اتر پردیش میں کتنی سیٹوں پر ہے مسلمانوں کا دبدبہ ، جانیے اس رپورٹ میں نئی دہلی: (فرحین سیفی) اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں زیادہ دن نہیں رہ گئے ہیں، اتر پردیش کے انتخابی دنگل میں تمام پارٹیاں پورے جوش و خروش کے ساتھ یوپی جیتنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ تمام پارٹیاں نئے نئے حربے آزما رہی ہیں، لوگوں سے مل رہے ہیں اور کچھ مل بیٹھ کر ساتھ کھانا پروس رہے ہیں۔ تمام پارٹیاں یوپی کی جیت کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ اتر پردیش میں ہمیشہ مسلم ووٹوں کا دبدبہ رہا ہے، کئی بار مسلم ووٹروں نے حکومت بنانے اور انہیں اقتدار سے باہر رکھنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ریاست کی 403 سیٹوں میں سے 143 سیٹوں پر مسلمانوں کا فیصلہ کن ووٹ ہے، جن میں 70 سیٹوں پر مسلمانوں کی آبادی 20 سے 30 فیصد کے درمیان ہے، جب کہ یہی 73 سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم ووٹر 30 فیصد سے زیادہ ہیں۔ شہروں میں مسلمانوں کی تعداد 32 فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں 16 فیصد ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ مرادآباد کی لوک سبھا سیٹ پر 47.12 فیصد مسلمان ہیں۔ رامپور – 50.57، بجنور – 43.04، امروہہ – 73.80، مظفر نگر – 41.30، بریلی – 34.54، میرٹھ – 34.43، سنبھل – 77، بلرام پور – 37.51، سہارنپور – 41.73، 41.35، شاہ پور، 41.73، 41.35، شاہ پور 31.39، 30.79، سدھارتھ نگر – 29.23، بڈاؤن – 23.26، بارہ بنکی – 22.61، غازی آباد – 22.53، لکھنؤ – 21.46، کھیری – 20.08، علی گڑھ – 19.85، موضع 21.26، شاہ پور 21.20، 21.20، شاہ پور -21، 20، 20، 2008۔ 15.58، لکھنؤ – 21.46، نہتور – 43.03، باغپت – 27.98، بارہ بنکی – 22.61 اور گونڈا – میں 19.76 فیصد مسلم آبادی ہے۔ اب ہر پارٹی مسلمانوں کو لبھانے میں لگی ہوئی ہے، لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ مسلمان کس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اور کس کو وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

نئی دہلی: (ملت ٹائمز – فرحین سیفی) اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں زیادہ دن نہیں رہ گئے ہیں، اتر پردیش کے انتخابی دنگل میں تمام پارٹیاں پورے جوش و خروش کے ساتھ یوپی جیتنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔
تمام پارٹیاں نئے نئے حربے آزما رہی ہیں، لوگوں سے مل رہے ہیں اور کچھ مل بیٹھ کر ساتھ کھانا پروس رہے ہیں۔ تمام پارٹیاں یوپی کی جیت کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ اتر پردیش میں ہمیشہ مسلم ووٹوں کا دبدبہ رہا ہے، کئی بار مسلم ووٹروں نے حکومت بنانے اور انہیں اقتدار سے باہر رکھنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔
ریاست کی 403 سیٹوں میں سے 143 سیٹوں پر مسلمانوں کا فیصلہ کن ووٹ ہے، جن میں 70 سیٹوں پر مسلمانوں کی آبادی 20 سے 30 فیصد کے درمیان ہے، جب کہ یہی 73 سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم ووٹر 30 فیصد سے زیادہ ہیں۔
شہروں میں مسلمانوں کی تعداد 32 فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں 16 فیصد ہے۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ مرادآباد کی لوک سبھا سیٹ پر 47.12 فیصد مسلمان ہیں۔
رامپور – 50.57، بجنور – 43.04، امروہہ – 73.80، مظفر نگر – 41.30، بریلی – 34.54، میرٹھ – 34.43، سنبھل – 77، بلرام پور – 37.51، سہارنپور – 41.73، 41.35، شاہ پور، 41.73، 41.35، شاہ پور 31.39، 30.79، سدھارتھ نگر – 29.23، بڈاؤن – 23.26، بارہ بنکی – 22.61، غازی آباد – 22.53، لکھنؤ – 21.46، کھیری – 20.08، علی گڑھ – 19.85، موضع 21.26، شاہ پور 21.20، 21.20، شاہ پور -21، 20، 20، 2008۔ 15.58، لکھنؤ – 21.46، نہتور – 43.03، باغپت – 27.98، بارہ بنکی – 22.61 اور گونڈا – میں 19.76 فیصد مسلم آبادی ہے۔
اب ہر پارٹی مسلمانوں کو لبھانے میں لگی ہوئی ہے، لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ مسلمان کس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اور کس کو وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com