اے ایم یو کشن گنج کیمپس کا فنڈ اب تک نہیں ہوا ریلیز، ملت ٹائمز کے ٹوئٹر اسپیس میں ایکٹویسٹ اور سیاسی رہنماؤں نے اٹھائی آواز

نئی دہلی: (سیف الرحمٰن – ملت ٹائمز) بجٹ سیشن کے قریب ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر علیگڑھ مسلم یونیرسٹی کے کشن گنج کیمپس کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے واضح ہو کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ میں مسلمانوں کی زبردست پسماندگی کا ذکر آنے کے بعد تعلیمی تقویت کو لیکر حساسیت مسلمانوں میں آئی اور اسی کے اثر سے یو پی اے حکومت سے مانگ شروع ہوئی کہ علیگڑھ مسلم یونیوسٹی کی شاخیں الگ الگ مقامات پر کھولی جائے لہٰذا 5 ریاستوں کیرالا،مدھیہ پردیش، مہارشٹر، بنگال اور بہار میں کیمپس شروع کرنے کی بات ہوئی لیکن تین ریاستوں کیرلا، بنگال، بہار میں ہی کیمپس شروع ہوسکا جس میں سے بنگال اور کیرالا کا کیمپس مکمل طور پر چل رہا لیکن بہار میں پہلے زمین کا معاملہ پیش آیا کہ ایک مقام پر مکمل زمین نہیں مل رہی تھی جسے لیکر بہار کے سیاسی و سماجی لیڈران نے بہت بڑا آندولن کھڑا کیا جس کے بعد زمین کشن گنج میں مہیّا ہوسکی لیکن پھر ایک شکایت شاید سیاسی بنیادوں پر این جی ٹی میں ہوئی اور این جی ٹی کے احکامات کی تعمیل میں کمی کی وجہ سے تعمیر پر روک لگ گئی ساتھ ہی یو پی اے کی مرکزی حکومت نے 136 کروڑ روپیے جو بجٹ کیمپس کیلئے مختص کیا تھا اس میں سے صرف 10 کروڑ کیمپس کو ملا اور اسکے بعد نہ ہی یو پی اے نے اور نہ ہی 2014 کے بعد سے این ڈی اے نے ہی اس بقایا پیسے کو جاری کیا۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کیمپس کا چل پانا تو دور عمارت کا کام بھی صحیح سے نہ ہو سکا۔ اس سلسلے میں لگاتار کوششیں لوگوں کی طرف سے ہوتی رہی کہ ان مسائل کا حل ہو لہٰذا این جی ٹی کو ضلع انتظامیہ کی طرف سے مثبت رپورٹ دی گئی مگر اس پر کئی رپورٹ کا جانا باقی ہے جس کا مثبت جانا ضروری ہے، ساتھ ہی بجٹ کا جاری ہونا بھی ضروری ہے اسی لیے بجٹ سیشن قریب ہونے کی وجہ سے یہ بحث گرم ہوگئی ہے اور زمین کی فراہمی کیلئے جس طرح آندولن کیاگیا تھا اسی طرح ہی بجٹ اور فنڈ کے معاملہ پر بھی تحریک شروع ہوگئی ہے۔ اسی سلسلے میں معروف نیوز پورٹل ملت ٹائمز کی طرف سے ملت ٹائمز کے بیورو چیف سیف الرحمٰن اور سبنواز احمد نے ایک ٹوئٹر اسپیس کا انعقاد کیا جس میں کشن گنج کیمپس آندولن سے جُڑے علیگڑھ مسلم یونیوسٹی طلباء یونین کے سابق صدر ڈاکٹر مشکور احمد عثمانی، کانگریس پارٹی کے قومی سیکرٹری توقیر عالم، ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی، کشن گنج سے سی پی آئی کے لوک سبھا اُمیدوار رہے فیروز اور انصاف انڈیا کے ذمّہ دار مستقیم صدیقی نے شرکت کی اور ان حضرات نے تفصیل سے بجٹ کے معاملہ اور این جی ٹی کے معاملے کو سمجھایا اور بتایا کہ گزشتہ دنوں ایک آن لائن میٹنگ بھی اس پر ہوئی جس میں علیگڑھ مسلم یونیوسٹی طلباء یونین کے سابق صدر مشکور عثمانی، انصاف انڈیا کے صدر مستقیم صدیقی، سی پی آئی لیڈر فیروز، سوشل ایکٹوسٹ معراج خان، جن ادھیکار شکتی پریشد بہار کے صدر تراب نیازی ، ملت ٹائمز کے بیورو چیف سیف الرحمٰن، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ صحافت کے متعلم سبنواز احمد وغیرہ نے شرکت کر آگے کے روڈ میپ پر گفتگو کیا۔ اسپیس کے اخیر میں سیف الرحمٰن نے اسپیس کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہاکہ اصل معاملہ 126 کروڑ کے بجٹ کو جاری کرانا ہے جس کیلئے کچھ افراد کو بہار سرکار و وزیر اعلیٰ نتیش کمار ، ممبران پارلیمنٹ اور دیگر متعلق سیاسی افراد سے ٹیبل ٹاک کا کام کرنا چاہئے ساتھ ہی دوسری طرف پورے بہار میں خاص کر سمانچل میں جمہوری مظاہرے مضبوطی سے کھڑے کیے جائیں- سیف الرحمٰن نے آگے این جی ٹی کے معاملہ کو سڑک پر آنے نہ دینے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے اور تھوڑی سی ایماندارانہ مثبت کوشش سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے اس لیے اس کے حل کے لئے خاموشی کے ساتھ وزیر اعلیٰ نتیش کمار، بہار انتظامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیوسٹی انتظامیہ سے بات چیت ہونی چاہییے ۔اس موقع پر سبنواز احمد نے کہا کہ ملت ٹائمز مسلسل اس معاملے کو اٹھاتا رہا ہے اور آگے بھی ایم اے یو سینٹر کے تعلق سے کوششیں جاری رہیں گی ۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *