نینی تال: نینی تال ہائی کورٹ نے مسلم پرسنل لا کے تحت 18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے دائر ایک پی آئی ایل کی سماعت کے بعد مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کو اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس وپن سنگھی اور جسٹس آر سی کھلبے کی ڈویژن بنچ کے سامنے ہوئی۔ کیس کے مطابق، یوتھ بار ایسوسی ایشن آف انڈیا نے ہائی کورٹ میں ایک پی آئی ایل دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کچھ عدالتیں، 18 سال سے کم عمر کی شادی کرنے کے بعد بھی نئے شادی شدہ جوڑے کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں پولیس تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے رہی ہیں، جیسا کہ مسلم پرسنل لا اس کی اجازت دیتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کی شادی، نابالغ لڑکی سے جسمانی تعلق اور کم عمری میں بچوں کو جنم دینے سے بچی اور نومولود کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک طرف حکومت پاکسو جیسے قانون لاتی ہے تو دوسری طرف 18 سال سے کم عمر لڑکی کو شادی کی اجازت دینا اس ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
18 سال سے کم عمر کی لڑکی کی شادی کو ناجائز قرار دیا جائے اور شادی کے بعد بھی اس کے ساتھ جسمانی تعلق کو ریپ کے زمرے میں رکھ کر ملزم کے خلاف پوکسو کے تحت کارروائی کی جائے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سے بڑھا کر 21 سال کرنے کا بل منظور کیا جائے اور جب تک یہ بل منظور نہیں ہوتا، عدالت کسی بھی ذات، مذہب میں ہونے والی شادیوں کو غیر قانونی قرار دے۔
فریقین کو سننے کے بعد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔

Leave a Reply