معاشرہ میں حیاء و پاکیزگی قائم رکھے کے لئے میثاق مدینہ جیسے میثاق کی آج بھی ضرورت ہے: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی عفت و عصمت عالمی مذاہب کا مشترکہ اثاثہ: پروفیسر سعود عالم قاسمی

نئی دہلی: اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور فیکلٹی آف تھیالوجی اے ایم یو علی گڑھ کے اشتراک سے دو روزہ قومی سمینار اکیڈمی کے کانفرنس ہال، نئی دہلی میں ”عالمی مذاہب اور نظام عفت و عصمت – ایک جائزہ“ کے موضوع پر منعقد ہوا، جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد، دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال یونیورسٹی کے پروفیسران اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔ سمینار کی افتتاحی نشست مورخہ ۲۶/ مارچ شام سات بجے پروفیسر اختر الواسع کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سعود عالم قاسمی نے کہا کہ: خواتین کی عفت و عصمت کا تصور نہ صرف یہ کہ اسلام میں ہے، بلکہ انبیاء سابقین کی تعلیمات میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ چنانچہ اس تعلق سے محمدؐ کی بعثت سے قبل خواتین کی عصمت کے لئے حضرت مریم اور مردوں کی پاکدامنی اور عصمت کے لئے حضرت یوسف کو رول ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، اس اعتبار سے یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے، بلکہ عالمی مذاہب میں مشترکہ اثاثہ کے طور پر موجود ہے، نیز انھوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس پہلو کو انسانی سماج میں عام کرنے کی کوشش کریں۔ ممتاز فقیہ اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے کہا کہ عفت و عصمت کے اس عنوان کو مذاہب اور سماج میں ”کلمہ سوا“ کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش ہماری ذمہ داری ہے، نیز انہوں نے کہا کہ معاشرہ میں حیاء و پاکیزگی قائم رکھے کے لئے میثاق مدینہ جیسے میثاق کی آج بھی ضرورت ہے۔ جناب سید طیب رضا نقوی (اے ایم یو) نے کہا کہ عفت و عصمت اور تزکیہ و پاکیزگی کو سماج اور معاشرہ میں پھیلانا تمام انبیاء کا مشن تھا، انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں شکل حجاب اصل نہیں ہے بلکہ مقصد حجاب اصل ہے۔ پروفیسر اختر الواسع صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، آج بھی ہندوستانی عدالتوں میں انصاف باقی ہے، ضرورت ہے کہ ہم معقولیت اور دلائل کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کریں، اس لئے کہ عدالتیں اسی تناظر میں فیصلہ کرتی ہیں۔ انھوں نے رامائن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندو مذہب میں بھی پردے کا اس قدر رواج اور لزوم تھا کہ ساتھ میں رہتے ہوئے لچھمن جی نے اپنی بھابھی سیتا کا چہرہ تک بھی نہیں دیکھا تھا، اور نہ وہ ان کو پہچانتے تھے۔

اس دو روزہ سمینار کی اختتامی نشست ۲۷/ مارچ ۲۲۰۲ء تین بجے منعقد ہوئی جس میں پروفیسر محمد اسحاق فلاحی نے اپنا تاثر پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرآن نے اخلاقی تعلیمات میں پوری انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے لباس تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، ہمیں قرآن کے مطالعہ کی ضرورت ہے۔ پروفیسر عبید اللہ فہد فلاحی نے تمام مقالہ نگاران کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ اسکالرس نے بہت اچھے موضوعات کا انتخاب کیا اور بہت محنت سے مقالہ تیار کیا، اچھے مقالات کی پہچان یہ ہے کہ اس پر خوب بحث و مباحثہ ہو۔ پروفیسر اقتدار محمد خان صاحب نے اس اہم علمی پروگرام کے انعقاد پر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگراموں میں دوسرے مذاہب کے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا جانا چاہئے۔ معروف صحافی اسد مرزا صاحب نے موجود دور میں الکٹرانک میڈیا کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے مشترکہ اقدار پر مبنی پروگراموں میں دوسرے مذاہب کے اسکالرس کو بھی مدعو کرنے کا مشورہ دیا۔ مجلس کے اختتام پر پروفیسر سعود عالم قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ حیاء تمام انبیاء کرام کی چار مشترکہ سنتوں میں سے ایک رہی ہے۔ اس اعتبار سے یہ ایک عالمی اور عالمی مذاہب کا مشترکہ اثاثہ قرار پاتا ہے۔

سمینار کی افتتاحی اور اختتامی کے علاوہ کل چھ نشستیں منعقد ہوئیں، تین آف لائن اور تین آن لائن، جن میں مجموعی طور پر ۵۵/ اہم اور قیمتی مقالات پیش کئے گئے۔ افتتاحی پروگرام کا آغاز مولانا ارمان قاسمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، ڈاکٹر صفدر زبیر ندوی نے مہمانوں کا استقبال کیا، مفتی احمد نادر القاسمی نے پروگرام کی نظامت کی، مفتی امتیاز احمد قاسمی نے اسلامک فقہ اکیڈمی کی طرف سے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ ڈاکٹر ندیم اشرف قاسمی اور ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی نے ڈپارٹمنٹ آف تھیالوجی اے ایم یو کی طرف سے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *