیہ کو اللہ نے ایسا بالغ نظر عصری ودینی علوم سے آراستہ وپیراستہ امیر شریعت عطا کیا۔ امید ہے ان کی قیادت میں امارت کے علاوہ دیگر ملی مسائل بھی حل ہوں گے۔
امارت اہل حدیث کے نمائندہ مولانا عبد اللہ صاحب نے اپنے امیر کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین المذاہب شادیوں کے سلسلہ میں جو ڈاٹا ہے اُس میں سے ایک ڈاٹا یہ بھی ہے کہ چالیس ہزار کے قریب لڑکیاں پورے ہندوستان میں غیر مسلموں کے چنگل میں پھنس چکی ہیں۔ خواہ وہ کسی بھی وجہ سے اُن کے چنگل میں پھنسی ہوں۔ بہار میں ڈھائی ہزار ایسی لڑکیاں ہیں جو مسلم ہیں اور غیر مسلموں کے ساتھ بھاگ چکی ہیں، یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، اس پر کسی طرح کا کوئی شور اور ہنگامہ نہیں ہورہا ہے، کوئی حل نہیں نکالا جارہا ہے۔ اس پر مل جل کر بہت مضبوط طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
مولانا مشہود قادری ندوی قائم مقام ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء بہار نے کہا کہ سب سے پہلے تو میں اپنی جانب سے اور اپنی جماعت جمعیۃ علماء کی جانب سے مبارک باد پیش کرتا ہوں، اللہ نے آپ کو اس منصب پر فائز فرمایا ہے یقینا آپ اپنی صالحیت اور صلاحیت کی بنیاد پر ’’الولد سر لابیہ‘‘ ثابت ہوں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ آٹھ امرائے شریعت میں سے آپ پانچویں امیر ہیں جن کو مجھے دیکھنے یا جن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ تفصیلی باتیں ہوچکیں۔ بہت ساری رائے آئی ہیں۔ امارت اور جمعیۃ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جس طریقے سے آپ کے والد کے زمانے میں لبیک کہا کرتے تھے آپ کی آواز پر بھی لبیک کہنے کے لیے تیار ہیں اور ہر حکم اور مشورے پر چلنے کے لیے تیار ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مستقبل میں امارت شرعیہ کے ذریعہ قوم و ملت کے لیے بے پناہ کام لے۔
مولانا محمد ناظم صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء بہار نے کہا کہ میں اپنی جانب سے اور جمعیۃ علماء بہار کے تمام ممبران کی جانب سے نومنتخب امیر شریعت کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح امیر شریعت سابع کو کام کرنے کا انداز اور جو صلاحیت دی تھی موجودہ امیر سے اسی انداز میں کام لے لے آمین۔ تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ملی جماعت مل کر صرف مشورہ نا کریں بلکہ زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ گاؤں گاؤں دینی مکاتب قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی میںملوث مسلمانوں کی کیفیت بھی بہت عجیب ہے۔ 2013 ء میں پٹنہ میں بم بلاسٹ کے سلسلہ میں جو مسلمان قید ہیں وہ بیور جیل میں ایک ہی کمرہ میں سڑ رہے ہیں، حالاں کہ جمعیۃ نے ان کے سلسلہ میں کوشش کی ہے لیکن ضرورت ہے کہ امیر شریعت ایسے نوجوانوں کی زندگی برباد ہونے سے بچانے کی کوشش کریں، ہم سب ساتھ ہیں۔
انوار الہدیٰ صاحب مجلس مشاروت نے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر شریعت نے اپنی گفتگو سے سے ہی بتا دیا کہ وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ہماری مجبوری یہی ہے کہ ہم لوگ اپنی سونچ سے باہر نہیں نکلتے ہیں ہمارے درمیان صرف ڈھائی فیصد گریجویٹ ہیں، اس کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں تعلیم نہیں ہے، اسی وجہ سے لوگ اقتصادی طور پر بھی کمزور ہیں،لہٰذا مسلمانوں کو تعلیمی اور اقتصادی طور پر مضبوط کرنا پڑے گا۔ ہم امیر شریعت کی نئی سوچ کو سلام کرتے ہیں۔
جمعیۃ علماء کے ڈاکٹر فیض صاحب نے کہا کہ دلی خوشی ہورہی ہے کہ امارت جیسی مذہبی تنظیم اس طرح اعداد وشمار کے ساتھ معاملات پر غور وفکر کر رہی ہے۔ بیرونی ممالک کے جو حالات آپ نے بتائے اُس سے تو یہ خوف محسوس ہورہا ہے کہ جہاں اتنی آزادی ہے وہاں جب یہ حال ہے تو ہمارے یہاں کا ڈاٹا جمع کرنے پر تو اور خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ یقینا ریسرچ ونگ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک صحیح گائڈ لائن کی ضرورت ہے۔ مجھے بحیثیت ڈاکٹر ہوتے ہوئے یہ اچھا لگا کہ ہم اس لیول پر جاکر غور وفکر کر رہے ہیں، ان شاء اللہ اگر بزرگوں کی دعائیں رہیں تو اور بہتر اور بہت دور تک لے جاسکتے ہیں۔
مجلس امامیہ (شیعہ جماعت) کے سید امانت حسین صاحب نے کہا کہ آپ سے پہلی ملاقات ہے، پہلے تو والد صاحب کی تعزیت پیش کرتا ہوں،اس کے بعد امیر شریعت چنے جانے پر دلی خوشی ہوئی، حق بہ حق دار رسید، قابل تعریف ہیں وہ لوگ جنھوں نے آپ کا انتخاب کیا ہے۔ ان شاء اللہ ہمیں یقین ہے۔ ہم آگے اور بہتر طور پر ترقی کریں۔ ہماری جو کمیاں ہیں اُس کی اہم ترین وجہ ہے غربت اور غربت پیسہ دینے سے خرچ نہیں ہوسکتا ہے، بلکہ اِس کو ختم کرنے کے لیے تعلیم کی ضرورت ہے۔ لہٰذا ہم اسلامی طرز پر اعلیٰ تعلیم کا انتظام کریں۔
جماعت اسلامی کے سکریٹری جناب راشد صاحب نے کہا کہ ابو صالح شریف کے ساتھ سچر کمیٹی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ انھوں نے کہا کہ سچر کمیٹی پر ہندوستان میں کم کام ہوا ہے، لیکن اس سے زیادہ باہر کام ہوا۔ اس پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ میں اپنی اور اپنی ٹیم کو آپ کے ساتھ لے کر کام کروں گا۔ امید کرتا ہوں کہ آپ کی قیادت میں کام کرنے میں مزہ آئے گا اور بہتر نتائج نکلیں گے۔ میں بہت سے ڈاٹا سائنٹسٹ جو مجھ سے کنکٹ ہیں ان کے ساتھ میں آپ کا مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں۔
اس موقع سے نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی نے کہا کہ امارت شرعیہ میں جیسا کہ ابھی آپ حضرات نے ذکر کیا کہ پورے بہار میں ملی اتحاد کی جو شکل نظر آتی ہے وہ دوسرے صوبہ میں نظر نہیں آتی ہے، صحیح بات یہ ہے کہ 1921 میں جب امارت کی بنیاد رکھی گئی تو اتحاد کلمہ پر ہی اس کی بنیاد رکھی، میں سمجھتا ہوں کہ اُسی اخلاص کی برکت ہے، دعا فرمائیں کہ اللہ اس اتحاد کو ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی قائم فرمائے۔ابھی جو باتیں آئی ہیں، حضرت امیر سابع بھی اس کے لیے متفکر تھے اور کام کر رہے تھے، ملی مسائل، ارتداد، مکاتب دینیہ، بنیادی دینی تعلیم، عصری تعلیم ودیگر مرحلوں میں امیر شریعت سابع بڑی مضبوطی اور منظم لائحہ عمل کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ حضرت کے نقش قدم اور رہنما خطوط پر ان شاء اللہ آگے پوری طاقت کے ساتھ کام ہوگا۔
اس موقعہ سے مولانا شبلی القاسمی نے میٹنگ کے مقصد کو بتاتے ہوئے کہا کہ امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی علیہ الرحمہ جن تنظیموں کے ساتھ کام کرتے تھے، اُن کے ساتھ ملاقات ضروری تھی تاکہ امیر شریعت کے چھوڑے ہوئے کاموں کو آگے بڑھایا جاسکے۔ جو بھی ملی مسائل ہیں انھیں مسلکوں اور جماعتوں سے اوپر اٹھ کر حل کریں، ملی مسائل کا مشترکہ حل جو کہ بہار کی خصوصیت ہے اس کو آگے بڑھانا ہے۔ ان شاء اللہ ، حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم بہار کی تمام ملی جماعتوں کے تعاون سے یہاں کے مسلمانوں کی تعمیر وترقی اور تحفظ کا کام ترجیحی بنیاد پر کرنا چاہتے ہیں، آج کی یہ نشست اُسی کا آغاز ہے۔
حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کا شکر گذار ہوں۔ موجودہ حالات میں ہمارے پاس کام کرنے کے لیے واضح اعداد وشمار نہیں ہیں۔ جو بھی اعداد وشمار ہم تک آتے ہیں وہ پرائمری ذرائع سے نہیں بلکہ سکنڈری ذرائع سے آتے ہیں۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ڈیٹا آرگنائزیشن بنائیں، جس کا مقصد مسلمانوں کے حالات کا پتہ کرنا ہے، ہماری کیا مشکلات ہیں، ہمارے جو حساس موضوعات ہیں ان کا ڈاٹا جمع کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ہمیں اس کے لیے تفصیل سے بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ ہم لوگوں کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ ہم لوگ گراس روٹ یعنی ملت کے آخری درجہ تک پہنچے ہوئے ہیں اس لیے یہ کام بہ نسبت آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ ان شاء اللہ اس سلسلہ میں جلد ہی تفصیلی میٹنگ کرکے کاموں کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔ دعا فرمائیں کہ اللہ ہم سب کی جملہ شرور وفتن سے حفاظت فرمائے۔ آمین

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com