فقہ اکیڈمی آفس میں ’’خواتین کے حقوق: اسلامی شریعت اور مغربی تصورات کے حوالے سے‘‘ کے موضوع پر محاضرہ
نئی دہلی: شریعت اسلامی نے خواتین کو تعلیمی، سماجی، معاشی جتنے حقوق دیئے اتنے حقوق کسی مذہب نے ان کو نہیں دیئے، نہ اسلام کے آنے سے پہلے اور نہ اسلام کے آنے کے بعد، شریعت اسلامی نے عورتوں کو جو حقوق دیئے ہیں اور عورتوں کے ساتھ عدل و مساوات کا جو پیمانہ قائم کیا ہے انھیںاگر صحیح سے رو بہ عمل لایا جائے تو عورتیں تعلیمی یا سماجی یا معاشی اعتبار سے کسی کی محتاج نہ ہوں گی، ان خیالات کا اظہار لکھنؤ سے تشریف لائے دار العلوم ندوۃ العلماء کے استاذ حدیث و فقہ حضرت مولانا و مفتی عتیق احمد بستوی قاسمی صاحب نے اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی جانب سے آج ’’خواتین کے حقوق: اسلامی شریعت اور مغربی تصورات کے حوالے سے‘‘ کے موضوع پرمنعقد پروگرام میں کیا۔
مولانا عتیق احمد بستوی صاحب نے محاضرہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام سے پہلے کسی مذہب میں بھی عورتوں کی کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی، اور نہ انھیں دولت کی تقسیم میں حصہ دار سمجھا جاتا تھا، انھیں صرف استعمال کی ایک چیز سمجھا جاتا تھا، اسلام نے انھیں سماجی حیثیت دی اور انھیں مردوں کی طرح انھیں عزت و وقار عطا کیا، حتی کہ دولت و وراثت میں انھیں حصہ دار قرار دیا، انھیں تعلیم حاصل کرنے، دوسروں کو تعلیم دینے، اور دولت جمع کرنے، تجارت کرنے کے مواقع فراہم کئے، اسی طرح اخراجات کی ذمہ داری ان پر نہیں ڈالی؛ بلکہ ان کے نفقہ کی ذمہ داری بھی باپ اور شوہر پر ڈالی، اور انھیں یہ آزادی دی کہ جو بھی حلال طریقہ ہو اس کے ذریعہ اپنے لئے مال جمع کریں اور وہی اس مال کی مالک بھی ہوںگی اور جب تک وہ زندہ رہیں وہ اپنے مال کی تنہا مالک بھی ہوں گی۔
مولانا نے کہا کہ آج کی دنیا اسلام کے دیئے ہوئے طلاق کے قانون کو مطعون کرتی ہے اور عورت مخالف سمجھتی ہے، جبکہ حقیقت یہ کہ اسلام نے قانون طلاق کے ذریعہ عورتوں کو آزادی دی ہے کہ اس کے ذریعہ شوہر سے نباہ نہ ہونے کی صورت میں جب چاہیں الگ ہوجائیں، اسلام کے دیئے ہوئے اس سہولت کی وجہ سے دنیا کے دوسرے مذاہب بھی اس قانون کو اپنانے پر مجبور ہیں۔ مولانا نیخطاب کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ دنیا کی اتنی ترقی کے باوجود اب بھی بعض مذاہب میں عورتوں اور بچوں کو مال میں کوئی حصہ نہیں دیا جاتا ہے، اور آج کی مغربی دنیا نے عورتوں کو عزت و وقار دینے کے بجائے انھیں تجارت کا ایک ذریعہ سمجھ لیا ہے، اور عورتوںکو ’’مساوات‘‘ کا سنہرا خواب دکھا کر انھیں سراب کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے انھیں نہ ختم ہونے والی پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا ہے، یہی وجہ کہ طلاق کے واقعات اسلام کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب میں زیادہ ہیں۔
اس پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر مولانا عبد القادر خاں قاسمی نے اس موضوع کو عصر حاضر کا زندہ موضوع قرار دیا اور اس پروگرام کے انعقاد پر اسلامک فقہ اکیڈمی کو مبارکباد دیتے ہوئے مولانا کے محاضرہ کو از حد مفید اور معلوماتی قرار دیا اور محاضرہ میں جن نکات پر روشنی ڈالی گئی ان سے اتفاق کرتے ہوئے ان کو رو بہ عمل لانے کی ترغیب دی۔ اس پروگرام کی نظامت کے فرائض مفتی احمد نادر قاسمی نے انجام دیئے، اور شرکاء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

Leave a Reply