اے ایس آئی (ASI) کو نہیں دیا گیا قطب مینار کی کھدائی کا حکم، وزیر ثقافت کی وضاحت

حیدر آباد: (ایجنسیاں) مرکزی وزیر ثقافت کشن ریڈی نے قطب مینار کے متعلق میڈیا کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے،میڈیا میں دکھایا گیا تھا کہ محکمہ آثار قدیمہ یعنی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو قطب مینار کمپلیکس میں کھدائی کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کشن ریڈی نے حیدرآباد میں کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔دراصل، گیان واپی مسجد کے معاملے کے درمیان کچھ زعفرانی میڈیا ہاؤسز سے ایسی خبریں آئی تھیں، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزارت ثقافت نے اے ایس آئی کو قطب مینار کمپلیکس کی کھدائی کا حکم دیا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ قطب مینار میں موجود مورتیوں کے تجزیے کے بھی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔قومی راجدھانی نئی دہلی میں واقع قطب مینار کچھ عرصے سے فسطائی طاقتوں کے نشانے پر ہے ،جو اس عالمگیر شہرت یافتہ قطب مینار کا نام بدل کر وشنو استمبھ رکھنا چاہتے ہیں۔ جس طرح تاج محل کا نام بدل کر تیجو محلیہ رکھنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان فسطائی طاقتوں کا کہنا ہے کہ وشنو استمبھ راجہ وکرم دتیہ نے بنایا تھا۔ان طبقوں کا کہنا ہے کہ قطب مینار سے پہلے ہندو اور جین مندروں کی جگہ تھی اور یہاں 27 مندر تھے ،شہاب الدین غوری کے سپہ سالار قطب الدین ایبک نے تباہ کر دیا تھا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com