ٹرین میں ایک عالم دین کو دھمکی اور اس سے کیسے بچا گیا

از: اظہارالحق بستوی

ads

استاذ شعبہ عربی، مدرسہ عربیہ قرآنیہ، اٹاوہ

ملک میں نفرت کی گرم بازاری کا دور دورہ ہے۔ ہر جگہ آئے دن مسلمانوں کے ساتھ نفرت کے پجاریوں کی شرانگیز کارستانیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔ چند ماہ قبل یہ راقم گوالیار سے اٹاوہ کے لیے بس پر سوار ہوا تو بغل کی سیٹ والا نفرتی شخص مجھے نہ صحیح سے بیٹھنے دے رہا تھا اور نہ سیدھے پاؤں رکھنے۔ ماتھے کے تلک سے وہ ڈرانے کے لیے کوشاں تھا مگر دل کا ایمان اس بزدل سے ہراساں ہونے کو تیار نہیں ہوا۔ بالآخر آواز کے زیر و بم اور بات کی معقولیت نے اسے مات دیا۔ فللہ الحمد

اسی طرح کا ایک واقعہ کل بتاریخ دس مئی 2022 کو ممبئی سے گورکھ پور جانے والی اودھ ایکسپریس ٹرین میں ہمارے ایک رفیق درس دوست مولوی نسیم بستوی کے ساتھ پیش آیا۔ مولوی نسیم گورینی میں ہمارے ہم درس رہے اور وہیں سے سند فراغ حاصل کیا۔

آئی آر سی ٹی سی (ٹرین میں کھانے اور پانی کی سہولیات فراہم کرنے والی ایجنسی) کے ایک ممبر سے پانی اور جوس کی پرنٹ قیمت سے ہر چیز پر دس روپئے زیادہ مانگنے پر نسیم کی اس سے بحث ہوگئی۔ بحث شدت اختیار کر گئی تو اُس ممبر نے ہمارے ساتھی کو اٹاوہ پہونچنے سے قبل آؤٹر پر چین کھینچ کر گاڑی کھڑی کرکے مارنے کی دھمکی دے ڈالی۔ واضح ہو کہ اودھ ایکسپریس اٹاوہ ہوکر بستی اور خلیل آباد جاتی ہے اور ہمارے ساتھی کو خلیل آباد جانا تھا۔ یہ لڑائی شام ساڑھے چار سے پانچ بجے کے بیچ بیانہ اور فتح پور سکری کے درمیان ہوئی۔

بہرکیف نسیم بھائی نے دوستوں کے ایک گروپ میں اس دھمکی کا تذکرہ کیا اور 139 وغیرہ پر فون لگانے اور کچھ جواب نہ ملنے کا تذکرہ کیا۔ کئی ساتھیوں نے یہ میسیج دیکھنے کے بعد فوراً اس راقم کو اٹاوہ نسبت اور اپنے اعتماد کی بنیاد پر یاد کیا اور فون کیا۔ مگر بندہ بھی رات سفر کرکے بستی سے اٹاوہ پہونچا تھا اس لیے اس وقت سو رہا تھا۔ ساڑھے پانچ کے آس پاس اٹھا تو فون اور میسجز کی بھرمار دیکھا تو جلدی سے مسئلے پر نظر گزار گیا۔ نسیم بھائی نے یہ میسیج لکھا تھا: السلام علیکم ورحمةالله

ساتھیوں میرے ساتھ ٹرین میں کچھ کہا سنی ہو گئی ہے جو ٹرین میں پانی وغیرہ بیچتے ہیں ان سے تو وہ مجھے مارنے کی دھمکی دے کر گیا ہے. بولا اٹاوہ میں تم کو بہت ماریں گے

تو آپ لوگ ذرا مدد کیجئے کہ سیکورٹی کا ہیلپ ہم کیسے لیں

جبکہ میں یہ نمبر ڈائل کرچکا ہوں بات نہیں ہو پارہی ہے.

139…..1512…….182..

میں نے میسیجز دیکھنے کے فوراً بعد نسیم کو فون کیا۔ حوصلہ بڑھایا اور ٹینشن نہ لینے کو کہا۔ پھر کہا کہ میں ٹویٹ کر رہا ہوں ان شاءاللہ تھوڑی دیر میں مسئلہ حل ہو جائے گا۔ پھر گروپ میں مندرجہ ذیل میسیج لکھا:

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

نسیم بھائی ٹرینوں میں ایسے لفڑے معمول کی بات ہے۔ ٹینشن بالکل مت لو۔ چلتی گاڑی اور بھری ٹرین میں ایسا کچھ کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے اطمینان سے رہو۔ کچھ نہیں ہوگا ان شاءاللہ۔

پھر میں نے نسیم کی جملہ تفصیلات کے ساتھ ریلوے منسٹری، آئی آر سی ٹی سی اور ریل سیوا کو ٹیگ کر کے مندرجہ ذیل

ٹویٹ کیا۔ نسیم نے کمال ہوشیاری کا جو کام کیا تھا وہ یہ ہے کہ اس نے اس دھمکی دینے والے شخص کی فوٹو بھی کھینچ لی تھی جس کو بھی میں نے ٹویٹ میں اٹیچ کردیا اور نسیم بھائی کی فوری مدد اور تحفظ کا مطالبہ کیا۔ دیگر رفقاء، مفتی طہ، مفتی صفوان وغیرہ نے بھی ری ٹویٹ کیا۔

تھوڑی ہی دیر بعد ہمیں ریلوے کی طرف سے جواب ملا اور مجھ سے نسیم کا نمبر مانگا۔ میں نے نمبر بھیج دیا تو نسیم کو انھوں نے میسیج بھیجا اور کمپلینٹ رجسٹر کرلی۔ پھر آر پی ایف کی طرف سے فون بھی آگیا کہ آپ کو تھوڑی دیر میں سیکورٹی مل جائے گی۔ فون آنے پر نسیم بھائی نے لکھا کہ: الحمد لله ریلوے سے فون آیا تھا کہ آپ کو اٹاوہ سے پہلے سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔”

آگرہ سے نکلے ہوئے تھوڑی دیر ہی ہوئے ہوں گے کہ نسیم بھائی کے پاس دو سپاہی پہونچے اور تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔ فللہ الحمد۔

الحمد اٹاوہ آیا اور نسیم بھائی خیر خوبی سے اٹاوہ سے گزر گئے۔ اٹاوہ نکلنے کے بعد فون پر احوال لیا اور طمینان کرنے کے بعد سوگیا۔

ڈیڑھ بجے پھر نسیم بھائی کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا تو کہنے لگے کہ یہ آئی آر سی ٹی سی کے مینیجر آئے ہوئے ہیں اور مجھ سے کلیرنس چاہ رہے ہیں کہ آپ چل کر ہمارا رجسٹر دیکھ لیں۔ وہ بندہ ہمارا بندہ نہیں تھا۔ اس لیے آپ ہمارے حق میں بیان دے دیں۔

پھر نسیم نے فون مینیجر کو دے دیا مجھ سے بات کرنے کے لیے۔ میں نے اس مینیجر سے بات کی۔ کہنے لگا کہ وہ آدمی ہمارا نہیں تھا۔ آپ ان سے کہیں کہ یہ چل کر دیکھ لیں۔ میں نے کہا کہ اگر وہ آدمی آپ کا نہیں تھا تو آپ پریشان کیوں ہیں۔ آپ اپنا بیان دے دیں کہ وہ ہمارا فرد نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ آپ جب تک ہمیں کلیرنس (براءت) نہیں دیں گے ریلوے وزارت ہماری بات نہیں مانے گی۔ تو میں نے کہا کہ: بستی پہونچنے تک تو نہ ہمارے ساتھی پینٹری میں جائیں گے اور نہ آپ کو کلیرنس دیں گے۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا اور نسیم کو بھی یہی کہنے کے لیے اور اس کے ساتھ نہ جانے کو کہا۔ بہرکیف مینیجر خاصا پریشان تھا۔ میں نے اس کو سخت سست بھی کہا کہ تمہارے لباس میں اور تمہارا سامان لے کر آنے والے بندے کے بارے میں تم کیسے منع کر سکتے ہو کہ وہ تمہارا بندہ نہیں تھا۔ تو اس نے کہا کہ نہیں وہ ہمارا بندہ نہیں تھا۔ ہمارے جیسے اور لوگ بھی آ جاتے ہیں تو ہمیں بھی کمپلینٹ کرنی پڑتی ہے۔

بہت کیف یہ واقعہ یوں گزر گیا۔ نسیم بھائی منزل پر پہونچ چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں صحت وعافیت کے ساتھ رکھے۔

(اس کمپلینٹ کے حوالے سے آگے کی کارروائی کیا ہوگی علم نہیں، مگر مسافر منزل تک پہونچ گیا لہذا روداد لکھ دی گئی تاکہ بیداری عام ہو۔)

*اس حادثے کے چند اسباق*

1۔ ٹرین میں کسی سے ڈرنا نہیں چاہیے اور پرنٹ ریٹ سے زیادہ قیمت کبھی نہیں دینا چاہیے۔

2۔ کوئی لفڑا ہو نے لگے تو سامنے والے کا یا اس کی آئی ڈی کا فوٹو لے لیں۔ یہ آپ کی حفاظت کے لیے سب سے بڑا ہتھیار بنے گا۔

3۔ ٹویٹر کا استعمال ضرور سیکھیے اور حسب موقع کیجیے۔ اس پر فوری عمل ہوتا ہے، بطور خاص ٹرین اور ایکسیڈنٹ وغیرہ کے معاملات میں۔ بہت آسان ہے۔ یوٹیوب پر بھی اس کا طریقہ دیکھ سکتے ہیں۔ راہی حجازی صاحب کے چینل کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ٹویٹر سماجی مواصلات کا موثر ترین اور آفیشل ذریعہ ہے۔

4۔ کوئی بھی مسئلہ ہو تو فوراً دوست و احباب کے گروپ میں مطلع کریں، ان شاءاللہ فوری مدد ملے گی۔

5۔ حسب ضرورت قانون دفاع ذاتی کا استعمال کیجیے۔

6۔ سفر کی مسنون دعاؤں اور آغاز سفر کے آداب کی رعایت کے ساتھ چلنا چاہیے، خدا کی مدد شامل حال رہے گی ان شاءاللہ۔

8686691311

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com