گاندھی جی کی معنویت اور حکمراں ٹولے کا ڈھونگ

عابد انور

 ہندوستان بھی عجیب و غریب ملک ہے جب مطلب کا وقت ہوتا ہے تو پرستش کی جاتی ہے اور مطلب نہیں ہوتا ہے تواٹھاکر کوڑے دان میں پھینک دیا جاتاہے۔ آج جس طرح گاندھی جی کا نام لیا جارہا ہے اسی قدران کے نظریے سے انحراف کیا جارہا ہے۔ ان کے فلسفہ عدم تشدد کی جس طرح دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور ان کے یوم پیدائش کو اقوام متحدہ یوم عدم تشدد کے طور پر مناتی ہے مگر ان کے نام پر اپنی دوکانداری سجانے والے اور پوری دنیا میں اپنی داغدار اور قصائی والی شبیہ کودرست کرنے والے سوچھتا ابھیان کے طور پر مناتے ہیں۔ جب کہ اس وقت ملک کو عدم تشدد کی ضرورت ہے نہ کہ سوچھتا مہم کی، انسان کی مالی حالت اچھی ہوگی تو انسان سب سے زیادہ صفائی ستھرائی پر ہی توجہ دیتا ہے۔ پیٹ میں دانہ نہ ہوتو انسان ساری تہذیب بھول جاتا ہے۔ چہ جائیکہ وہ کسی مہم سے رشتہ جوڑے گا۔ وہ بھی اس ملک میں جہاں بدعنوانی گھٹی میں ہے اور حکومتی اسکیم پر بدعنوانی کا گھنا سایہ ہوتا ہے۔کوئی اسکیم کیسے کامیاب ہوسکتی ہے؟ صفائی ستھرائی اچھی چیز ہے لیکن اس سے اہم چیز عدم تشدد، سماجی مساوات، قومی و سماجی یکجہتی اور معاشرتی خیرسگالی اور خوشگوار تعلقات ہے جس کے علمبردار گاندھی جی تھے۔ لیکن قصائی صفت انسان نے بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ عدم تشدد کی مہم کو صفائی مہم میں تبدیل کردیا۔کیوں کہ کسی بھی قاتل کا عدم تشدد میں ایقان نہیں ہوتا۔گاندھی جی کا نظریہ صرف کتابوں میں رہ گیا ہے یا گاندھی جینتی کے موقع پر سیمناروں میں اس کے نظریہ عدم تشدد کو فروغ دینے کی بات کہی جاتی ہے لیکن ملک میں کہیں بھی عملی شکل میں نظرنہیں آتا۔یہاں ہر انسان موقع کی تلاش میں ہے جس کو فرقہ پرست بننے کا موقع نہیں ملا وہ سیکولر ہے۔ ورنہ ہر انسان یہاں کمزور طبقے،دلت اور مسلمان پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے اور تیار نہیں ہے تو خاموش حامی یا تماشائی ضرور ہے۔ایسے میں گاندھی جی کی معنویت بڑھ گئی ہے اور حقیقی معنوں میں اس کے نظریہ کو اپنا کر ملک کو بچایا جاسکتا ہے۔

 موہن داس کرم چند گاندھی 2 اکتوبر 1869 کو پوربندر میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد کا نام کرم چند گاندھی تھا۔ ان کے والد ”ہندو مودھ“ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے، ماں کا نام پتلی بائی تھا جو کرم چندگاندھی کی چوتھی بیوی تھی۔ اس سے پہلے تینوں بیویوں کا بچے کی ولادت کے دوران انتقال ہوگیا تھا۔ 1883میں جب گاندھی جی کی عمر محض13سال کی تھی کستوربا ماکھن جی سے ان کی شادی کردی گئی تھی۔ اس وقت کستوربا ماکھن جی کی عمر 14برس کی تھی- بعد میں محترمہ کستوربا گاندھی کا نام مختصر کرکے صرف کستوربا رکھا گیا تھا جو بعد میں لوگ انہیں پیار سے صرف ”با“ کہہ کرپکار تے تھے۔ ان سے گاندھی جی کی چار اولادیں ہوئیں۔ یہ چاروں لڑکے تھے۔ گاندھی جی اوسط طالب علم تھے۔ ان کی دلچسپی کسی اور چیز میں تھی لیکن ان کے خاندان والے انہیں بیرسٹر بنانا چاہتے تھے۔ گاندھی جی کو خاندان والوں کی خواہش پوری کرنے کے لئے1888میں یونیورسٹی کالج آف لندن گئے۔ جانے سے پہلے انہیں نان ویج سے پرہیز کرنے شراب کو ہاتھ نہ لگانے اور اپنی رسم و رواج پر سختی سے قائم کرنے کی قسمیں دلائی گئی تھیں جس پر گاندھی جی لندن میں تعلیم کے دوران کاربند رہے۔ البتہ وہ رقص کی کلاسوں میں شریک ہوتے تھے۔ لندن سے واپسی پر انہوں نے بمبئی میں وکالت شروع کی لیکن انہیں کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ اس کے بعد ایک ہائی اسکول میں مختصر مدت کے لئے نوکری کرنی چاہی لیکن یہاں بھی ناکامی آڑے آئی۔ گاندھی جی جہد مسلسل کے قائل تھے اور ناکامی سے قطعی مایوس نہیں ہوتے تھے انہوں نے راجکوٹ میں وکالت شروع کی۔ یہاں انہوں نے مقدمے کے لئے عرضی لکھنے کا کام شروع کیا لیکن ایک انگریز افسر کی وجہ سے یہ کام بھی انہیں چھوڑنا پڑا۔ ان ناکامیوں کی وجہ سے گاندھی پر کافی اثر پڑا تھا۔ اسی دوران جنوبی افریقہ میں ہندوستانی برادری کی فرم میں کام کرنے لئے ایک سال کے معاہدہ پر1893میں گاندھی جی نٹال (جنوبی افریقہ) چلے گئے تھے۔ گاندھی جی کو جنوبی افریقہ میں نسلی منافرت اور امتیاز کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب فرسٹ کلاس ڈبے کا ٹکٹ ہونے کے باوجود گوروں (انگریزوں) نے فرسٹ کلاس میں سفر کرنے نہیں دیا۔ گاندھی جی نے اس پر احتجاج بھی کیالیکن اس کے بدلے گاندھی جی کو اذیت دی گئی۔ پائدان پر بیٹھ کر سفر کرنا پڑا۔

قیام جنوبی افریقہ کے دوران گاندھی جی نے طبی خدمات انجام دینے کے لئے ہندوستانیوں کی خدمات پیش کیں جسے انگریزوں نے جزوی طور پر قبول کرلیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستانیوں کو جنوبی افریقہ میں شہری حقوق اور شہریت کا حق دلایا جائے۔1906 میں جولو جنگ میں ہندوستانیوں کو جزوی طور پر اپنی خدمات انجام دینے کا موقع مل گیا اور گاندھی جی نے اس کور کی قیادت بھی کی تھی- گاندھی جی ایمبولینس یونٹ سے منسلک تھے اس میں 1100ہندوستانی شامل تھے۔ بعد ازاں نمایاں خدمات کے عوض گولڈ میڈل سے نوازا گیا تھا یہ واقعہ ہندوستانیوں کے حق میں کافی مفید ثابت ہوا۔ درحقیقت گاندھی جی کی جنوبی افریقہ کی زندگی جو کافی نشیب و فراز سے پر تھی، اس سے ان کے نظریات و خیالات میں زبردست تبدیلی پیدا ہوئی اور وہ حق کی لڑائی لڑنے کا طریقہ سیکھ گئے۔ کیوں کہ جنوبی افریقہ میں بھی انگریزی سامراج کا اقتدار تھا اس لئے گاندھی جی کو انگریزوں کی چال اور ڈھال کو سمجھے میں کافی آسانی ہوئی۔ 1914-1893کے قیام جنوبی افریقہ کے دوران گاندھی جی نے انگریزوں سے نمٹنے کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔

 گاندھی جین نے شروع سے ہی اپنے گرد و پیش کو دیکھا تھا ظلم و جبر کی کہانیاں سنی اور دیکھی تھی اور ساتھ ہی وقتاً فوقتاً اپنے ساتھ ہوئے غیر انسانی سلوک کو محسوس کیا تھا۔ لندن سے بیرسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد گاندھی جٍی نے بمبئی میں وکالت شروع کی تھی۔ چند سالوں کے بعد ہندوستانی تاجر برادری کے مقدمات کی پیروی کرنے کی غرض سے جنوبی افریقہ چلے گئے جہاں انہوں نے ہندوستانی مزدروں پر انگریزوں کے ظلم و جبر کی داستانیں دیکھیں اور یہ بھی دیکھا کہ وہ مزدوروں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، کس طرح انہیں بندھوا مزدور بناکر رکھا گیا ہے۔ یہ سب دیکھ کر ان کادل دہل گیا اور انہوں نے ان جبر و استبداد کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کردیا۔ گاندھی جی کسی بھی طرح تشدد کے قائل نہیں تھے۔ انہوں نے ہندوستانی مزدوروں کے حقوق کی بازیابی کے لئے عدم تشدد اور اہنسا کا راستہ چنا۔ جنوبی افریقہ میں انہوں نے پہلی بار اہنسا کے فلسفہ کو ایک حربہ کے طور پر استعمال کیا جہاں یہ فلسفہ بہت کامیاب رہا۔ اس کی شہرت پورے دنیا میں پھیل گئی۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک بھی گاندھی جی کے اسی فلسفہ کے ارد گرد گھومتی ہے۔

 گاندھی جی 1914میں ہندوستان لوٹ آئے اور ہندوستان کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے۔ انہوں نے کانگریس کی باگ دوڑ سنبھالی۔ گاندھی جی نے ہندوستان کی آزادی میں اسی تجربہ کو دہرایا۔ 1915کے کانگریس کے اجلاس میں گاندھی جی کو اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ گاندھی جی سیاسی طور پرگوپال کرشن گوکھلے سے کافی متاثر تھے۔ گوکھلے کو گاندھی جی کے سیاسی گرو ہونے کا درجہ بھی حاصل ہے۔ جنوبی افریقہ سے وطن واپسی پر بہار کے چمپارن سے انہوں نے تحریک شروع کی۔ چمپارن اور کھیڑہ میں انہوں نے کسانوں کے حق میں جو تحریک چلائی تھی وہ کامیاب رہی تھی۔ وہ کسی طرح سے بھی آزادی کی تحریک کو تشدد کے راستے پر نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ سبھاش چند ر بوس اور گاندھی کے درمیان اختلاف کی وجہ گاندھی جی کا نظریہ عدم تشدد تھا۔ گاندھی جی ستیہ گرہ کی تحریک چلا رہے تھے ستیہ گرہ میں شامل کچھ لوگوں نے چوری چورا میں تشدد کا راستہ اختیار کیا اور تھانہ پر حملہ کرکے 22 سپاہیوں کو ہلاک کردیا۔ اس واقعہ سے گاندھی جی کے فلفسہ عدم تشدد کو زبردست ٹھیس پہنچا۔ انہیں اس واقعہ نے کافی صدمہ پہنچایا تھا اورانہوں نے اس واقعہ سے خود کو الگ کرلیا تھا۔

 گاندھی جی کی تحریکوں میں سب سے اہم تحریک ”عدم تعاون تحریک“ اور’ہندوستان چھوڑو تحریک‘ رہی ہے۔ 1921 کی عدم تعاون تحریک جو سب سے کامیاب تحریک تھی جس نے انگریزوں کو خاصا پریشان کیا تھا۔ گاندھی جی نے انگریز حکومت کے ساتھ عدم تعاون کی اپیل کی تھی۔ جس میں سرکاری نوکری چھوڑنے، حکومت کی جانب سے عطا کردہ اعزازات و خطابات واپس لوٹانا بھی شامل تھا، اس کا ملک گیر پیمانے پر اثر ہوا۔ بہت سے لوگ انگریزی حکومت کی نوکریاں ترک کرکے گاندھی جی کی تحریک میں شامل ہوگئے۔ انگریزی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جانے لگا۔ یہ تحریک بہت کامیاب رہی اور انگریزی حکومت کی چولیں ہلاسکتی تھی لیکن چورا چوری واقعہ کے بعد گاندھی جی نے اس تحریک کو,(فروری1922میں) واپس لے لیا۔ اس کے بعد گاندھی پر10مارچ 1922کو بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا اور چھ سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ فروری1924میں گاندھی جی کو آنتوں کے آپریشن کی وجہ سے جیل سے رہا کرنا پڑا۔ گاندھی جی نے ہندوستانیوں میں آزادی کی روح پھونکنے کے لئے 31دسمبر 1929 کو لاہور میں جھنڈا لہرایا تھا۔ اس کے بعد 26جنوری 1930 کو انڈین نیشنل کانگریس نے ہندوستان کی آزادی کے طور پر منایا تھا جو آگے چل کر 26جنوری کی تاریخ یوم جمہوریہ کی تاریخ بن گئی۔ گاندھی جی نے ملک میں نمک پر عائد پابندی کے خلاف نمک تحریک چھیڑ دی۔ گاندھی جی کی یہ تحریک چھ مارچ سے ۲۱ اپریل تک جاری رہی تھی۔ اس دوران انہوں نے 400 کلو میٹر کا فاصلہ پیدل چل کر طے کیا تھا۔ اس تحریک کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی تھی اور 80ہزار افراد کو اس دوران جیل میں ڈالا گیا تھا۔ گاندھی جی نے یہ مارچ احمدآباد سے ڈانڈی تک کیا تھا جو ڈانڈی مارچ کے نام بھی جانا جاتا ہے۔

 گاندھی جی کی سب سے اہم تحریک ’ہندوستان چھوڑو‘ تحریک جو ہندوستان کی آزادی کے لئے سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس تحریک میں لاکھوں ہندوستانی کود پڑے تھے۔ پورے ہندوستان میں اس تحریک کا شہرہ تھا۔ انگریزوں کو اس تحریک نے خاصا پریشان کیا تھا۔اس تحریک نے پورے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ جگہ جگہ انگریزوں کے خلاف مظاہرے ہونے لگے۔ پورا ہندوستان ’انگریزو ہندوستان چھوڑو‘ کے فلک شگاف نعروں سے گونچ اٹھاتھا۔ پورے ملک میں بڑے بڑے رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں۔ گاندھی جی، مولانا آزاد، پنڈت جواہر لال نہروسمیت تمام اہم لیڈروں کو سلاخوں کے پیچھے کردیا گیا۔ لیکن اس تحریک نے ہندوستان کی آزادی کی بنیاد رکھ دی تھی جو15اگست 1947پر منتج ہوئی۔ ہندوستان کی جنگ آزادی کے دوران گاندھی جی پر کئی مرتبہ جان لیوا حملہ بھی ہوا لیکن وہ ہمیشہ بچ گئے۔ غلام ہندوستان میں گاندھی جی کا بال بھی باکا نہیں ہوا لیکن آزاد ہندوستان میں ہندو انتہا پسند ناتھو رام گوڈسے کے جان لیوا حملہ میں جابنر نہ ہوسکے اور 30جنوری 1948 کو ہمیشہ کے لئے امن کے پیامبرکی زندگی کا چراغ گل ہوگیا۔ گاندھی جی کو مہاتما گاندھی بنانے میں جہاں ان کی امن ودستی اور اہنسا کا پجاری ہونا تھا وہیں علی برادران مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ابوالکلام آزاداور سب سے بڑھ کر رہنما سازقائداور عالم العلماء شیخ الہند مولانا محمودالحسن رحمہ اللہ کا تعاون نہ ہوتا تو گاندھی جی مہاتما گاندھی کبھی نہیں بن پاتے۔ ان حضرات نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور اپنی قیادت و سیاست ان کے حوالے کردی اور ہر موقع پر سے انہیں آگے بڑھایااور بھرپور تعاون دیا۔ ورنہ کانگریس میں ایک طبقہ ایسا تھا جو ہمیشہ گاندھی جی کے نظریات کی مخالفت کرتا تھا۔

 گاندھی جی کے فلسہ عدم تشدد کا ہی دین ہے کہ ہندوستان جہاں کثیر مذہبی آبادی ہے بغیر خون خرابہ کے آزاد ہوا۔ گاندھی جی عمر وفا کی ہوتی ہندوستان کی حالت وہ نہیں ہوتی جو آج ہے۔ وہ اس نظریہ کے تئیں بہت بڑی فوج رکھنے کے بھی خلاف تھے کیوں کہ ان کے پیچھے ان کی دلیل یہ تھی کہ ہندوستان کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے پڑوسی ممالک ہیں ایسی صورت میں اگر ہندوستان بڑی فوج رکھتا ہے تو ہمیشہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ کشمکش اور کشیدگی رہے گی جو ہندوستان کے تجارتی اور اقتصادی مفاد کے خلاف ہوگا اور ہندوستان کو سکون مسیر نہیں ہوگا۔ اگر اس وقت حالات کا جائزہ لیں آپ محسوس کریں گے کہ گاندھی جی کتنے دور رس انسان تھے ان کی فراست نے یہ دیکھ لیا تھا کہ اگر سکون سے رہنا ہے تو طاقت کے مظاہرہ سے باز آنا ہوگا۔گاندھی جی ہندوستان میں فسادات کے پھوٹ پڑنے سے بڑے نالاں رہتے تھے اس کے خلاف ’مرن ورت‘ رکھتے جب تک کہ فساد کا سلسلہ بند نہ ہوجاتا۔ 1948 میں جب دہلی میں خونریز فساد ہوا تھا وہ بے چین ہوگئے اور ’مرن ورت‘ پر بیٹھ گئے گاندھی جی کے ’مرن ورت‘ کا نتیجہ یہ ہوا کہ یکایک فسادات کا سلسلہ بند ہوگیا اور پانچ روز کے بعد جب دہلی میں امن بحال ہوگیا تو انہوں نے’مرن ورت‘ توڑ دیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ گاندھی جی جس فلسفہ کو زندگی بھر اپنے سینے سے لگائے رہے اور عمل پیرا رہے آخر کار تشدد کے فسلفہ نے گاندھی جی کی جان لے لی۔

 آج ہندوستان کے جو حالات ہیں اس وقت گاندھی کے فسلفہ کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے اگر ہندوستان کو سچے معنوں میں گاندھی جی کے اصولوں پر عمل کیاگیا تو بہت سارے مسائل خو بخود حل ہوجائیں گے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اہنساا ور عدم تشدد کا پاٹھ ہر انسان کوپڑھایا جائے۔گاندھی کے فلسفہ عدم تشدد ا ور اہنسا کے قائل صرف ہندوستان میں ہی نہیں بیں بلکہ اس کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور لوگ اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے گاندھی گیری کا سہارا لیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم گاندھی کے فلسفہ امن پر تہہ دل سے عمل کریں یہ گاندھی جی کے لئے سب سے بہترین خراج عقیدت ہوگا۔آج پورا ملک ملک گاندھی جی کے یوم شہادت منا رہا ہے اور اس موقع پر پر ملک بھر میں میں گاندھی جی پر کئی پروگرام کیے جا رہے ہیں سب سے افسوس کی بات یہ ہے کہ وہی لوگ آج گاندھی کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں جن کے گرو ناتھو رام گوڈسے ہیں جن کے آباؤ اجداد گاندھی جی کو قتل کرنے میں پیش پیش تھے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم گاندھی جی کو صحیح معنوں میں خراج عقیدت پیش کریں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم گاندھی کے نظریات، ان کے خیالات اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں اور سب سے زیادہ ضروری ہے کہ اس پر شدت کے ساتھ عمل کیا جائے۔ورنہ گوڈسے کی اولاد اور ہم میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com