بے موسم طوفانی بارش و برف باری سے اتراکھنڈ میں زبردست تباہی، کئی افراد ملبہ میں دفن

202

 کیدارناتھ میں بارش کے ساتھ اوپری پہاڑیوں پر برف باری جاری ہے، جس کے سبب وہاں چار دھام یاترا کے لیے پہنچے تقریباً 6 ہزار عقیدت مند پھنس گئے تھے، ان میں سے 4 ہزار واپس آ گئے لیکن 2 ہزار وہیں ہیں۔

اتراکھنڈ میں دو دنوں سے جاری بے موسم کی بارش پہاڑی علاقوں میں قہر بن کر ٹوٹی ہے۔ بارش کے ساتھ زمین دھنسنے کے واقعات نے پہاڑی ریاست میں زبردست تباہی مچائی ہے۔ منگل کو کماؤں میں بارش اور ملبہ میں دبنے سے اب تک 19 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جب کہ پیر کو صوبے میں چھ لوگوں کی جان گئی تھی۔ ریاست کے ڈی جی پی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ کے سکریٹری ایس اے مروگیشن نے بتایا کہ دو دن میں ریاست میں اب تک 25 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔
ریاست کے پہاڑی علاقوں میں پیر کو بارش کے قہر سے لوگ ابھی سنبھلے بھی نہیں تھے کہ منگل کی صبح نینی تال ضلع کے رام گڑھ کے دھاری تحصیل میں بادل پھٹ گیا۔ اس حادثے میں وہاں رہ رہے مزدوروں کی جھونپڑی پر رٹیننگ دیوار گر گئی، جس میں سات لوگ ملبے میں دب گئے۔ اس کے بعد کھیرنا میں جھونپڑی پر پتھر گرنے سے دو لوگوں کی موت ہو گئی۔ چمپاوت میں ایک شخص کی زمین دھنسنے کی وجہ سے موت ہو گئی، جب کہ تین لوگوں کو محفوظ بچا لیا گیا۔ وہاں اب بھی کچھ لوگ ملبہ میں پھنسے ہیں۔
اسی طرح باج پور کے گاؤں جھاڑکھنڈی میں گڈری ندی میں بہے کسان رام دَت بھٹ کی لاش مل گئی ہے۔ وہیں ٹنک پور میں زبردست بارش سے آئے سیلاب میں پھنسے تقریباً 65 لوگوں کو نکالنے کے لیے فوج کی مدد لینی پڑی۔ اُدھر الموڑا کے بھکیاسین میں ایک مکان زمین دھنسنے کی وجہ سے منہدم ہو گیا۔ اس دوران دو بچوں کی ملبے میں دبنے سے موت ہو گئی۔ الموڑا کے ہی این ٹی ڈی حلقہ میں ایک مکان ملبہ کی زد میں آ گیا، جس میں ایک بچے کی موت ہو گئی۔ گرم پانی میں بھاری بارش کے سبب شاہراہ کی تعمیر کر رہی کمپنی کے دو مزدوروں کی ٹن شیڈ میں آئے ملبے میں دبنے سے موت ہو گئی۔
لگاتار موسلادھار بارش کے سبب ریاست کی کئی ندیوں کی آبی سطح بڑھ گئی ہے۔ کوسی ندی کا پانی بڑھ کر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔ کوسی بیراج کے سبھی پھاٹک کھول دیے گئے ہیں۔ ندی میں طغیانی سے کوسی ندی کا پانی رام نگر-رانی کھیت مارگ واقع لیمن ٹری ریزارٹ میں گھس گیا۔ اس دوران تقریباً 100 لوگ پھنس گئے۔ فی الحال سبھی محفوظ بتائے جا رہے ہیں۔ اُدھر ہلدوانی میں گولا ندی کی طغیانی سے ندی پر با اپروچ پل منہدم ہو گیا، جس سے آمد و رفت بند ہو گئی ہے۔ آبی سطح بڑھنے سے گولا بیراج کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ٹنک پور میں شاردا ندی کی طغیانی سے کرشر مارگ نے نالے کی شکل اختیار کر لی ہے۔
پہاڑوں میں بارش کے بعد ہریدوار میں گنگا کی بھی آبی سطح خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ رشی کیش میں بھی گنگا خطرے کے نشان سے محض 20 سنٹی میٹر نیچے ہے۔ تروینی گھاٹ پر آرتی استھل سمیت مختلف گھاٹ پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ اُدھر نینی تال میں زبردست بارش سے شہر میں کئی جگہ پانی بھر گیا ہے۔ وہیں، تلّی تال چوراہے میں تقریباً دو انچ کا شگاف آ گیا۔ کینٹ روڈ میں سیلاب کا پانی آنے سے کئی لوگ دکانوں کے اندر پھنس گئے۔ بعد میں لوگوں کو فوج کے جوانوں نے ریسکیو کر کے نکالا۔
کیدارناتھ میں بارش کے ساتھ ہی اوپری پہاڑیوں پر برف باری جاری ہے، جس کے سبب وہاں چار دھام یاترا کے لیے پہنچے تقریباً 6 ہزار عقیدت مند پھنس گئے تھے۔ ان میں سے چار ہزار عقیدت مند واپس آ گئے ہیں۔ لیکن بقیہ 2 ہزار عقیدت مند وہیں ہیں اور انھیں محفوظ مقامات پر لے جایا گیا ہے۔ وہیں، یمنوتری دھام سمیت جمنا گھاٹی کی پہاڑیاں کہرے سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ بارش کے بعد اتراکھنڈ آنے والی کئی ٹرینیں منسوخ کر دی گئیہیں۔ وہیں، کئی ٹرینوں کو شارٹ ٹرمنیٹ کیا گیا ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com