مولانا آزاد ہندو مسلم اتحاد کی علامت تھے: طارق انور

آل انڈیا قومی تنظیم کے کانفرنس میں لوگوں نے مولانا آزاد کی تعلیمی پالیسی اور بھائی چارے کے فروغ پر زور دیا

وارانسی: آل انڈیا قومی تنظیم کے قومی صدر، سابق مرکزی وزیر اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری طارق انور نے مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کی مناسبت سے وارانسی میں آل انڈیا قومی تنظم کی جانب  سے منعقدہ خیر سگالی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک بار پھر ضروری ہے کہ سماج کے تمام لوگ مل جل کر بیٹھیں اور عدم تشدد اور بھائی چارے کی پالیسی کو آگے بڑھائیں۔ گاندھی کے ملک میں جس طرح انگریزوں کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کا پرچار کیا جا رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے جس طرح ہندو مسلم اتحاد کا پیغام دیا تھا، اس پیغام کو تمام لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ طارق انور نے کہا کہ اقتدار میں رہنے والوں کو ہندو مسلم اتحاد کی فکر نہیں بلکہ ان کی سیاست اس بات پر ہے کہ آپس میں لوگوں کو لڑا کر حکومت کیسے کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی کا شکار ہیں۔ آج 50 فیصد سے زیادہ آبادی آہستہ آہستہ غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں، لیکن ضمنی انتخابات میں ووٹوں سے جب عوام نے چوٹ دیا تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نیچے آگئیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کے لیے ان قوتوں کے ساتھ کھڑے ہوں جو گزشتہ 65 سال سے ملک اور قوم کی حفاظت کر رہی ہیں،تب کبھی چین اور پاکستان نے بھارت کی طرف سرخ آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کی اور آج چین ہماری طرف سرخ آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اس موقع پر ادت راج نے آل انڈیا قومی تنظیم میں ایس سی ایس ٹی کمیونٹی کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ قومی تنظیم کے لیے ضروری ہے کہ دلت برادری کی ایک بڑی تعداد کو اس سے جوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیر سگالی کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر بیٹھیں اور طارق انور صاحب کی قیادت میں تنظیم جس طرح کام کر رہی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو عزت دی اور انہیں آگے لانے کا کام کیا۔ ادت راج نے کہا کہ آج دلت ریزرویشن پر تلوار لٹک رہی ہے، ریزرویشن کو پچھلے دروازے سے ختم کیا جا رہا ہے۔ چیزیں نجی ہاتھوں میں دی جارہی ہیں۔ اس سے سب سے زیادہ نقصان دلت سماج کو ہوگا۔ انہوں نے اپنے سماج کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور اس تنگ نظری کو سمجھیں۔ سابق ایم پی راجیش مشرا نے لوگوں سے کہا کہ ہم نے کاشی اور کعبہ کے درمیان فاصلہ کم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور رکن پارلیمنٹ بننے کے بعد ہم نے بنارس سے پرواز شروع کرائیں۔ لوگ یہاں سے حج پر جانے لگے۔ انہوں نے عوام سے بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر محمد طارق صدیقی صدراے آئی پی سی یوپی ایسٹ نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے آزادی کے بعد کے کردار کو دیکھنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ انہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے اداروں کو کس طرح بنایا۔تعلیم کے شعبے میں خواتین کو بااختیار بنانے سے لے کر ملک کی تعمیر میں غیر معمولی رول ادا کرتے ہوئے ایجوکیشن کے بجٹ کو دس فیصد تک لے جانے کی بات کہی،لیکن افسوس ہے کہ موجودہ سرکار اس میں روز بہ روز کٹوتی کررہی ہے۔

ایڈوکیٹ اشوک کمار اپادھیائے، پروفیسر اصغر علی انصاری، اشوک کمار، ڈاکٹر عبدالسلام انصاری، کنہیا لال پٹیل، پروفیسر طاہر کلام، گوپال اپادھیائے، اتر پردیش قومی تنظیم کے صدر محمد طالب علی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ پروگرام کا انعقاد وکیل احمدانصاری اورنظامت حاجی ڈاکٹر محفوظ عالم ایڈووکیٹ نے کی۔اس موقع پر پروگرام کی صدارت کر رہے حاجی عبدالعزیز انصاری نے عوام سے بھائی چارہ قائم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم بھائی چارے کے پیغام کو آگے نہیں بڑھائیں گے ترقی نہیں کر سکتے۔ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ بنکروں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرکے بجلی کے مسائل فوراً حل کرے۔حاجی توفیق قریشی، کمال اختر، آشیش گپتا، محمد جاوید احمد، ورون گوپال، مولانا احتشام، اشرف، وسیم انصاری، محفوظ عالم، انیس بنارسی، راجویر سنگھ راج، نور الشیخ، ذیشان انصاری، زین العابدین انصاری اور جمال احمد نے پروگرام کے انعقاد میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com