کہاں گئے یوگی کے بلڈوزر؟

سہیل انجم

یہ بات تو بہت پہلے سے ہی واضح تھی کہ یوپی کی یوگی حکومت کے پاس دو قوانین ہیں۔ مسلمانوں کے لیے الگ اور دیگر طبقات کے لیے الگ۔ مسلمانوں کے تئیں ان کا رویہ انتہائی جارحانہ ہے جبکہ دوسروں کے لیے غیر جارحانہ، بلکہ ہمدردانہ۔ یوگی آدتیہ ناتھ پر بہت پہلے سے ہی مسلم دشمنی پر مبنی سیاست کرنے کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔ جب وہ رکن پارلیمنٹ تھے جب بھی مسلم مخالف بیانات دیتے تھے اور جب وزیر اعلیٰ ہو گئے جب بھی مسلمانوں کے خلاف بیانات دینے میں ذرا بھی نہیں شرماتے۔ خاص طور پر الیکشن کے دوران ان کی تقریروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اگر ان کی حکومت مسلمانوں کے ساتھ امتیازی رویہ رکھتی ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔

لیکن مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے دوران ان کی حکومت قانون شکن بھی ہو جاتی ہے۔ حالانکہ حکومت اور پولیس انتظامیہ کا کام قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اس حکومت کے ایسے کئی کام ہیں جن پر قانون شکنی کا لیبل لگایا گیا ہے۔ تازہ معاملہ بلڈوزر سیاست کا ہے۔ ان کی حکومت کا بلڈوزر مسلمانوں کے گھروں کو توڑنے کے لیے دندناتا پھرتا ہے لیکن جب معاملہ دوسروں کا ہو تو بلڈوزر کا کہیں پتہ نہیں لگتا۔ ان کی حکومت اور پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے جس طرح الہ آباد کے جاوید محمد کا گھر توڑا ہے اس پر تمام سیکولر طاقتیں سرپا احتجاج ہیں۔ لوگ کالم پر کالم لکھ رہے ہیں اور سوشل میڈیا تو اس کے امتیازی رویے کی نشاندہی سے بھرا پڑا ہے۔

جس طرح قانون و ضابطے کو روندتے ہوئے جاوید محمد کا گھر گرایا گیا اس سے بہت سے سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ خود سابق جج حضرات اور ماہرین قانون بھی سوال اٹھا رہے ہیں اور یوگی حکومت سے پوچھ رہے ہیں کہ اس نے کن قوانین کے تحت اس مکان کو منہدم کیا۔ کیا واقعی وہ گھر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا؟ اگر ہاں تو پھر اس کو پہلے سے نوٹس کیوں نہیں دیا گیا اور اس نوٹس کا جواب دینے یا عدالت جانے کا موقع کیوں نہیں دیا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ مکان جاوید کے نہیں بلکہ ان کی اہلیہ کے نام پر تھا۔ پھر اسے کیوں گرایا گیا۔

پولیس اور حکومت کہتی ہے کہ جاوید کو پچھلے ماہ ہی نوٹس بھیجا گیا تھا جبکہ ان کے اہل خانہ اس کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک روز قبل گھر پر نوٹس چسپاں کیا گیا تھا۔ ان لوگوں کو قانونی چارہ جوئی کا کوئی موقع نہیں دیا گیا۔ گھر منہدم کرنے سے قبل جاوید کو الہ آباد میں ہوئے تشدد کا ماسٹر مائنڈ بتایا گیا۔ جبکہ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ تو احتجاج میں شامل ہی نہیں تھے بلکہ وہ لوگوں کو احتجاج سے روک رہے تھے۔ اس کے باوجود انھیں گرفتار کیا گیا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہاں صرف جاوید کا مکان غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا ہے دوسرے کسی کا نہیں۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ جیسے ان کا مکان بنا تھا ویسے ہی وہاں دوسروں کے بھی مکان بنے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کی نصف آبادی غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے مکانوں میں رہتی ہے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ صرف جاوید محمد کا مکان کیوں گرایا گیا۔ اس کا صاف اور سیدھا جواب یہ ہے کہ یوگی حکومت ان تمام لوگوں سے انتقام لینا چاہتی ہے جو سی اے اے مخالف تحریک میں شامل رہے ہیں۔ جاوید محمد اور ان کی بیٹی آفرین فاطمہ بھی جو کہ اے ایم یو اور جے این یو کی طالبہ اور طلبہ لیڈر رہی ہیں، سی اے اے مخالف تحریک میں پیش پیش رہے ہیں۔ اسی وقت سے جاوید محمد یوپی حکومت کی نظر میں کھٹکتے رہے ہیں۔ حالانکہ مقامی انتظامیہ سے ان کے اچھے مراسم ہیں اور شہر میں امن و امان کے قیام میں وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن یوپی حکومت کو بہانے کی تلاش تھی۔ لہٰذا جب احتجاج کے دوران تشدد ہوا تو آناً فاناً ان کے گھر نوٹس بھیجا گیا اور تمام ضابطوں کی دھجی بکھیرتے ہوئے مکان کو منہدم کر دیا گیا۔ دوسرے شہروں جیسے کہ کانپور اور سہارنپور میں بھی مسلمانوں کے مکانات بلڈوز کیے گئے۔

اب دوسرا منظر ملاحظہ فرمائیں۔ پہلے جمعہ کو ہونے والے احتجاج اور مبینہ تشدد کے سلسلے میں یوپی حکومت نے تو مسلمانوں کے گھر گرا دیئے لیکن جب دوسرے جمعہ کو یعنی 17 جون کو دوسری ریاستوں سمیت ریاست اترپردیش کے مختلف مقامات پر بھی اگنی پتھ یوجنا کے خلاف پرتشدد تحریک شروع ہوئی، جگہ جگہ ٹرینیں جلائی جانے لگیں، پولیس چوکیاں پھونکی جانے لگیں، بسوں کو آگ لگائی جانے لگی، کروڑوں بلکہ اربوں کی املاک کو راکھ کا ڈھیر بنایا جانے لگا تو یوگی حکومت بھی چپ ہو گئی ہے اور اس کا بلڈوزر بھی لاپتہ ہو گیا ہے۔ اب نہ تو یوگی جی فرما رہے ہیں کہ جہاں سے پتھر چلیں گے وہاں بلڈوزر چلے گا اور نہ ہی یوگی و مودی بھکت کچھ کہہ رہے ہیں اور نہ ہی گودی میڈیا بلڈوزر چلانے کی بات کر رہا ہے۔

بلکہ اس کے برعکس بنارس کے پولیس کمشنر صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں اور آگ لگا رہے ہیں یہ اپنے بچے ہیں۔ یہ باہر سے نہیں آئے ہیں۔ ان کو سمجھانے کی ضرورت تھی اور سمجھایا جا رہا ہے۔ کمشنر صاحب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اس سے پہلے والے جمعہ کو جو بچے احتجاج کر رہے تھے وہ کن کے بچے تھے اور کیا وہ باہر سے آئے تھے۔ کیا ان کو سمجھانے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن کمشنر صاحب سے کوئی جواب نہیں بن پڑ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کمشنر صاحب بھی اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ مسلمان اس ملک کے شہری نہیں ہیں۔ وہ باہر سے آئے ہیں اور ان کو سمجھانے کی نہیں صرف ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ مسلمان جب احتجاج کر رہے تھے تو پولیس احتجاجیوں کے سینے میں گولی مار رہی تھی لیکن جب دوسرے لوگ احتجاج کر رہے ہیں تو ہاتھ جوڑ رہی ہے۔ جبکہ اس کئی روزہ پرتشدد احتجاج میں مسلمانوں کے احتجاج میں ہونے والے نقصان سے کئی گنا زیادہ نقصان ہوا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب یوگی حکومت کا یہ اعلان کہاں گیا کہ “جہاں سے پتھر پھینکے جائیں گے وہاں بلڈوزر جائے گا اور مکان کو پتھر بنا دے گا”۔ کیا اب یوگی حکومت مظاہرین کی تصاویر ہورڈنگ کی شکل میں سڑکوں پر آویزاں کرے گی اور ان سے نقصان کی وصولی ہوگی۔ کیا ان لوگوں کو بھی پکڑ کر ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو سہارنپور کے مسلم نوجوانوں کے ساتھ کیا گیا۔ حالانکہ سہارنپور کے مسلم نوجوانوں نے کوئی نقصان بھی نہیں کیا تھا۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انھوں نے اجازت کے بغیر جلوس نکالا تھا۔

ہم کسی بھی شخص کے خلاف خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم غیر انسانی سلوک کے حمایتی نہیں ہیں اور نہ ہی پولیس کی جانب سے یا کسی بھی جانب سے کیے جانے والے تشدد کی حمایت کرتے ہیں لیکن یہ سوال ضرور کرنا چاہیں گے کہ انصاف کے یہ دوپیمانے کیوں ہیں۔ کیا مسلمان اس ملک کے شہری نہیں ہیں۔ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جاتا ہے۔ اگنی پتھ یوجنا کی مخالفت کرنے والے بھی بلا اجازت جلوس نکال رہے ہیں، احتجاج کر رہے ہیں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے احتجاج کی وجہ سے سیکڑوں ٹرینیں رد ہو گئی ہیں۔ متعدد کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ کیا ان کے خلاف بھی اسی طرح کارروائی ہوگی جیسی کہ مسلمانوں کے خلاف ہوئی اور کیا ان کے مکان بھی غیر قانونی قرار دے کر منہدم کیے جائیں گے۔ کہا ں گئے یوگی کے بلڈوزر اور کہاں گیا بی جے پی ایم ایل اے شلبھ منی ترپاٹھی کا ریٹرن گفت؟ کیا یوگی حکومت کے پاس ان سوالوں کا جواب ہے؟

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com