’’ یونیفارم سول کوڈ دستوری حقوق کے خلاف، دوسرے قبائل وطبقات کوساتھ لے کرمخالفت کریں گے ‘‘: بورڈ
لکھنؤ: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں مسلمانوں کے اہم مسائل پرآج آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ سر جوڑ کر بیٹھا جس کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔مجلس عاملہ کی صدارت صدربورڈمولانارابع حسنی ندوی نے کی۔بورڈکی مجلس عاملہ کی اس اہم میٹنگ میں حجاب تنازعہ پرسپریم کورٹ میں مضبوطی کے ساتھ کیس لڑنے، یونیفارم سول کوڈکی دوسرے طبقات اور مذاہب کے ساتھ مل کرمخالفت کرنے پراہم تبادلہ خیال ہوا۔نیزعدالت کے ذریعہ مذہبی معاملات کی تشریح پر اظہارِ تشویش کیا گیا۔ بورڈنے یہ بھی طے کیاکہ حکومت سے مطالبہ کیاجائے گاکہ جب تک عدالت حجاب پرفیصلہ نہ کردے،طالبات کوکلاس کرنے،امتحان دینے کی اجازت دی جائے نیزبورڈپوری مضبوطی کے ساتھ سپریم کورٹ میں یہ کیس لڑے گا۔حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے مسئلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ دستور کی دفعہ 14،15،19،21اور26کو نظرانداز کررہا ہے۔دستور میں ہر شہر ی کو شخصی آزادی حاصل ہے کہ وہ کیا پہنے اور کیا نہ پہنے۔بورڈ نے مطالبہ کیا کہ جب تک اس ضمن میں سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ نہیں آجاتا ہے طالبات کو ان کے پسند کے لباس خصوصا حجاب کے ساتھ اسکولوں میں پڑھنے اور امتحان میں شمولیت کی اجازت دی جانی چاہئے۔بورڈ کی میٹنگ کے دوران اتراکھنڈ کابینہ کے ذریعہ یکساں سول کوڈ کے مسودہ تیار کرنے کے لئے تشکیل دی گئی ٹیم کے معاملے پر بھی غوروخوض کیا گیا۔بورڈ نے متقفہ طور سےا تراکھنڈ حکومت کے اس پیش رفت کو غیر ضروری عمل گردانا اور اسے دستور ہند سے متصادم قرار دیا۔بورڈ کا کہنا تھا یہ ملک کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کا نہیں ہے۔ہندوستان مختلف مذاہب اور مختلف تہذیبوں کا گہوارہ ہے اور اس کی اصل طاقت کثرت میں وحدت ہے۔یہاں پر ایک قانون کو سب پر مسلط کرنے کی کوشش اس کی کثرت میں وحدت کی خصوصیت کو سبوتاژکرنا ہے اور اس سے تمام مذہبی اقلیتیں متاثر ہونگی۔بورڈ کا احساس ہے کہ یکساں سول کوڈ کے ذریعہ ہندوستان کے آئیں میں حاصل مذہبی آزادی کو ختم کئے جانے کی جانب پہلا قدم ہوگا بورڈ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ ہندوستان کی تمام مذہبی اقلیتوں کو محیط ہے۔اور انہیں بھی اس کی شدت سے مخالفت کرنی چاہئے کہ حکومت کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جسے جبرا مذاہب کے ماننے والوں پر مسلط کیا جائے۔مدھیہ پردیش کے سرکاری اسکولوں میں گیتا پڑھائے جانے کے مسئلے پر بھی میٹنگ میں غوروخوض کیا گیا۔اس ضمن میں بورڈ اس نتیجے پر پہنچا کہ سرکاری اسکول ملک کی دستور کے تحت چلتے ہیں اور دستور کہتا ہے کہ ایک سیکولر ملک میں اسکولوں کے اندر کسی خاص مذہب کی کتابوں کو پڑھانے کی لازمیت آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ بورڈ کا احساس تھا مذہبی اقلیتوں پر کسی خاص مذہب کی کتاب کو پڑھانی کی لازمیت نہیں ہونی چاہئے۔ایسی کوششیں ملک کی سیکولر ڈھانچے کو زک پہنچانے کے مترادف ہیں۔بورڈ رکن عاملہ قاسم الیاس رسول نے تفصیل بتاتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی آئین نے جو حق تمام قبائل و ذات اور مذاہب کے ماننے والے کو دیا ہے کامن سول کوڈ اس کی مخالفت کرتا ہے ہر شہری اپنے طور طریقے سے زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہے۔ ایسے میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ کرنا آئینی نقطۂ نظر سے غلط ہوگا۔سید قاسم رسول الیاس نے مزیدبتایا کہ میٹنگ میں متعدد اہم مسائل پر بات چیت ہوئی اور عملی جامہ پہنانے پر بھی اتفاق ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حجاب معاملے پر بھی میٹنگ میں گفتگو ہوئی۔ اس میں خاص طور سے کرناٹک میں حجاب پہن کر مسلم لڑکیاں اسکول، تعلیمی اداروں میں جا سکیں اس کے لیے کرناٹک حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ انہیں تب تک حجاب پہننے کی اجازت دی جائے جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آتا ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن سید قاسم رسول الیاس نے کہاہے کہ بورڈ نے طے کیا ہے کہ حجاب معاملے کو عدالت عْظمیٰ میں مضبوطی کے ساتھ لڑا جائے گا اور امید ہے کہ مثبت نتائج آئیں گے۔ انہوں نے کہاہے کہ جب تک سپریم کورٹ کا حجاب پر کوئی بھی فیصلہ نہیں آتا تب تک حکومت اس بات کی اجازت دے کہ مسلم لڑکیاں حجاب پہن کر کے تعلیمی ادارے میں داخل ہوں۔انھوں نے مزیدکہاہے کہ دوسری اہم بات پر بھی غور و فکر کیا گیا کہ موجودہ دور میں عدالتیں مذہبی کتابوں کی تشریح اپنے طریقے سے کر رہی ہیں جو کہ بہت تشویشناک ہے۔ اس مسئلہ پر بھی بورڈ کے تمام اراکین نے گفتگو کی اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ میں بی جے پی دوبارہ اقتدار میں واپسی کر چکی ہے اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا ہے اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کیا گیا ہے۔ پرسنل لاء بورڈ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔ اس کے لیے ملک کے متعدد صوبوں میں قبائلی تنظیموں اور ہندو مذہب میں خصوصی درجہ یافتہ ذات و قبائل سے رابطہ کرکے اس کی بھرپور مخالفت کی تیاریوں میں ہے۔قاسم رسول الیاس نے کہاہے کہ بورڈ نے طے کیا ہے کہ حجاب معاملے کو عدالت عْظمیٰ میں مضبوطی کے ساتھ لڑا جائے گا اور امید ہے کہ مثبت نتائج آئیں گے۔واضح رہے کہ عاملہ کی میٹنگ میں مولانا سید ارشد مدنی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، علی نقوی، مولانا عمرین محفوظ رحمانی، کمال فاروقی، مولانا سفیان قاسمی، مولانا انیس الرحمان ، مولانا مصطفی رفاہی، سید سعادت اللہ، مولانا عبدالرحیم مجددی، خالد رشید فرنگی محلی، ڈاکٹر اسماء زہرا، نکہت پروین وغیرہ کے علاوہ دیگر بورڈ کے اراکین عاملہ موجود رہے۔

Leave a Reply