گیانواپی مسجد تنازعہ کی سماعت کرنے والے جج کا تبادلہ، سروے کرانے کا دیا تھا حکم

لکھنؤ: وارانسی گیانواپی مسجد تنازعہ کی سماعت کرنے والے جج روی کمار دیواکر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ سینئر ڈویژن سیول جج روی کمار دیواکر کو وارانسی سے بریلی بھیجا گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی سالانہ ٹرانسفر لسٹ میں روی کمار دیواکر کا نام بھی شامل ہے، جس کے تحت سینئر ڈویژن کے 121 سول ججوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔

روی کمار دیواکر گیانواپی مسجد تنازعہ کی سماعت کر رہے تھے اور مسجد احاطے کے سروے کا حکم انہی نے دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سماعت اب ڈسٹرکٹ جج کو منتقل کر دی گئی ہے۔ سروے کے آخری دن شیولنگ ملنے کے دعوے پر گیانواپی مسجد کے وضو خانہ کو سیل کرنے کے احکامات بھی دئیے گئے تھے۔ تمام ٹرانسفر ہونے والے ججوں کو 4 جولائی کی سہ پہر تک اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی ہوں گی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل آشیش گرگ نے ٹرانسفر لسٹ جاری کی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے سیول جج (سینئر ڈویژن) روی کمار دیواکر کو دھمکی آمیز خط بھی ملا تھا۔ جج دیواکر نے اس سلسلے میں ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم)، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اور پولس کمشنر وارانسی کو خط لکھ کر موصول ہونے والی دھمکی کی اطلاع دی تھی۔ حکام کو بھیجے گئے خط میں دیواکر نے تحریر کیا تھا کہ جو خط انہیں ملا ہے وہ ‘اسلامی آغاز موومنٹ ‘کی جانب سے کاشف احمد صدیقی کے نام سے بھیجا گیا ہے ۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com