انسان کے اعمال کی بے اعتدالیوں کا نقصان بھی انسانوں کو ہی ہوتا ہے: مولانا سید محمد طلحہ قاسمی نقشبندی

کانپور: زبان سے تسلیم کرنے کے باوجود اپنے عمل و کردار سے اللہ کوجھٹلانے کو نفاق کہتے ہیں اور قرآن میں نفاق کو کھلے کفر سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ منافقین جہنم کے سب سے نچلے حصہ میں ہوں گے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگاکیونکہ یہ منافقین دنیا کی زندگی میں اپنے کو مسلمان کہتے تھے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار جامع مسجد اشرف آباد میں منعقد ہ درس قرآن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے معروف مفسر قرآن مولانا سید محمد طلحہ قاسمی نقشبندی نے قرآن کی تفسیر بیان کرتے ہوئے روز محشر میں پیش آنے والے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہر کوئی کسی نہ کسی کا دامن تھامے تھا اور اس کو بڑی امیدیں تھیں کہ یہاں سے نہیں تو یہاں سے بچ جائیں گے۔ کافر تو کھلم کھلا ہر چیز کا منکر تھا لیکن ان کو تو سب کچھ معلوم ہوتے ہوئے بھی حصول جنت کیلئے چور راستے کی تلاش تھی اس لئے انہیں کافروں سے بڑھ کر سزا دی جائے گی۔ ایسے لوگوں کا روز محشر میں کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔ اس لئے اگر اب تک ایسا ہوا ہے تو سچی توبہ کر لیں، اپنی زندگی بدل لیں، اللہ سے اپنا صحیح رشتہ قائم کر لیں، سچے فرمانبردار بن جائیں،دل کو اللہ کیلئے خالص کر لیں۔ ایسا ہونے پر اللہ ہمیں ایمان والوں میں شامل کر لیں گے۔

مولانا نے اس موقع پر مثال دے کر بتایا کہ جس طرح موسم کی بے اعتدالیوں یعنی زیادہ بارش، تیز ہوا چلنے سے ہونے والے نقصان کا کوئی انکار نہیں کر سکتا اسی طرح ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ انسان کے اعمال کی بے اعتدالیوں کا نقصان بھی انسانوں کو ہی ہوتا ہے۔ اللہ نے ہمیں جسم، روح اور نفس سے مل کر بنایا ہے۔ نفس اس پروگرام کا نام ہے جس سے ہم اپنے جسم کے اعضاء کو کنٹرول کرتے ہیں، اس لئے اللہ کے یہاں حساب ہمارے نفس کا ہوگا۔ مولانا نے بتایا کہ اللہ کے یہاں صرف پیدا ہونے اور مرنے کا حساب نہیں ہوگابلکہ زندگی کے اعمال کا حساب ہوگا اور زندگی کے اعمال موت پر ہی ختم نہیں ہو جاتے۔ جس طرح خیر کا کوئی کام جب تک ہوتا رہتا ہے اس کام کی شروعات کرنے والے کیلئے صدقہ جاریہ کے طور پر اس کے نامہ اعمال میں ثواب پہنچتا رہتا ہے، اگر کوئی برائی چھوڑ کر گیا تو خود اس برائی کا اس کو گناہ ہوگا اور بعد میں جتنے لوگ اس برائی میں پڑیں گے، سب کے گناہوں میں بھی اس کا حصہ لگتا رہے گا، اس طرح اعمال نامہ مکمل ہو ہی نہیں سکتا جب تک کام پورا نہ ہو جائے۔ قیامت کا مطلب ہی یہی ہے کہ خیر و شرکا سلسلہ روکا جائے۔ ہماری تمام بے اعتدالیوں کے باوجود اگر اللہ نے ہمیں اپنی پکڑ سے چھوٹ دے رکھی ہے تو اسے اللہ کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے، اللہ جس دن چاہیں گے ہمارا وجود ختم ہو جائے گا۔ مولانا نے بتایا کہ انبیاء کرام نے آکر ہمیشہ یہ بات انسانوں کو سمجھائی کہ دنیا کا یہ نظام خود بخود نہیں چل رہا ہے، اس کو کوئی چلانے والاہے اور ایک چلانے والا ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ اس کائنات کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک سے زیادہ طاقت کو ماننا اس سے بڑی جہالت اور ناممکن عقیدہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ نے ہمیں پیدا کرکے بے کار نہیں چھوڑ دیا ہے، پوری زندگی ریکارڈ ہو رہی ہے، یہ بات آج کے جدید دور میں لوگوں کو معلوم ہوئی کہ سب کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے ہمیں تو قرآن نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی یہ بات بتا رکھی ہے کہ انسانوں نے اپنی زندگی میں جو کچھ کیا ہوگا وہ سب کچھ اپنے سامنے موجود پائیں گے۔ جیسے ہی یہ دوباتیں کہ دنیا کا نظام اللہ چلا رہے ہیں اور ہماری زندگی ریکارڈ ہو رہی ہے،ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا سمجھ میں آ جاتی ہیں تو انسان سنتوں کا پابند ہو جاتا ہے۔ آج کلمہ پڑھنے کے باوجود سنتوں کا اہتمام نہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے دلوں میں حساب کا یقین نہیں ہے۔

اس سے قبل تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس موقع پر خاص طور پر جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی،قاضی شہر کانپور حافظ معمور احمد جامعی، مولانا محمد اکرم جامعی، مولانا نور الدین احمد قاسمی، مولانا محمد شفیع مظاہری، مولانا حفظ الرحمن قاسمی،مولانا محمد شاہد قاسمی، مفتی سید محمد عثمان قاسمی، حافظ محمد جمیل، حافظ محمد سلمان، حافظ محمد عمران،اسلم ایوب کے علاوہ کثیرتعداد میں مقامی عوام موجود رہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com