کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

308

وزیر اعظم مودی شرمسار ہوئے مگر گودی میڈیا کو شرم کب آئے گی؟

کلیم الحفیظ، نئی دہلی

جمہوری نظام میں طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔ یہ جملہ سنتے سنتے ہم نے جوانی کی دہلیز پار کرکے بڑھاپے میں قدم رکھ لیا تھا ، مگر کبھی اس کو عملی جامہ پہنتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ، اگر دیکھا تھا تو بس اتناکہ الیکشن کے موقع پر عوام اپنی طاقت سے سرکاریں بدلتے رہے، لیکن اپنے ہی ووٹوں سے چنی ہوئی سرکاروں کو اپنے مفاد کے خلاف کام کرتے بھی دیکھتے رہے۔ آزاد ہندوستان میں ایسا پہلی بار دیکھنے کو ملا کہ ایک مضبوط سرکار اور چھپن انچ کا سینہ رکھنے والے وزیر اعظم کو عوام کی طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ کسانوں کی اس تحریک نے ملک میں جمہوریت کی عزت میں اضافہ کیا، جمہوریت پر یقین کو بڑھایا، مظلوموں ، کمزوروں اور اقلیتوں کو حوصلہ دیااور اس جملے کو عملی شکل میں دیکھنے کا موقع دیا کہ جمہوری نظام میں طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔

۲۶؍نومبر ۲۰۲۰ سے شروع ہونے والی تحریک مختلف مراحل سے گزری،اس پر تینوں موسم آکر گزر گئے، تحریک میں شامل لوگوں نے سخت سردیاں بھی جھیلیں ،گرم ہواؤں کے تھپیڑے بھی ان کے عزم کو نہ پگھلا سکے، موسلا دھار بارشیں بھی ان کی آرزوؤں کو بہا کر نہ لے جاسکیں، ان پر طرح طرح کی مصیبتیں آئیں، ہزاروں لوگ بیمار ہوئے ، کم و بیش آٹھ سو افراد نے شہادت کا جام نوش کیا، پولس کے مظالم بھی برداشت کیے، ملک سے غداری کرنے کے الزامات بھی عائد ہوئے، سرکاری ہرکاروں نے انھیں ڈرانے ، دھمکانے کے ساتھ ساتھ خریدنے کی بھی کوششیں کیں، گودی میڈیا نے انھیں ملک دشمن ثابت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ چھوڑا مگر تمام ہتھکنڈے ان کو اپنے ارادے سے باز نہ رکھ سکے ، ملک کے لاکھوں کسان ایک سال سے اپنے گھر سے الگ رہنے پر مجبور ہوئے، درجنوں تیوہار سڑکوں پر منائے گئے ، کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ لیکن کسانوں نے اپنی نسل کے بہتر مستقبل اور ملک کو معاشی غلامی سے نجات دلانے کے لیے خود کو منظم و متحد رکھا۔ آخر کار مرکزی حکومت کو جھکنا پڑا اور مودی جی نے کسانوں سے معافی مانگتے ہوئے تینوں قوانین واپس لینے کا اعلان کیا۔

زرعی قوانین کی یہ واپسی مرکزی حکومت کی کھلی ہوئی ناکامی ہے۔ اگر سرکار کو اپنے قوانین کے مفید ہونے پر شرح صدر تھا تو اسے یہ قوانین واپس نہیں لینے چاہئے تھے ، بلکہ استعفیٰ دینا چاہئے تھا۔ اگر مودی سرکار استعفیٰ دیتی تو ہم یہ سمجھتے کہ سرکار ان قوانین کو لے کر سنجیدہ ہے اور ان قوانین کو ملک کے مفاد میں لائی ہے ، قوانین کی واپسی کے اعلان نے اس بھرم کو توڑ دیا اور یہ ثابت کردیا کہ آدرش کی بات کرنے والے بھی خود غرض اور مفاد پرست ہیں ۔ وہ بھی صرف اقتدار کے بھوکے ہیں۔ جب انھیں لگا کہ ان کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے، وہ بنگال میں بری طرح ہار چکے ہیں ، ضمنی انتخابات میں اپنی سیٹیں گنوا رہے ہیں ، اور آنے والے سال میں سات ریاستوں کے انتخابات ہارنے والے ہیں تو انھوں نے تمام آدرشوں کو لات مار کر قوانین کی واپسی کا اعلان کردیا۔ مگر میرا گمان ہے کہ سرکار جس طرح قوانین کو لانے میں خود غرض تھی اور ملک کی معیشت کو اپنے چند دوست سرمایہ داروں کے ہاتھ گروی رکھنا چاہتی تھی اسی طرح وہ قوانین کی واپسی میں بھی مخلص نہیں ہے، وہ الیکشن جیتنے کے بعد پھر کسی نہ کسی شکل میں ان قوانین کو لائے گی ، اس کے اشارے اس کے کچھ اعلیٰ و ذمہ دار افراد دے بھی چکے ہیں۔ اس لیے تحریک کے علمبرادروں کو محض اعلان سے خوش ہوکر جشن نہیں منانا ہے بلکہ ایسی سرکارکو ہمیشہ کے لیے ختم کردینا ہے جو عیاری و مکاری سے جمہوری نظام پر ڈاکہ ڈال رہی ہو۔

جب سے موجودہ مرکزی حکومت برسر اقتدار ہے ، میڈیا کا ایک بڑا گروہ اس کی قصیدہ خوانی میں پیش پیش رہتا ہے،اسے ہم گودی میڈیا کہتے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بڑا حصہ اپنے عیش و آرام کے لیے اور سرکار کی طرف سے پھینکے گئے روٹی کے سوکھے ٹکڑوں کے عوض چاپلوسی کے تمام حدیں پار چکا ہے۔ اس نے اپنی آنکھوں پر سرکاری چشمہ لگا رکھا ہے، اس نے تمام اخلاقی اور آئینی قدریں پامال کردی ہیں۔کتنی ہی بار اس گودی میڈیا کو عدالتیں پھٹکار لگا چکی ہیں، ابھی حال ہی میں ایک اینکر کو جو نفرت کا بڑا سودا گر تھا دبئی کے ایک پروگرام میں شرکت کرنے سے روک دیا گیا ہے ۔ یہ اس کے لیے بھی ذلت آمیز بات ہے اور ملک کی شبیہ بھی دنیا بھر میں داغدار ہوئی ہے۔ مسلمانوں سے نفرت میں اضافہ کرنے میں جہاں فرقہ پرستوں کی منصوبہ بند کوششیں ہیں وہیں گودی میڈیا نے اس میں گھی کا کام کیا ہے۔ کورونا معاملے میں تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کا سہرا راجدھانی کے وزیر اعلیٰ کے سر ہے مگر اس کو ہوا دینے میں گودی میڈیا کا اہم رول ہے۔جماعت کے امیر مولانا سعد کو ملک دشمن ثابت کرنے میں اس نے دن رات ایک کیا ہے۔ اس سے پہلے سی اے اے اور این آر سی تحریک کے خلاف پورے ملک میں فضا بنا کر دہلی دنگا کرانے میں گودی میڈیا کے رول سے کون انکار کرسکتا ہے۔ لیکن عدالتوں کی پھٹکار اور امن پرستوں کی لعن طعن نیز غیر ممالک میں داخل نہ ہونے دینے کی ذلت کے باوجود گودی میڈیا کو توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ زرعی قوانین کے فائدے گنانے والا گودی میڈیا کی بے شرمی کی انتہا ہے کہ اب قوانین کی واپسی پر قصیدہ خوانی کررہا ہے۔ نوٹ بندی سے لے کر آج تک میڈیا کے اس سیکشن نے کبھی اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ ملک کے موجودہ ابتر حالات کا سب سے بڑا ذمہ دار گودی میڈیا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ملک کی ایکتا ، اکھنڈتا اور اس کی گنگا جمنی تہذیب کو جس قدر نقصان گودی میڈیا نے پہنچایا ہے اتنا نقصان تو آر ایس ایس کی سو سال پر محیط سازشوں نے بھی نہیں پہنچایا۔ کاش کبھی ملک میں انصاف پسند حکومت آئے اور گودی میڈیا پر ملک سے غداری کے تحت مقدمات چلا کرمظلوموں کو تسکین پہنچائے۔

کسانوں کی کامیاب تحریک اگرچے شاہین باغوں سے حوصلہ پاکر ہی شروع ہوئی تھی، مگر اس سے مسلمانوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے ۔جس طرح زرعی قوانین کسانوں کی نسلوں کے لیے تباہ کن تھے اسی طرح سی اے اے اور این آر سی پر مبنی قانون مسلمانوں کی نسلوں کے لیے تباہ کن ہے ۔ دوسال قبل شاہین باغ جیسے دھرنوں نے ان قوانین کو ٹھنڈے بستے میں ضرور ڈلوادیا ہے مگر خطرہ پوری طرح باقی ہے ۔یہ خطرہ صرف بیان بازیوں سے دور نہیں ہوگا۔اس کا واحد حل کسان تحریک کی طرح ہی تحریک چلانا ہے۔ کسانوں کی تحریک کی ایک خوبی ان کا اتحاد تھا۔ ان کسانوں میں مختلف دھرم اور ذاتوں کے لوگ شامل تھے ، مگر پوری تحریک میں کسی وقت بھی دھرم اور ذات کو لے کر کبھی نا اتفاقی نہیں ہوئی۔ وہ مختلف سیاسی جماعتوں سے بھی وابستہ تھے ،لیکن ان کی سیاسی وابستگیاں ان کے مقصد کے لیے رکاوٹ نہیں بنیں۔ پوری تحریک ایک رنگ اور آہنگ میں جاری رہی جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ کیا مسلمان بھی اس اتحاد اور ایثار کا مظاہرہ کریں گے ؟ کیا وہ بھی اپنی نسلوں کے مستقبل کے لیے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ سکیں گے؟ کیا وہ عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی سیاسی وابستگیوں کی قربانی دیں گے؟ اگر وہ اس کے لیے تیار ہیں تو انھیں ملک کے کالے قوانین کے خلاف تحریک شروع کرنا چاہئے ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کی تحریک کو کچلنے میں فاششٹ طاقتیں ایڑی چوٹی کا زور لگادیں گی۔ ان کے سینوں پر گولیاں چلائی جائیں گی ، ان کی بستیوں کو آگ کے حوالے کردیا جائے گا،ان پر زمین تنگ کردی جائے گی ، ان کی حمایت میں جو آوازیں اٹھیں گی وہ بھی اتنی طاقت ور نہ ہوں گی جتنی کسان تحریک کے ساتھ تھیں ،اس کے باوجود اگرمسلمان منظم اور متحد ہوکر ڈٹے رہیں گے تو کامیابی ان کے بھی قدم چومے گی۔ اس لیے کہ کامیابی کا کوئی دھرم نہیں ہوتا وہ تو کوششوں کے ساتھ ہے۔

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com