باہمی اتحاد کامیابی کی کنجی: انیس الرحمن قاسمی

پٹنہ: (پریس ریلیز) آج بتاریخ 29جون کو پٹنہ میں مسلم دانشوروں اورایم ایل ایزوایم ایل سیزکی ایک خصوصی میٹنگ ملت کے موجودہ مسائل اوران کے حل کے عنوان سے مولاناانیس الرحمن قاسمی قومی نائب صدرآل انڈیاملی کونسل کی صدارت میں ہوئی۔جس میں تمام لوگوں نے یہ کہاکہ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تمام عالم کے لیے رحمت اوراسوہ ہے۔ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ ودیگرازواج مطہرات رضی اللہ عنہا وصحابہ کرام ؓبزرگ ترین ومقدس افراد ہیں، آپ کی اورآپ کے ازواج وصحابہ کی شان میں زبان درازی اورگستاخی قابل مذمت ہے۔اس لیے حکومت ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی میں تاخیرنہ کرے جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وازواج مطہرات کی شان میں گستاخی کی ہے۔اس موقع پر تمام ہندوستانیوں بطورخاص مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ صبر وتحمل سے کام لیں اورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کریں۔جولوگ قانون کے خلاف کام کررہے ہیں۔وہ قابل گرفت ہے،حالیہ دنوں اودے پورقتل کاواقعہ انتہائی قابل مذمت ہے،ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے،اس وقت اس کی ضرورت ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات کی سیرت مبارکہ کو خود بھی پڑھیں اوردوسروں کو بھی روشناس کرائیں۔آج کی میٹنگ میں اس بات پرزوردیاگیاکہ ہمارے ملک میں صدیوں سے مختلف مذاہب کے افرادایک ساتھ رہتے آئے ہیں،لیکن جب کبھی ملک میں نفرت کی آندھی چلی تولوگوں کی جان ومال اورمذہب وعلم کوغیرمعمولی نقصان پہونچا،آج پھرکچھ لوگ نفرت کوہوادے رہے ہیں،حالان کہ1950ء میں جب دستوربناتواس میں خاص طورپربنیادی حقوق میں تمام شہریوں کوبرابری کاحصہ دیاگیا،انصاف ومذہبی آزادی کے ساتھ بھائی چارہ کوبنیادی جگہ دی گئی،اس لیے کہ باہمی اخوت وہمدردی ہی جان ومال، مذہب اورعزت و آبروکے تحفظ کی سماجی بنیادہے۔اس کے برخلاف جب بھائی چارہ وہمدردی کی کمی ہوتی ہے توآپسی اعتمادکمزورہوتاہے،نفرت پھیلتی ہے اورشہریوں کی جان،مال،روزگاراورمذہبی شعارکوخطرہ لاحق ہوتاہے۔اس وقت ہماراملک”نفرت وتفریق“کی فضاسے مکدرہورہاہے،اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ہی شہریوں کے درمیان بھائی چارہ کومضبوط کیاجائے اورنفرت وتفریق کی جگہ محبت اورباہمی اعتمادکوبڑھایاجائے۔آج کی نشست میں تعلیمی صورت حال کوبہتربنانے پرغورکرتے ہوئے کہاگہاکہ ہمیں تعلیم وتربیت کے تمام ادارے،مکاتب،آگن باڑی،سرکاری وغیرسرکاری اسکول،مدارس اورکالج کی سطح پرتعلیم وتربیت کے معیارکوبہتربنانے کے ساتھ گھروں میں پڑھنے کاماحول بہترکرنے کی ضرورت ہے،ہرپنچائت اوربڑی آبادی میں مثالی مکتب،مدرسہ اورہاسٹل کے ساتھ اسکول بنانے پرتوجہ کی جائے،اساتذہ کوتربیت دی جائے اورانہیں جدیدعصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیاجائے،اداروں میں اچھے ہاسٹل قائم کیے جائیں،جہاں طلبہ کلاس کے علاوہ کم ازکم 6گھنٹہ مطالعہ کرسکیں،گھروں میں بھی ایسانظم کیاجائے کہ طلبہ گھرپرروزانہ 6گھنٹے پڑھ سکیں،اگرایساکردیاگیاتویقیناًتعلیمی انقلاب آئے گا۔اس نشست میں،جناب شفیع مشہدی صاحب، جناب مولاناابوالکلام قاسمی شمسی،مولاناعتیق الرحمن صاحب، پروفیسر شاہد سمستی پور،مولاناامانت حسین صاحب،جناب خالدانورصاحب ایم ایل سی،جناب اخترالایمان صاحب ایم ایل اے، ڈاکٹر سید فضل اللہ قادری، عتیق الرحمن،مولانامحمدعالم قاسمی،جناب مفتی محمدنافع عارفی صاحب،جناب سیدافتخارانجم، جناب عارف حسین،جناب محمد کریم الدین صدیقی،جناب اسد الدین شاہ،جناب غلام غوث،جناب نوشاد خان،جناب ڈاکٹر فیض احمد، جناب رضوان احمد،جناب ڈاکٹر یعقوب اشرفی،جناب ڈاکٹر انوارالہدیٰ،جناب ایڈوکیٹ محمد خورشید عالم،جناب سراج انور،جناب ڈاکٹر مناظر حسن، جناب خالد سیف اللہ،جناب ڈاکٹر اظہار احمد،جناب ایس ایم اشرف فرید،جناب محمد سلام الحق،فیضان احمد، جناب عبد الواحد،جناب اعجاز الحق، جناب عارف حیدر، جناب اسلم جاوداں،جناب محمد قمر ثاقب، جناب خورشید حسن، جناب شوکت علی رضوی،جناب محمد جاوید،جناب محمد شاداب عرف چھوٹا بھائی،جناب اخترالایمان شاہین، جناب ڈاکٹر شکیل احمد خان،جناب محبوب عالم،جناب سید جاوید حسن،جناب سید شاہ محمد نوشادبخاری، جناب پروفیسر سعید عالم پٹنہ یونیور سیٹی،جناب آفتاب عالم صدیقی،جناب محمد قطب الدین، جناب حماد اللہ، اشرف فریدی،جناب نورالسلام ندوی،جناب محمد فضل حق،جناب ابوالکلام پھلواری شریف، جناب ارشاد الحق،جناب واجد شمس چمپارنی،جناب شمشیر علام، جناب کاشف احمد،جناب محمد فخر عالم،جناب ضیاء اللہ،جناب ایڈوکیٹ محمد مشتاق عالم،جناب محمد مشتاق احمد آزاد قومی تنظیم، جناب ڈاکٹر ظفرعالم، جناب شہنوازبدر قاسمی،جناب سعد احمدقاسمی،جناب اقبال احمد،جناب محمد سراج بسفی،جناب ڈاکٹر محمد شمیم الحسن، جناب محمدنعمت اللہ وغیرہ نے اظہارخیال کیا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com