نئی دہلی: (رخسار احمد) ملت ٹائمز کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آل انڈیا علماءبورڈ نے اردو صحافت کے دوسو سالہ جشن کے موقع پر شمس تبریزقاسمی کو امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے ۔ پریس کلب آف انڈیا میں ایک تقریب منعقد کرکے آل انڈیا علماء بورڈ نے ملت ٹائمز کے بانی اور چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی کا اعزاز کیا اور انہیں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ سے سرفراز کیا ۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری علامہ بنی حسنی نے کہاکہ ملت ٹائمز نے میڈیا کے میدان میں جو کمی تھی اسے دور کیا ہے ۔ اب تک مسلمانوں کو شکوہ تھا کہ ہمارے پاس کوئی میڈیا ہاؤس نہیں ہے ، ہمارے پاس کوئی ایسا صحافتی ادارہ نہیں ہے جو مسلمانوں اور مظلوموں کے مسائل کو اٹھائے ، گراؤنڈ زیرو پر جاکر رپورٹنگ کرے جس کی خبروں کا اثر حکومت ، سماج ، انتظامیہ اور عوام پر ہو لیکن اب ملت ٹائمز کے قیام کے بعد یہ کمی دور ہوگئی ہے ۔ علامہ حسنی نے مزید کہاکہ ملت ٹائمز کی خدمات کا اعتراف صرف ہم نہیں کررہے ہیں بلکہ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز بھی ملت ٹائمز کی خدمات کا اعتراف کررہے ہیں اور یہ مان رہے ہیں کہ ملت ٹائمز مسلمانوں کی مضبوط آواز ہے اور ملت ٹائمز واحد ادارہ ہے جو مسلمانوں کے ہر چھوٹے بڑے معاملہ پر بیباکانہ رپوٹ دکھاتاہے اور سچائی کوسامنے لاتا ہے ۔ حال ہی میں معروف انگریزی میگزین آﺅٹ لک نے ملت ٹائمز کی صحافتی خدمات کو سراہاہے اور کہاکہ یہ میڈیا غیر جانبدارانہ اور بے باکانہ انداز میں مسلمانوں کی آواز اٹھاتاہے ۔ پریس کلب آف نے بھی ٹائمز آف انڈیا کی ایک خاتون جرنلسٹ کے ساتھ ان کی صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایوارڈ دیا تھا ، اس کے علاوہ بھی کئی بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز نے ملت ٹائمز کی خدمات اور رپورٹنگ کا اعتراف کیا ہے اس لئے آل انڈیا علماء بورڈ کی ایوارڈ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ملت ٹائمز کے بانی اور چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی کو صحافت کے میدان میں ہمہ جہت خدمات کی بنیاد پر ایوارڈ سے نواز ا جائے ۔
मशहूर संस्था All India Ulama Board का दिल्ली के प्रेस क्लब में कल 27 मार्च को 11:00 बजे एक प्रोग्राम हो रहा है जिसमें संस्था की अवार्ड कमेटी ने मुझे बेहतरीन पत्रकारिता की बुनियाद पर मौलाना अबुल कलाम आजाद अवार्ड से सम्मानित करने का फैसला किया है। AIUB का तहे दिल से शुक्रिया pic.twitter.com/qVV9GVCoDP
— Shams Tabrez Qasmi (@ShamsTabrezQ) March 26, 2022
26 مارچ کو شمس تبریز قاسمی نے ٹوئٹر پر وہ خط شیئر کیا تھا جس میں انہیں ایوارڈ دینے کی اطلاع دی گئی تھی ، ایوارڈ ملنے کے بعد انہوں نے تصویر بھی شیر کی ۔ سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں ان کے چاہنے والے مبارکباد پیش کررہے ہیں ۔ایک ٹویٹر ایکٹویسٹ تنویر احمد مبارکباد دیتے ہوئے ٹویٹ کیا ۔
لہروں کو ساحل کی درکا نہیں ہوتی
حوصلے بلند ہوں تو کوئی دیوار نہیں ہوتی
جلتے ہوئے چراغ نے آندھیوں سے یہ کہا
اجالا دینے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی
https://twitter.com/Iam_tanveer___/status/1508445669295464450?t=-k2tex-nBnzBU44EZeUALw&s=19
واضح رہے کہ آل انڈیا علماء بورڈ کے ایک اجلاس میں 27 مارچ کو تقریبا ایک بجے پریس کلب آف انڈیا میں شمس تبریز قاسمی کا پہلے گلدستہ پیش کرکے اور شال اوڑھاکر کے استقبال کیا گیا اس کے بعد تنظیم کے صدر شاہی امام مولانا نیاز احمد قاسمی ، دہلی اقلیتی کمیشن کے چیرمین ذاکر خان منصوری سمیت متعدد لوگوں کے ہاتھوں مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ اس موقع پر شمس تبریز قاسمی نے اظہار خیال کرتے ہوئے آل انڈیا علماء بورڈ کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ مجھے بہت سارے ایوارڈ ملے ہیں لیکن یہ ان سب میں نمایاں اور ممتاز ہے کیوں کہ علماءکی تنظیم کی جانب سے مل رہا ہے اور میں بھی ایک عالم دین اور مولوی ہوں اس لئے یہ میرے لئے سب سے بڑے فخر کی بات ہے ۔
اردو میڈیا کے 200 سالہ جشن کے موقع پر معروف تنظیم آل انڈیا علماء بورڈ نے ملت ٹائمز @MillatUrdu کی صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے 27 مارچ 2022 کو مجھے مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے۔ تنظیم اور اس کے سبھی ذمہ داروں کا تہہ دل سے شکریہ pic.twitter.com/jePZMYg0tG
— Shams Tabrez Qasmi (@ShamsTabrezQ) March 28, 2022
دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ یہ ایوارڈ مجھے اس دن مل رہاہے جس دن آج سے 200 سال قبل اردوصحافت کی ابتدا ہوئی تھی اور آج پورے برصغیر میں اردو میڈیا کی دو صدی کا جشن منایا جارہا ہے ۔ تیسری اہم وجہ یہ ہے کہ مولانا ابو الکلام آزاد سے منسوب ہے جن کے تذکرہ کے بغیر صحافت کے موضوع پر کوئی بھی تقریر اور تحریر نامکمل اور ناقص سمجھی جاتی ہے ۔انہوں نے آل انڈیا علماء بورڈ اور اس کے سبھی ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ ملت ٹائمز کی کامیابی اور ترقی میں ہماری پوری ٹیم کا برابر کا کردار ہے اور اس ایوارڈ کا کریڈٹ سبھی کو جاتاہے ، ٹیم لیڈر ہونے کی حیثیت میں نے صرف ریسیو کیا ہے حقیقت میں یہ ایوارڈ ملت ٹائمز کی پوری ٹیم کا حق ہے ۔

Leave a Reply