اب پسمانده مسلمان بھگوا بریگیڈ کے نشانے پر

نواب علی اختر

جنوبی ہند میں پاؤں پسارنے اور اپنے موقف کو مستحکم کرنے کے مقصد سےحال ہی میں حیدرآباد میں اختتام پذیر بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوتوا کی سیاست کو ایک ایسے راستے پر لے جانے کی کوشش کی جو ان کی نظرایک ساتھ کئی منزلوں تک لے جا سکتی ہے۔ مودی نے پارٹی سے کہا ہے کہ یاترائیں نکال کر مسلم سماج کے پسماندہ طبقے کو اپنی طرف راغب کیا جائے۔ بی جے پی کی تاریخ اور حال کو دیکھتے ہوئے بھگوا پارٹی کے لیے یہ بہت مشکل کام ہے۔ اس لیے کہ اس پارٹی کواقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے کھلی ‘دشمنی’ کا اظہار کرنے کی وجہ سے ہی اقتدار نصیب ہوا ہے باوجود اس کے مودی کے تجربے کو پارٹی نے من وعن قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

یاترائیں ایک علامتی قسم کی سرگرمی بن کر بھی رہ سکتی ہیں لیکن اس اندیشے کے باوجود ہمیں پسماندہ تحریک کے ایک سرکردہ پیروکار کے حالیہ بیان کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ آرایس ایس،بی جے پی اور این ڈی اے نے مل کر نیو انڈیا نامی جو وسیع سیاسی مشین تیار کی ہے،اس میں نئی نئی باتیں سیکھنے کی بے مثال صلاحیت ہے۔ حالانکہ عملی طور پر یہ باتیں اب تک پھسڈی ہی ثابت ہوئی ہیں کیونکہ اس مشین میں کہیں نہ کہیں مسلمان پستا نظر آجاتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بی جے پی کا واحد مقصد ہندتوا کے نام پراقتدار کی ملائی کھانا ہے۔اس گروہ میں اگر واقعتاً ہندو یا ہندوتوا پریم ہوتا تو پچھلے دنوں سینکڑوں ہندووں کو واپس پاکستان نہیں جانا پڑتا جو سالوں سے سرحد پر پڑے شہریت کی بھیک مانگ رہے تھے۔

وہیں مختار عباس نقوی، جنہیں حال ہی میں راجیہ سبھا کی رکنیت سے محروم کرکے کابینہ سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا ہے،انہوں نے ایک بار ٹی وی ڈیبیٹ میں کہا تھا کہ بی جے پی مسلمان ووٹوں کے بغیر ہی اقتدار میں آئی تھی اور مستقبل میں بھی ان کے بغیر اقتدارحاصل کرے گی۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں ۔ نوپور شرما کی شیطنت اور اس کی دماغی بالیدگی نے مسلم اقوام کو ناراض کردیا ہے جس کے بعد اب موہن بھاگوت اور مودی کو ہندو اتحاد میں مسلم ووٹوں کا تڑکا لگانا ضروری لگنے لگا ہے۔اس حکمت عملی کے طول و عرض کثیر جہتی کہے جاسکتے ہیں۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ بھگوا بریگیڈ جو بھی فیصلہ کرتی ہے اس میں سیاسی مفاد پنہاں ہوتا ہے۔ بظاہر تو ہندو اور مسلمانوں کے لیے چکنی چپڑی باتیں ہوسکتی ہیں مگرباطن کچھ اور ہی ہوتاہے۔

بی جے پی جانتی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا اس کو پہلا اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس کی حکومت کی بین الاقوامی شبیہ بدلے گی۔ اس وقت مودی حکومت کی اقلیت مخالف شبیہ کی وجہ سے اس کے جمہوری کردار پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ جس میں یہ مانا جاتا ہے کہ ایسی تنگ نظر حکومت کے تحت سماجی امن اور استحکام قائم نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ریٹنگ ایجنسیوں کی طرف سے ہندوستان کی خود مختار درجہ بندی میں مسلسل گراوٹ آ رہی ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ کہیں یہ منفی سے گرکر گھٹیا کے زمرے میں نہ پہنچ جائے۔ اگر ایسا ہوا تو ہندوستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض ملنے میں مشکل ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے مودی، یوگی سمیت تقریباً تمام بی جے پی لیڈر مسلمانوں کے گُن گارہے ہیں۔

نوپور شرما کی شیطنت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے یہاں تک کہ کئی ممالک نے اپنے یہاں ہندوستانی مصنوعات پر پابندی لگادی جس سے ہندوستان کو مالی اعتبارسے کافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس حکمت عملی کا ایک دوسرا پہلو انتخابی ہے۔ قومی سطح پر بی جے پی کو تقریباً 8 فیصد مسلمانوں کے ووٹ ملتے ہیں۔ اب تک بی جے پی شیعہ اور بریلوی طبقہ کے ووٹوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہی ہے لیکن شیعہ طبقے سے تعلق رکھنے والے نقوی کی حکومت سے وداعی نے شیعہ برادری کو ناراض کردیا ہے اس کی بھرپائی کے لیے اب بی جے پی اپنے انتہائی محدود دائرے کو ترک کرکے سنیوں میں دراندازی کرنا چاہتی ہے جو خالص طور پر بھگوا بریگیڈ کے نشانے پر رہے ہیں۔

حالانکہ بی جے پی کی سنی طبقے کو اپنی طرف کھینچنے کی یہ کوئی نئی کوشش نہیں ہے۔اس سے پہلے کشمیر میں سنیوں کو بہلانے کی کوشش کی جاچکی ہے جس میں اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ اسی طرح بی جے پی شمال اور جنوبی ہندوستان میں بھی طویل عرصہ سے پاؤں پسارنے کی کوشش کررہی ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جو پارٹی پسماندہ مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے لیے نہ صرف شمال بلکہ جنوبی ہندوستان میں بھی توسیع کی راہیں آسان ہوجاتی ہیں۔ بی جے پی پسماندہ مسلمانوں کے نام پر تحریک کا منصوبہ بنارہی ہے مگر اس کی قیادت کے لیے اس کے پاس مسلم رہنما نہ ہونے پر سوال کیا جارہا ہے کہ کیا اب مسلمانوں کی رہنمائی بھی آرایس ایس کے لوگ کریں گے اور کیا مسلمان اسے قبول کریں گے؟

مجموعی طورسے یہی کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کی قومی عاملہ کا دو روزہ اجلاس میں آئندہ 40 برس تک اقتدار پر برقرار رہنے کا مژدہ سنانے کے علاوہ کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جس میں ملک کے عوام کو دلچسپی ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ بھگوا بریگیڈ کا جنوبی ہند میں اپنے موقف کو مستحکم کرنے کے واحد مقصد کے تحت اور ٹی آر ایس کے خلاف محاذ آرائی کو ایک قدم آگے بڑھا نے کے لیے یہ اجلاس حیدرآباد میں منعقد کیا گیا اور اس کو تشہیری حربے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ اجلاس میں امیت شاہ نے کہا کہ بی جے پی آئندہ 30-40 سال تک اقتدار پر برقرار رہے گی۔ اس سے قبل امیت شاہ نے کہا تھا کہ بی جے پی آئندہ 50 برس تک حکمرانی کرے گی۔ یہ در اصل آمرانہ سوچ اور روش کا نتیجہ ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com