الحمدللہ! میرے معبود کی نہ کوئی شبیہ، تصویر نہ تصوّر

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز 

 اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ احسان اور کرم ہے کہ اس نے ہمیں خیر امت بناکر پیدا کیا۔ آج کے حالات دیکھ کر شکرانہ کے جتنے بھی سجدے کئے جائیں کم ہیں کہ جس معبود کی ہم عبادت کرتے ہیں‘ اس کی نہ تو شبیہ ہے اور نہ تو کوئی تصویر نہ ہی تصور۔ ورنہ آج ہم بھی اُسی طرح شرمندہ اور رسوا ہوتے جس طرح آج دوسرے ہورہے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے نہ صرف صنف نازک کو بلکہ مردوں کے لئے بھی حیا کا پردہ مقرر کیا ہے۔ اتنا تعجب، افسوس بلکہ بعض اوقات احساس شرم سے پانی ہوجاتے ہیں کہ جن اعضاء کی نمائش تو دور کی بات ہے اس کا اشارتاً بھی تذکرہ کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے آج اسے مقدس بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ یقینا ساری دنیا میں ساری اقوام میں اس پر تبصرے ہورہے ہوں گے۔ خیر یہ کسی کا مذہبی معاملہ ہے۔ ہم سیدھا رستہ دکھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ان پر تنقید یا ان کی تضحیک کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ خود ان کے اپنے لوگ ان کے دعوؤں کی تردید کررہے ہیں۔ اور دعوے بھی کیسے فوارے کو لنگ یعنی عضو مخصوص بنادیا۔ سوچنے کی بات ہے۔ ایک نادان بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ مسلمان اُس حوض کے پانی سے کیسے وضو کرسکتا ہے جس میں شیولنگ نصب ہو۔ بھلا ہو مندر کے سابق مہنت تیواری کا جس نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے یہ بھانڈہ پھوڑ دیا کہ کاشی وشواناتھ مندر کے ایک سابق عہدہ دار نے حالات کو بگاڑنے کے مقصد سے ایک شیولنگ مسجد کے احاطہ میں پھینکا تھا۔ اور جس طرح سے عدالت عالیہ نے ایڈوکیٹ کمشنر اجئے مشرا کو ان پر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے اور مسجد کے سروے سے متعلق رپورٹس اور ویڈیو کو میڈیا میں بنااجازت پیش کرنے کی پاداش میں ان کو عہدہ سے ہٹا دیا۔ ان کی بحالی کے لئے ہندوتوا تنظیمیں مطالبہ کررہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس ایڈوکیٹ کمشنر نے کاشی وشواناتھ مندر کے دعویداروں کا کام آسان کردیا تھا، مگر جیسا کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ انسان لاکھ منصوبے بنائے ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ جب جب میرے منصوبے ناکام ہوئے میں نے اللہ کو پہچانا۔ گیانواپی مسجد، تاج محل، متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد اور پھر جامع مسجد دہلی‘ آر ایس ایس، بجرنگ دل اور دوسرے ہندوتوا تنظیموں کے نشانے پر ہیں۔ بابری مسجد سے ہندو راشٹرا کی سمت ان کا جو سفر شروع ہوا تھا ان کی منزل تک پہنچنے کے لئے یہ مسلم عبادت گاہیں سنگ میل سمجھی جاتی ہیں۔ چوں کہ ہندو راشٹرا کا خواب پورا ہونے کے قریب ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ 2024ء کے الیکشن کے بعد مودی ملک کے صدر بن جائیں‘ اور امیت شاہ یا یوگی وزارت عظمیٰ پر فائز ہوجائیں، دستور بدل دیئے جائیں۔ مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کے ساتھ من مانی کئے جائیں‘ ایسا خیال ہے۔ اور ہندوتوا طاقتوں کا خواب۔ ضروری نہیں کہ یہ خواب پورے ہوجائیں اور جو لوگ اپنے اور دوسروں کے مستقبل کے متعلق جو منصوبہ بنارے ہیں۔ کل تک وہ آج کی طرح ذہنی اور جسمانی طور پر مکمنل صحت مند رہیں۔ ہاں! یہ ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی نے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ لگایا تھا اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ کانگریس کے علاوہ اور کوئی ایسی اپوزیشن جماعت نہیں ہے جو آج کی تاریخ میں ہندوتوا طاقتوں کا مقابلہ کرسکے۔ خود کانگریس کے بیشتر ارکان کے بارے میں پورے وثوق کے سات یہ کہا جاسکتا ہے ان کے کھدر کے اندر خاکی نیکر چھپی ہوتی ہے۔ بابری مسجد کے سانحہ کے لئے ذمہ دار تو نہرو خاندان ہی ہے اور اُسی کی سزا قدرتی طور پر اسے ملی ہے کہ اقتدار کا جام ان کے لبوں تک آکر چھوٹ جاتا ہے۔

 گیانواپی مسجد ہو یا متھرا کی شاہی عیدگاہ کی مسجد۔ یہ دونوں اورنگ زیب کے دورِ حکومت میں تعمیر کی گئی ہیں۔ اورنگ زیب پر یہ الزام ہے کہ اس نے اپنے دور حکومت میں کئی مندروں کو مسمار کرکے ان کی جگہ مساجد تعمیر کروائی۔ یہ الزام سچ ہوتا اگر گیانواپی مسجد کے ساتھ کاشی وشواناتھ کا مندر صحیح سالم موجود نہ ہوگا۔ متھرا کی شاہی عیدگاہ، مسجد سے متصل کرشن جنم شٹمی مندر باقی نہ ہوتا۔ یہ حکمران اتنے بے بس یا کمزور تھے نہیں کہ چند سو گز زمین مندر کی لے کر اس پر مسجد تعمیر کرے۔ اگر وہ چاہتے تو ان منادر کا نام و نشان نہ ہوتا۔گیانواپی مسجد بنارس یا وارانسی میں صدیوں سے موجود ہے۔ مسجد کے قریب ایک کنواں ہے جسے واپی کہتے ہیں اسی کے نام سے گیان واپی یعنی علم کا کنواں۔ مغل حکمرانوں نے جس دور میں ہندوستان بھر میں مساجد اور دیگر عمارتیں تعمیر کروائیں ایک طرف وہ اسلامی تن تعمیر کا شاہکار ہیں تو دوسری طرف اس دور کے مقامی آرکیٹکچر کو بھی برقرار رکھا گیا۔ چوں کہ ہندوستان مندروں کا ملک رہا۔ بیشتر عمارتوں کی تعمیر میں مقامی اور اسلامی فن تعمیر کا امتزاج نظر آتا ہے۔ شمالی ہند کی مساجد میں مینار نہیں ملتے تو قطب شاہی دورِ حکومت کی تعمیرات میں مساجد کی پہچان اس کے مینار ہوا کرتے تھے۔ بہرحال یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اورنگ زیب ہوں یا کوئی اور مغل حکمران‘ اگر واقعی مندروں کو مسمار کرواتے تو پھر یہ شاندار منادر اور مساجد ساتھ ساتھ نظر نہیں آتے۔ مندروں کی مسماری کا ذکر بعض انگریز مؤرخین نے بھی کیا ہے جو ہمیشہ سے اسلام اور مسلمانوں کے دشمن رہے ہیں۔ ان کی غلط بیانی کا مقصد یقینا ہندو اور مسلمان کے درمیان تفریق پیدا کرنا رہا۔ اس کا ثبوت ہندوستان پر قابض انگریزوں کی پالیسی رہی جنہوں نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اختیار کی۔ انہی کی وجہ سے ہندو مسلم کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی ہوئی۔ انہوں نے ہی مسلمانوں کو مسلکوں میں الجھایا اور یہ بات تحقیق اور تصدیق شدہ ہے کہ مغربی ممالک میں ایسی کئی تربیت گاہیں ہیں جہاں عیسائیوں اور یہودیوں کو امامت اور خطابت کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور یہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی بھیس میں غیر محسوس طریقے سے انتشار بین المسلمین پیدا کررہے ہیں۔

 متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد اور کرشن جنم اشٹمی مندر ہو یا گیانواپی مسجد اور کاشی وشواناتھ کا مندر جس طرح سے یہ پاس پاس تعمیر کئے گئے ہیں اس سے اُس دور کے حکمرانوں کی مذہبی رواداری کا ثبوت ملتا ہے اور صدیوں سے مندروں میں ہندو اور مسجدوں میں مسلمان اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرتے رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ہر دور میں مفاد پرست رہے ہیں جو اپنی مذہبی دکان چلانے کے لئے اپنی اپنی قوم کے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے رہے ہیں۔چاہے وہ اکبر کے درباری بیربل ہوں یا راجا ٹوڈرمل یا آج کے دور کے ضمیر فروش مہنت۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور میں کچھ زندہ ضمیر بھی رہے ہیں‘ اس کی ایک مثال کاشی وشواناتھ مندر کے سابق مہنت تیواری ہیں جنہوں نے 2018ء میں Caravan کے نمائندے سشیل کمار کو دیئے گئے انٹرویو میں یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ مندر کے سربراہ ایس کے پانڈے نے 2000ء میں مندر سے ایک شیولنگ نکال کر گیانواپی مسجد کے احاطہ میں پھینکا تھا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ فتح بہادر نے اس وقت مندر کے سربراہ کو اس عہدے سے برطرف کردیاتھا۔ مہنت تیواری نے کاشی وشواناتھ کوریڈور کی مخالفت کی تھی۔ جس کے بعد انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ گیان واپی مسجد کو متاثر کرنے کی بار بار کوشش کی گئی۔ کئی بار مقامی ہندوں نے بھی اس مسجد کی حفاظت کے لیے اہم رول ادا کیا۔

سال 2018میں حکومت اترپردیش نے کاشی وشواناتھ کوریڈور کے لیے 45ہزار اسکوائرفٹ ا راضی کی منظوری دے دی۔مسٹر مودی وارانسی سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے تھے اور ان کی آمد سے ایک دن پہلے کچھ مقامی ہندو لڑکوں نے گیان واپی مسجد کی شمالی دیوار کے قریب ایک نندی کے مجسمہ کو زمین میں دفن کرنے کی کوشش کی، کیونکہ دن کا وقت تھا اس لیے وہ پکڑے گئے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں نندی اس بیل کو کہتے ہیں جس کے بارے میں ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ ان کے بھگوان شیو اکے قلعہ کی حفاظت پر مامور ہے۔ 26اپریل 2019کو مسٹر مودی نے پرچہ نامزدگی داخل کیا اور اس کے دوسرے دن ان کی جانب سے ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی گئی۔ جس میں کاشی وشواناتھ کواریڈور پروجیکٹ کو اس انداز میں پیش کیا گیا گویا اس کے اطراف کوئی عمارت ہی نہیں ہے۔ اس سے ایک سال پہلے مودی نے گوئمبٹور میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کاشی سے گوئمبٹور تک لارڈ شیوا موجود ہے۔ حال ہی میں انھوں نے 112فیٹ بلند مورتی نصب کرنے کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ آج کا دن لارڈ شیوا کی آزادی کا دن ہے۔ وہ اطراف و اکناف کی عمارتوں کی چنگل سے آزاد ہوئے ہیں۔یہ ایک طرح سے گیان واپی مسجد سے متعلق ان کے عزائم کا اشارہ تھا۔ گیان واپی مسجد اور کاشی وشواناتھ مندر کے درمیان چند میٹر کا فاصلہ ہے۔ مسجد کا احاطہ تین پلاٹس پر مشتمل ہے۔ ایک پلاٹ پر مسجد ہے اور دو پلاٹس پر اس کا صحن وغیرہ ہے۔ 1992میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد گیان واپی مسجد کی انتظامیہ نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ مسجد کہ دو پلاٹس کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ1991میں پی وی نرسمہا راؤ کی حکومت نے عبادت گاہوں سے متعلق ایک قانون منظور کیا تھا۔ جس کے تحت وہ تمام مذہبی عبادت گاہوں کو ویسے ہی برقرار رکھا جائے گا، جیسے وہ 15اگست 1947 تک تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نندی کی مورتی کو اسی انداز سے گیان واپی مسجد میں رکھنے کی کوشش کی گئی۔ جس طرح سے دسمبر 1949 کی ایک سیاہ رات کو بابری مسجد میں رام کی مورتیاں رکھ دی گئی تھی۔

گیان واپی مسجد کو شہید کرنے کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ اگرچہ کہ عدالت عالیہ نے فی الحال قابل ستائش موقف اختیار کیا ہے مگر آنے والے دنوں میں اس کا موقف برقرار رہتا ہے یا بدل جاتا ہے کہا نہیں جاسکتا۔ ہندوتوا طاقتوں نے گیانواپی مسجد کے ساتھ ساتھ متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کے لئے بھی مہم شروع کردی ہے۔ حتیٰ کہ جامع مسجد دہلی کی بنیادوں کو بھی کھدائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ہندوتوا تنظیموں کے کارکن حالیہ ریالیوں کے درمیان باربار یہ نعرے لگاتے رہے کہ ایودھیا سے جھانکی ہے کاشی متھرا باقی ہے۔

 تاج محل سے متعلق مطالبہ کرنے والوں کی کمر پر لات پڑچکی ہے۔ چوں کہ تاج محل کو نقصان پہنچانے سے ملک کا مجروح ہوتا ہے اس لئے حکومت اور ادارے سبھی تاج محل کو تاج محل ہی ثابت کریں گے۔ عام مسلمان بھی تاج محل کے لئے جذباتی نہیں ہوگا۔ کیوں کہ بہرحال یہ ایک بادشاہ کا مقبرہ ہے جو ہندوستان کا حسن ہے اور سیاحتی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ۔ دوسری مساجد کا جہاں تک تعلق ہے اس کے لئے قانونی لڑائی بھی ضروری ہے اور مسلم اتحاد بھی۔ خوشی کی بات ہے کہ اتنے زہریلے ماحول میں اب بھی کچھ غیر مسلم صحافی، مؤرخین، دانشور حق بات کررہے ہیں۔ گودی میڈیا کے پالتو اینکرس کی طرح وہ مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلنے کے بجائے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ارباب اقتدار خود فرقہ پرست ہیں۔ فرقہ وارانہ تعصب‘ مسلم دشمنی بلکہ مسلمانوں کی نسل کشی نے انہیں فٹ پاتھ سے قومی سطح تک پہنچایا ہے۔ جس طرح سے وہ تقاریر کرتے ہیں اس میں پوشیدہ یا کھلے عام یہ پیغام دیتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف چاہے کچھ بھی کیا جائے انہیں ہر طرح کا تحفظ حاصل رہے گا۔بابری مسجد کی شہادت کی نگرانی واجپائی، اڈوانی، وجئے راجے سندھیا جیسے قدآور سیاسی شخصیات نے کی تو دوسری مساجد کے نام و نشان کو مٹانے کے لئے اُکسانے والے بھی دورِ حاضر کے اصحاب اقتدار ہیں۔ اقتدار عارضی ہے‘اس کا انہیں اس لئے احساس نہیں ہوتا کہ وہ جو بھی کررہے ہیں‘ آنے والی نسلوں کے لئے کررہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہم اگر اپنا محاسبہ کریں تو شرمندگی ہوتی ہے کیوں کہ ہم خود غرض بھی ہیں، مفاد پرست بھی‘ قوم و ملت کے سوداگر بھی۔ ہماری بے حسی، ہمارے زوال اور موجودہ حالات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کاش! ان حالات سے ہم سبق لیں تو ظالموں کا پنجہ مروڑ سکتا ہیں۔

فون: 9395381226

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com