ای ڈی کے ذریعہ کیرالہ کے صوبائی لیڈر کی گرفتاری قابل مذمت: پاپولر فرنٹ

 پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیئرمین او ایم اے سلام نے منگل کے روز انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ کے ذریعہ تنظیم کے کیرالہ کے ایک صوبائی لیڈر ایم کے اشرف کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گرفتاری تنظیم کو نشانہ بنانے کے جاری سلسلے کا حصہ ہے۔

 پاپولر فرنٹ کیرالہ کی صوبائی مجلس عاملہ کے رکن ایم کے اشرف کی گرفتاری گذشتہ کچھ سالوں سے تنظیمی لیڈران و ممبران کو ایجنسی کے ذریعہ مسلسل ہراساں کئے جانے کا ایک حصہ ہے۔ چار سال قبل تنظیم کے خلاف انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت ایک جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ گرچہ ای ڈی کی جانب سے غلط مقاصد کے تحت ہراساں کرنے کے انداز میں سمن جاری کئے گئے، لیکن قانون کا احترام کرنے والے شہری ہونے کے ناطے قومی سطح سے ریاستی سطح کے لیڈران تحقیقات میں ہر طرح سے تعاون اور جنوری 2020سے مختلف مواقع پر ایجنسی کی طرف سے رکھی گئی تمام شرائط کی تکمیل کرتے آئے ہیں۔ کئی سال کی تفتیش اور چھاپے ماری کے بعد بھی ای ڈی کو تنظیم کے خلاف کچھ نہیں ملا، تاہم مشکوک بنیادوں پر ہراسانی و گرفتاریوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

 گذشتہ جنوری میں ای ڈی نے ایم کے اشرف کے گھر پر چھاپے ماری کی تھی، جس کے بعد انہیں کئی مرتبہ پوچھ تاچھ کے لئے دہلی بلایا گیا۔ صرف مارچ کے مہینے میں 19 تا 23 تاریخ لگاتار چار دنوں تک ان سے پوچھ تاچھ کی گئی لیکن پھر 29 تاریخ کو ایک اور سمن بھیج کر انہیں 5 اپریل کو دوبارہ حاضر ہونے کے لئے کہا گیا۔ انہوں نے رمضان کے روزوں کی وجہ سے اسے ملتوی کرنے کی درخواست کی، جسے مسترد کر دیا گیا۔ ان تمام باتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ منصفانہ تفتیش کے بجائے ایجنسی کو اس مقدمے کے پیچھے کچھ اور ہی مقصد درکار ہے۔ بالآخر قانون کا احترام کرنے والے شہری کی طرح جب اشرف ای ڈی کے دہلی ہیڈکوارٹر پہنچے تو انہیں گرفتار کرلیا گیا اور لکھنؤ لے جایا گیا۔

 اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے کہ یہ وزارت داخلہ کے ذریعہ تنظیم کے خلاف شروع کیا گیا پوری طرح سے ایک فرضی مقدمہ ہے، پاپولر فرنٹ نے تنظیم کے خلاف درج کی گئی ای سی آئی آر (انفورسمنٹ کرائم انفارمیشن رپورٹ) کی قانونی حیثیت کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ابھی یہ مقدمہ زیر التوا ہے اور اس کی آخری سماعت محض ایک ہفتے بعد ہونی ہے، ایسے وقت میں تنظیم کے لیڈران سے پوچھ تاچھ اور ان کی گرفتاری ایجنسی کی بزدلانہ کاروائی کے سوا کچھ نہیں ہے، جو اس بات سے ڈری ہوئی ہے کہ عدالت میں کہیں یہ مقدمہ کالعدم نہ کر دیا جائے۔

 اقلیتوں کے لئے کھڑی ہونے والی ایک تنظیم کے خلاف اس قسم کی مسلسل مذہبی و سیاسی انتقامی کاروائیوں سے ای ڈی اپنے ایک قانونی و غیرجانبدار ایجنسی ہونے کی معتبریت کو تباہ کر رہی ہے۔ دوسری طرف سیاسی سرپرستی میں کروڑوں کی کاروباری دھوکہ دھڑی کرنے والوں کو چھونے سے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، ای ڈی اب اپنے مقررہ اہداف پر کام نہیں کر رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالت عالیہ مرکزی ایجنسی کی ان غلط کاروائیوں کو روکنے کے لئے اس معاملے میں مداخلت کرے۔

 پاپولر فرنٹ ایک بار پھر ای ڈی سے کہنا چاہتی ہے کہ وہ ملک کی اقلیتوں کے جمہوری حقوق کو کچلنے کے لئے فرقہ پرست و جنونی سیاسی آقاؤں کی کٹھ پُتلی کی طرح کام کرنا بند کرے۔ ساتھ ہی پاپولر فرنٹ یہ بھی واضح کر دینا چاہتی ہے کہ تنظیم ان سیاسی مقدمات سے خوفزدہ ہونے والی نہیں ہے اور وہ ان فرضی مقدمات کے خلاف عدالتی لڑائی کے ساتھ ساتھ ای ڈی کی غلط کاروائیوں کے خلاف رائے عامہ کو بھی متحرک کرنے کا کام کرے گی۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com