دہلی کے فسادات سے لکھیم پور کی گولی باری تک

158

ڈاکٹر سلیم خان
اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری کا معاملہ جسے راتوں رات رفع دفع کردیا گیا تھا اب مختلف جہتوں سے سر ابھارنے لگا ہے۔ کبھی عدالت عظمیٰ میں اس پر ہلچل ہوتی ہے تو کبھی اقلیتی کمیشن از خود جواب طلب کرتا ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ گزشتہ ماہ اقبال سنگھ صاحب نے کمیشن کے منتظم اعلیٰ کو اہم ترین عہدے پر فائز کیا گیا اور اس کے بعد سےسکھوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ لکھیم پور کھیری میں کسانوں کی تحریک کے دوران سکھوں پرحملہ ہوا اور پھر ہریانہ میں اسے دوہرایا گیا۔ کمیشن نے اتر پردیش کے چیف سکریٹری سے 3؍ دن میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ اس سے علیٰ الرغم سپریم کورٹ میں بھی یہ معاملہ زیر سماعت ہے اس لیے اتر پردیش حکومت نے جو رپورٹ عدالت میں داخل کرنے کے لیے تیار کی ہے اسی کی ایک نقل کمیشن کو بھی روانہ کردیا گیا ہوگا۔ ویسے یوگی سرکار ایسی حساس تو ہے نہیں کہ اسے عدالت عظمیٰ کی ڈانٹ پھٹکار یا کمیشن کی سرزنش سے شرم محسوس کرےگی۔
وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے وزیر داخلہ برائے امورِ داخلہ اجئے شرما کے بیٹے آشیش شرما کی وکالت کرتے ہوئے کہا تھاکہ گرفتاری الزامات کی بنیاد پرنہیں بلکہ ثبوت کی بنیاد پر ہوگی۔ اس اصول پر اگر انہوں نے کفیل خان کے معاملے میں عمل کیا ہوتا تو عدالت میں بار بارکی رسوائی سے بچ جاتے لیکن وہ تو اب ایسے ڈھیٹ ہوچکے ہیں کہ غلطی کو بار بار دوہرانے میں عار نہیں محسوس کرتے۔ یوپی حکومت کے اس دوہرے رویہ کی وجہ سے کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نےالزام لگایا کہ لکھیم پور کھیری کیس میں سپریم کورٹ کے اندر حکومت نے اپنے رویہ سے ثابت کردیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت قانون کو ٹائر کے نیچے روندنے والے مجرموں کو بچا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے جب حکومت سے پوچھا کہ اب تک کتنے لوگ گرفتار ہوئے تو اترپردیش انتظامیہ نے دو لنگڑے لولے بہانے کیے جس سے اس کی نیت میں خطرہ واضح ہوگیا۔
سرکار نے عدالت عظمیٰ میں بتایا کہ پیش ہونے کا نوٹس دیا گیا ہے حالانکہ قتل کےملزم کو نوٹس نہیں دیا جاتا بلکہ گرفتار کیا جاتا ہے ۔ یہ ملک کا پہلا معاملہ ہے جس میں ساتویں دن گرفتاری عمل میں آئی ۔ ملزم کی پیشی اور معاملے کی تحقیق کے بغیر اتر پردیش حکومت نے جائے وقوع پرگولی کے ثبوت کا انکار کردیا جو ملزمین کو بلا واسطہ کلین چٹ دینے کے مترادف ہے جبکہ اب تو دو زندہ کارتوس بھی پولس کے ہاتھ آچکے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے صاف کہہ دیا کہ اجئے مشرا کے بیٹے کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ۔ اس جملے کے بعد یہ کہنا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی ۔ کوئی قصور وار ہو تو اسے چھوڑیں گے نہیں چاہے وہ رکن اسمبلی کیوں نہ ہو ۔ یہ بے جان فلمی مکالمہ منافقت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ فسطائیوں کے لیے یہ تازیانۂ عبرت ہے کہ آشیش مشرا کی گرفتاری نے ان کے دعویٰ کو غلط ثابت کر دیا ۔
اس دوران لکھنو میں پارٹی کی ایک اہم نشست میں ریاستی صدر سوتنتر دیو سنگھ نے ارکان اسمبلی کو زبان پر لگام دینے کی تلقین کی۔ اس نشست کے اندر پائے جانے والے اضطراب کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے اجئے سنگھ شرکت کی خاطر لکھنو توپہنچے مگر حاضر ہونے کی ہمت نہیں کرسکے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ اب یہ معاملہ رفع دفع نہیں ہوا اور یوگی جی کی تعریف و توصیف جلد بازی تھی ۔ وہاں موجود ارکان اسمبلی نے خیال پیش کیا کہ اب ترائی کے علاقہ میں بی جے پی کی دال آسانی سے نہیں گلے گی۔ یہ کوئی چھوٹا موٹا علاقہ نہیں ہے بلکہ اس 16؍ پارلیمانی حلقہ جات ہیں اور ان میں 13؍ پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی یعنی یہ اس کا گڑھ ہے۔ ان پارلیمانی حلقوں میں اسمبلی کے حلقوں کی تعداد تقریباً 5؍گنا بڑھ جائیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آشیش مشرا کو پانچ دن بعد کرائم برانچ کےدفتر میں پیش ہونے کی زحمت دی گئی۔ اس کے باوجود وہ وقت مقررہ حاضر نہیں ہوا۔ پولیس نے آشیش مشرا کے موبائل فون کو ٹریک کیا تو پتہ چلا کہ وہ کبھی یو پی-نیپال بارڈر پر گوریفنٹا کے پاس تھا تھا تو کبھی اتراکھنڈ کے باجپورہ میں پایا جاتا تھا۔
در بدر بھاگتے پھرنے والا آشیش گرفتاری سے دو دن قبل گھرسے غائب ہوگیا۔ م ملک کا وزیر مملکت برائے داخلہ اپنے نورِ نظر کے بیمار ہونے کاگریہ کرتے رہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ آخر وہ گھر یا اسپتال کے بجائے کیوں بھاگتا پھر رہا ہے۔ آشیش مشرا کا فرار ہوجانا ’چور کی داڑھی میں تنکا ‘ کے مترادف ہے۔ پولیس کے رویہ پر سپریم کورٹ نے گہری ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا، ملزمین کے خلاف فوری طور پر کارروائی کریں۔چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی پر مشتمل بنچ نے چار کسانوں سمیت آٹھ لوگوں کی ہلاکت کو ’وحشیانہ قتل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ کی مکمل حساسیت اور سنجیدگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر جانچ کی جائے۔ اس تشدد میں اگر مسلمان مظلوم بھی ہوتے تو یوگی سرکار خوب پھرتی دکھاتی مگر خود اپنی پارٹی کےمرکزی وزیر کا خلاف ان کے ہاتھ پیر پھولنے لگے۔
اس معاملے میں انتظامیہ ، مقننہ اور عدلیہ پر دباؤ بنانے کی خاطر سینکت کسان مورچہ نے اس سال دسہرہ کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے پتلے جلانے کا اعلان کیا ہے۔ کسان مورچہ نے الزام لگایا کہ لکھیم پور واقعہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت رونما ہوا ، لہذا اجئے مشرا کو برطرف کر کے بیٹے آشیش مشرا مونو کو فوری طور پرگرفتار کیا جائے۔ ان میں سے ایک مطالبہ پورا ہوگیا دوسرا باقی ہے۔ اس کے علاوہ 12؍ اکتوبر کو کسانوں کی استھی نکالنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ کلش اتر پردیش کے ہر ضلع میں جائے گا اور دوسری ریاستوں میں کلش یاترا نکالی جائے گی نیز 18؍ اکتوبر کو پورے ملک میں ریل روکو مہم کا اہتمام اور26؍ اکتوبر کو لکھنؤ میں ایک مہا پنچایت منعقدکرنے کا اعلان بھی کیا گیا ۔
لکھیم پور تشدد کے بعد بھارتیہ کسان یونین اُگرہن کے سربراہ جوگندر سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی حکومت نے تحریک کو بدنام کرنے کی تمام کوششیں کیں لیکن ناکام رہی۔ ایک اور کسان رہنما درشن پال کا الزام ہے کہ 25؍ ستمبر کو اجئے مشرا کی اشتعال انگیز تقریر کے نتیجے میں 3؍ اکتوبر کو تشدد برپا کیا گیا تاکہ ملک بھر میں خوف و ہراس کا ماحول بنایا جا ئےلیکن وہ بھی ناکام ہوگیا ۔ کسان رہنما حنان ملا نے الزام لگایا کہ جہاں بھی بی جے پی کی حکومت ہے وہ آر ایس ایس کے ساتھ مل کر تشدد کو بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان الزامات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ بی جے پی دہلی میں اسی حکمت عملی پر عمل کرکے فساد برپا کردیا تھا ۔ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے ’دیش کے غداروں کو گولی مار سالوں کو‘ کا اشتعال انگیز نعرہ لگایا ۔ اس کے بعد بی جے پی رہنما کپل مشرا نے سی اے اے مظاہرین کو ہٹانے کی کھلے عام دھمکی دی تھی ۔
اجئے مشرا میں یہ دونوں صفات جمع ہو گئی ہیں ۔ وہ مرکزی وزیر ہونے کے ساتھ ساتھ مشرا بھی ہیں۔ انہوں نے بھی چند روز قبل منٹوں میں کسانوں کو سبق سکھانے کی دھمکی دی اور یاد دلایا کہ وہ رکن اسمبلی یا پارلیمان بننے سے قبل کیا تھے یعنی دبنگائی کرتے تھے۔ دہلی میں فساد کے بعد فسادیوں کے بجائے الٹا حکومت کے خلاف برسرِ پیکار نوجوانوں اور طلباء کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اس طرح سی اے اے کی تحریک کو توڑکرنوجوان مسلم اقلیت کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ لکھیم پور میں سکھ اقلیت نشانے پر ہے ۔ ان کے مظاہرے کو بہانہ بناکر کسانوں پر ظلم کرنے کے بعد خود انہیں کو فسادی اور دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے ۔ اس طرح گویا دہلی ماڈل کو دوہرایا گیا ہے لیکن اس طرح نہ سی اے اے کے خلاف مزاحمت ختم ہوگی اور نہ کسانوں کی تحریک رکے گی ۔ بہت ممکن ہے کہ یہ سیل رواں اس فسطائی حکومت کو لے ڈوبے؟ بقول شاعر ؎
غرق ہوتے جہاز دیکھے ہیں
سیل وقت رواں سمجھتا ہوں

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com