سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت آنے والی پانچوں مسجدیں رہیں گی محفوظ

مرکزی حکومت نے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ میں آنے والے مذہبی مقامات کو نقصان نہ پہونچنے کی کرائی یقین دہانی، اگلی سماعت 20جنوری کو،انشاء اللہ مساجد کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا: امانت اللہ خان
نئی دہلی: (ملت ٹائمز) آج دہلی ہائی کورٹ میں سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر ہونے والی سماعت کے دوران دہلی وقف بورڈ اور مذہبی مقامات کے تعلق سے دیگر فکرمند حضرات کو اس وقت بڑی راحت ملی جب مرکزی حکومت نے عدالت عالیہ کو یہ یقین دہانی کرائی کہ پروجیکٹ کے تحت آنے والے مذہبی مقامات کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہونچنے دیا جائے گا اور پانچوں مسجدیں محفوظ رہیں گی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کے وکیل سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ مذکورہ مساجد اور مذہبی مقامات کو کچھ نہیں ہونے جارہاہے۔تفصیل کے مطابق مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل نے جب عدالت عالیہ کے جج سنجیو سچدیوا کے سامنے یہ یقین دہانی کرائی کہ مذکورہ پروجیکٹ کے تحت آنے والی عبادت گاہوں کو کسی طرح کا خطرہ نہیں ہے تو جج موصوف نے کہاکہ ہمیں آپ کی بات پر یقین ہے۔اس معاملہ میں دہلی وقف بورڈ کی جانب سے سینئر وکیل سنجے گھوش اور بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل وجیہ شفیق پیش ہوئے۔سالیسٹر جنرل نے یقین دہانی کراتے ہوئے 3ہفتہ کا وقت عدالت عالیہ سے مانگا اور کہاکہ یہ ایک طویل المدتی منصوبہ ہے اور پروجیکٹ کے تحت آنے والے مذہبی مقامات کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔اس معاملہ میں اب اگلی سماعت 20جنوری کو ہوگی۔غور طلب ہیکہ حکومت ہند کے ڈریم پروجیکٹ سینٹرل وسٹا پر تیزی کے ساتھ کام ہورہاہے اور اس پروجیکٹ میں 6مذہبی مقامات آرہے ہیں جو دہلی وقف بورڈ کے تحت آتے ہیں۔یہ مذہبی مقامات 100سال سے زیادہ قدیم اور انتہائی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں جنمیں مسجد ضابطہ گنج،مسجد کرشی بھون،مسجد سنہری باغ روڈ،جامع مسجد ریڈ کراس روڈ،مزار سنہری باغ روڈ اور نائب صدر جمہوریہ کی رہائش گاہ کی مسجد شامل ہیں۔جن کے تعلق سے عوام میں خاص کر مسلمانوں میں تشویش پائی جارہی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے ابھی تک اس تعلق سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی تھی۔دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اس تعلق سے پہل کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی توجہ اس جانب دلانے کے لیئے ایک لیٹر وزیر اعظم حکومت ہند اور ایک لیٹر وزیر شہری ترقیات جناب ہردیپ سنگھ پوری کو ارسال کیا تھامگر جب ان مذہبی مقامات کے تعلق سے حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی تو امانت اللہ خان نے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ میں آنے والے 6مذہبی مقامات اور مساجد کی حفاظت کے تعلق سے دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا۔عدالت عالیہ میں گزشتہ سماعتوں کے دوران مرکزی حکومت نے جواب داخل کرنے کے لیئے وقت مانگا تھا جبکہ آج مرکزی حکومت کے وکیل سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے یقین دہانی کراتے ہوئے واضح طور پر کہاکہ آپ بھروسہ رکھیں ان مذہبی مقامات کو کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔عدالت عالیہ میں عرضداشت داخل کرنے والے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اس تعلق سے کہاکہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور عدالت عالیہ میں آج کی سماعت کے دوران مذکورہ مذہبی مقامات کے تعلق سے ایک راحت بھری خبر ہے انشاء اللہ اس تعلق سے مسلمانوں میں پائی جانے والی تشویش بھی کم ہوگی اور مذکورہ تاریخی اہمیت کے حامل ان قدیم مذہبی مقامات کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔

ads
SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com