اپنے خون جگر سے امارت شرعیہ کی جڑوں کو مضبوط کیجئے: مولانا احمد ولی فیصل رحمانی

نوادہ میں استقبالیہ اجلاس اور تعلیمی بیداری کانفرنس سے امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کا خطاب
امارت شرعیہ ہم سب کے ایمان و یقین کا حصہ ہے ، اور جس طرح ہمارے لیے اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرض ہے اور اس کے لیے اپنی جان و مال اور توانائی کو خرچ کرنا لازمی ہے ، اسی طرح امارت شرعیہ کو محفوظ و مستحکم رکھنا بھی ہمارا دینی ، ایمانی اور اخلاقی فریضہ ہے ۔ اس لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنی شناخت اور وقار کے ساتھ شریعت اسلامی کے نفاذ کو اس ملک میں برقرار  رکھیں  تو ہمیں اپنے خون جگر سے امارت شرعیہ کی جڑوں کو مضبوط کرنا ہو گا ۔  یہ باتیں امیر شریعت بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے نوادہ میں منعقد استقبالیہ اجلاس اور تعلیمی بیداری کانفرنس میں ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں ۔ آپ نے کہا کہ ایمان کی حفاظت کے بعد ہمارا سب سے مستحکم فریضہ تعلیم کا فروغ ہے ، اس لیے کہ تعلیم ہی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعہ کوئی قوم ترقی کے معراج پر پہونچتی ہے ۔ مسلمانوں کو تو تعلیم میں آگے بڑھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کو دیے گئے الٰہی احکامات میں سے سب سے اولین حکم پڑھنے اور علم کے حاصل کرنے کا ہی ہے ، کیوں کہ علم ہی کے ذریعہ انسان کو خالق کی معرفت حاصل ہو تی ہے۔
امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم جناب مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے تفصیل کے ساتھ امارت شرعیہ کے ذریعہ چلائے جا رہے تعلیمی پروگراموں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ امیر شریعت سابع حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سے مذہبی اور عصری تعلیم کے فروغ کے لیے جامع منصوبہ اور نقشۂ کار تیار کیا  تھا ، الحمد للہ موجود ہ امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی سرپرستی اور دور اندیش قیادت میں ان منصوبوں کی تکمیل اور امیر شریعت سابعؒ کے بنائے ہوئے خاکوں میں رنگ بھرنے کا کام زور و شور سے جاری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ عصری تعلیم کے فروغ کے میدان میں امارت شرعیہ نے نئی پہل کی ہے اور میٹرک کے بورڈ امتحان کی تیاری کے لیے کریش کورس کا نظم کیا ہے ، جس کے ان شاء اللہ مثبت نتائج بر آمد ہوں گے ۔
نائب قاضی شریعت جناب مولانا مفتی وصی احمد قاسمی صاحب نے اطاعت امیر کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایمان کے بعد سب اہم چیز اجتماعیت ہے اور اجتماعیت کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اللہ اور رسول کی اطاعت کے ساتھ امیر کی اطاعت کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنائے ۔ امیر کی اطاعت کے بنا اس اسلامی زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا جو شریعت میں مطلوب ہے ۔ جناب انجینئر  فہد رحمانی صاحب نے رحمانی تھرٹی کی کامیابیوں کا تذکرہ تفصیل سے کیا اور بتایا کہ کس طرح رحمانی تھرٹی خاموشی کے ساتھ قوم کے نونہالوں کے مستقبل کو سنوارنے میں لگا ہوا ہے ، انہوں نے کہا کہ رحمانی تھرٹی نے قوم کی ناامیدیوں  اور بے یقینی کو امید اور یقین میں بدلا ہے ۔ انہوں نے ہر ضلع میں رحمانی تھرٹی جیسے ادارے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔
خیال رہے کہ یہ استقبالیہ اجلاس اور تعلیمی بیداری کانفرنس کا انعقاد ضلع نوادہ کے علمائے کرام ، دانشوران ونوجوانان کی جانب سے امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے آٹھویں امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کے استقبال میں آج بتاریخ  1دسمبر 2021 بروز بدھ بوقت 10بجے دن بمقام میدان نزدمدرسہ عظمتیہ انصار نگر نوادہ بہار م کیا گیا تھا۔ اجلاس کی صدارت جانشیں امیر شریعت سابع حضرت مولانا سیدمحمد ولی رحمانی نوراللہ مرقدہ مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم امیرشریعت امارت شرعیہ بہاراڈیشہ وجھارکھنڈ ،سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر،سرپرست رحمانی30 وچیئرمین رحمانی فاؤنڈیشن  نے فرمائی، جبکہ مہمانان خصوصی کے طور پر حضرت مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب مدظلہ العالی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ بہاراڈیشہ وجھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ، جناب انجینئر حامدولی فہدرحمانی صاحب مدظلہ العالی ڈائرکٹررحمانی30پٹنہ بہار، جناب مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت امارت شرعیہ، جناب مولانا  افتخار احمد  قاسمی قاضی شریعت آڑھا ضلع جموئی اور جناب مولانا احتشام رحمانی صاحب خانقاہ رحمانی مونگیر بہار نے شرکت کی  اجلاس کی سر پرستی معروف عالم دین حضرت الحاج قاری شعیب احمد صاحب مدظلہ العالی رکن شوریٰ امارت شرعیہ پٹنہ وصدر تعلیمی مشاورتی کمیٹی امارت شرعیہ ضلع نوادہ نے فرمائی ۔اجلاس میں حضرت مولانا محمد شمشادرحمانی قاسمی مدظلہ العالی نائب امیر شریعت امارت شرعیہ بہاراڈیشہ وجھارکھنڈ واستاذحدیث دارالعلوم وقف دیوبند کو بھی شرکت کرنی تھی ، لیکن حضرت والا دیگر مصروفیت کی وجہ سے شریک اجلاس نہ ہو سکے ، لیکن انہوں نے اپنا تحریری پیغام بھیجا جس کو مولانا نصیر الدین مظاہری نے پڑھ کر سنایا ۔ استقبالیہ کمیٹی اجلاس ضلع نوادہ کے ذمہ داران و ارکان قاری شعیب احمدصاحب، قاری مقصود احمد، مولانا احمد نصیرالدین مظاہری ، سلمان راغب صاحب،  سیدمسیح الدین ،میجراقبال حیدر،قاری شوکت مظاہری، قاری شہادت حسین قاسمی، مولانا شفقت قاسمی، مولاناطیب قاسمی ، آصف علی خان، مولانا نظام الدین مظاہری، مولاناسلیم قاسمی، مولانا اسلام الحق، مولاناعمران صاحب، ذوالفقار حیدر صاحب، جہانگیرعالم، ڈاکٹر صبا احمد، عارف علی خان، مولاناحسنین مظاہری نے اجلاس کے انتظامات کو بہتر بنانے میں اہم رول ادا کیا۔
اجلاس کا آغاز  قاری شوکت مظاہری صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، نعت  شریف جناب مولانا منظرقاسمی صاحب  نے پیش کی ، اجلاس کی نظامت  کے فرائض مولانا شہادت قاسمی  نے انجام دئیے ۔ مولانا ضیاء الدین، پروفیسر عتیق صاحب ، مولانا نظام الدین مظاہری ، سیدمسیح الدین،  اور نوادہ کے  ڈی ایم یس پال مینا،مولانا طیب صاحب  اور مفتی مسرور صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ،خاص طور پر ڈی ایم نوادہ نے حضرت امیر شریعت کو گلدستہ پیش کر کے ان کا استقبال کیا اور اپنی تقریر میں امارت شرعیہ کے کاموں کی ستائش اور تحسین کی۔
اجلاس کو کامیاب کرنے میں صدر عالم، مولانا ابوالعاص، مولانا ابوالکلام، مولانا طلحہ،مولانا منت اللہ، محمدرضوان عالم ،قاری حسان، حافظ سرفراز ، حافظ فصیح ، ڈاکٹرصبا،مفتی معراج، عارف علی  خان، محمدشہنواز، حافظ فیض ، محمد جہانگیر، ذوالفقار حیدر، ماسٹرعلی حیدر ، محمد رابد، محمد دانش، محمد عمران ، محمدریاض ،حافظ منظورحافظ محمود، محمد گلاب محمد نوشاد خان ونوجوانان انصارنگر وغیرہم بھی پیش پیش رہے۔

ads
SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com