رمضان المبارک کے اختتام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہا کہ “رمضان کا مبارک مہینہ رخصت ہو رہا ہے۔ ہم سب نے حسب توفیق اس مہینے سے استفادہ کرنے کی کوشش کی۔ روزے رکھے، نمازیں پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کی، اس کا ترجمہ و تفسیر سمجھنے کی کوشش کی، صدقات کیے اور اپنے رب سے مضبوط تعلق پیدا کرنے کے لیے جو ممکن ہوسکتا تھا، وہ کیا۔ اب جب کہ رمضان ہم سے رخصت ہو رہا ہے، ہمیں یہ بات سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم رمضان کے بعد کی زندگی میں کسی تبدیلی کے لیے تیار ہوئے ہیں یا نہیں؟ ہماری زندگی میں وہ مثبت انقلاب برپا ہوا ہے یا نہیں، جسے رمضان کا اصل مقصد بتایا گیا ہے۔ ہم موجودہ حالات کے لحاظ سے قرآن کریم سے ضروری سبق لینے کے لیے تیار ہوئے ہیں یا نہیں؟ ان سب سوالات پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔”
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے پیغام میں کہا کہ “رمضان قرآن کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ صبر اور تقویٰ کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن کریم صبر اور تقویٰ کی تعلیمات سے بھرا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والوں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنے والوں کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا یقین دلایا ہے۔ لہذا اگر ہم نے رمضان کے مہینے کو قرآن کے مہینے کے طور پر گزارا ہے تو ہمارے اندر لازمی تبدیلی یہ آنی چاہیے کہ ہم اپنے کردار کے ذریعے خود کو صابر اور متقی ثابت کریں۔ اس کے لیے ہمیں عزم و حوصلہ، جرأت و شجاعت، ایمانی فراست اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔”
انھوں نے ملت کو رمضان کا سبق یاد دلاتے ہوئے کہا کہ “ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ تقویٰ اور صبر و استقلال سے مزین مرد مومن زندگی کے ہر میدان میں حکمت و دانائی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ہندستان کے موجودہ حالات میں ان ایمانی اوصاف کا اظہار کئی گنا زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم ایک داعی امت کی حیثیت سے تمام انسانوں کی فلاح و کامرانی اور ان کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔ منفی سوچ، جذباتیت، آپسی انتشار، مسلکی علاقائی تنظیمی عصبیت اور ملک و ملت کو کمزور کرنے والے چھوٹے سے چھوٹے کام سے بھی دور رہیں۔ مظلوموں، کمزوروں اور پس ماندہ طبقات کا سہارا بنیں، ظالموں کو ظلم سے باز رکھنے کے لیے آئین کی روشنی میں ہر جائز طریقہ پوری قوت کے ساتھ اختیار کریں، ہر اچھائی کے معاون اور ہر برائی کے مخالف بنیں، نئی نسل کی اعلیٰ تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں، ملک کے سامنے اور بالخصوص جمہوریت کے تمام ستونوں عدلیہ، مقننہ، منتظمہ اور ذرائع ابلاغ کے سامنے مسلسل دستور ہند کی تمہید اور اس میں پیش کیے گئے مساوات، ہمدردی، بھائی چارہ اور آزادی کے تصورات کو تازہ کرتے رہیں۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو ہمارے اندر موجود ایمانی اسپرٹ کو تقویت پہنچانے میں بھی معاون ہوں گے اور ہمیں تقویٰ کے وسیع تر تصور پر عمل پیرا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔”

Leave a Reply