روز  مرہ کے معاملات میں سن ہجری کو فروغ دینا ہم سب کی ذمہ داری: مولانا عبد اللہ قاسمی

کانپور:  اسلامی کیلنڈر کے نئے سال 1444ہجری کا آغاز ہو رہا ہے، اپنی زندگیوں میں معاملات کو طے کروقت سن ہجری کے استعمال  کو رواج دیں، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کے بارے میں واقف کرائیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہار جمعیۃ بلڈنگ رجبی روڈ میں منعقدہ جلسہ استقبال اسلامی سال نو 1444ھ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ کے ریاستی نائب صدر مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے کہا کہ اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ جو نظام حیات اس دنیا میں لے کر آئے تھے اس کی بہت ساری چیزیں ایسی تھیں جن پر آپؐ اپنی حیات طیبہ میں ہی عمل درآمد کروانا چاہتے تھے، لیکن آپؐ کا وقت پورا ہوا اور اللہ رب العزت نے نبوت کے 23سال کے بعد آپ ؐکو واپس بلا لیا۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے کندھوں پر ذمہ داری آئی تو آپﷺ کی رحلت کے بعد نئے نئے چیلنجز مثلا مانعین زکوٰۃ کا مسئلہ، جھوٹے مدعیان نبوت کا مسئلہ اور مختلف محاذ پر آپؐ نے افواج روانہ کر رکھی تھیں،ان کے بہت سارے مسائل سامنے تھے، اس کو لے کر اتارچڑھاؤ کا دور رہا۔ ڈھائی سال میں سیدنا صدیق اکبرؓ نے ان تمام چیلنجز کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ وہ کام جو نبیؐ کے ذریعہ شروع کئے گئے تھے اور آپؐ کے جانے کے بعد اس میں جو کمی بیشی کے خطرات تھے، ان تمام خطرات کو دور کرکے تمام ذمہ داریاں خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر بن خطاب ؓ کے حوالے کر دیں۔ اب جو سیدنا حضرت عمر بن خطابؓ کی خلافت کا 10سالہ دور ہے اس میں وہ تمام امور جو شرعی نظام کا حصہ تھے اور جو نظام آپؐ لے کر آئے تھے اور اپنے سامنے ان پر عمل در آمد کرانا چاہتے تھے ان تمام کاموں پر صحیح اور زمینی سطح پر جو کام ہوا ہے وہ سیدناحضرت عمر بن خطاب ؓ کے دور میں ہوا ہے۔ اسی وجہ سے شرعی نظام کے بہت سارے معاملات وہ ہیں جن کی ابتداء حضرت عمرؓ کے زمانے میں ہوئی۔ انہیں میں ایک چیز ہے مسلمانوں کا اپنا ”سن“ یعنی کیلنڈر۔ حضرت عمرؓ کے سامنے مختلف مشورے آئے کہ حضورؓ کی ولادت، وفات، فتح مکہ یا ہجرت کے واقعہ سے اس کیلنڈر کی ابتداء کی جائے۔ اتفاق رائے سے طے ہوا کہ ہجرت کے واقعہ سے اس کی ابتداء کی جائے۔ یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے زمانے سے چلا آ رہا ہے اور حضرت عمرؓ اور ان تمام صحابہ کرامؓ کی یادگار ہے جنہوں نے خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ کے سامنے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ لیا تھا اور سن ہجری کی شروعات کی تھی، اس کا تحفظ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، اس لئے اس کی حفاظت کریں، اس کو رواج دیں، اپنی روز مرہ کی عملی زندگی میں اس کو معمول کا حصہ بنائیں۔ خاص طور پر مدارس، مساجد سے تعلق رکھنے والے طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ خود بھی اس کو ترجیح کے ساتھ زیادہ رواج دیں اور جہاں تک ان کی رسائی ہے عوام الناس کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھانے کی کوشش کریں کہ وہ سن ہجری کو اپنے روزمرہ کے معمولات، شادی بیاہ اور دیگر کاموں میں سن ہجری کے مطابق اپنے معاملات طے کریں۔

جمعیۃ علماء شہر کانپور کے نائب صدر مولانا نور الدین احمد قاسمی نے بتایا کہ محرم کام مہینہ اللہ کا مہینہ ہے۔ اللہ کے عجائب، اللہ کی قدرت اور طاقت کوظاہر کرنے والا مہینہ ہے۔ عالم کی تخلیق اسی محرم کے مہینہ میں ہوئی۔ حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے ظلم و جبر سے اسی مہینہ کے اندر نجات ملی۔ حضرت نوحؑ کی کشتی اسی مہینہ میں سوکھی جگہ پر رکی، حضرت ایوبؑ کو بیماریوں سے شفاء اسی مہینہ میں ملی، یہ مہینہ انتہائی حرمت و فضیلت والا ہے، اس کو منحوس کہنا قطعی مناسب نہیں ہے۔

سینئر سکریٹری زبیر احمد فاروقی نے کہا کہ ہم یوم شہادت پرخلیفہ دوم حضرت عمرؓ کو یاد کر رہے ہیں، اگر ہمیں حضرت عمرؓ سے محبت اور عقیدت ہے تو ہمیں اپنے کردار کی جانب توجہ دینا ہوگا۔ ان کی حیات طیبہ کودیکھنا، پڑھنا،سمجھنا ہے پھر اس پر عمل کرنے والا بننا ہے۔

شہری نائب صدر مولانا محمد اکرم جامعی نے کہا کہ قرآن میں جب اللہ نے اس مہینہ کو حرمت والا کہہ دیا تو اب قیامت تک یہ مہینہ احترام والا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس احترام والے مہینے کوسیدنا حضرت حسینؓ کی شہادت کیلئے اللہ نے انتخاب کیا۔ مسلمانوں کا اسلامی سال سن ہجری محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سارے عالم کیلئے یہ سال خوش آئنداور خوشگوار بنائے۔

حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیئرمین مفتی عبد الرشید قاسمی نے کہا ہم جہاں بھی رہیں، جب بھی تاریخ کا استعمال کریں تو اس موقع سن ہجری کو ضرور یاد رکھیں۔کوئی پروگرام ترتیب دیں تو پہلے چاند کی یعنی ہجری تاریخ لکھیں پھر مطابق کرکے شمسی تاریخ کا استعمال کریں، حضرت تھانوی علیہ الرحمہ نے بھی اس پر بڑا زور دیا ہے۔ مولانا اسامہ ؒ تو ہر سال پہلی محرم کو جلسہ کرواکر اس کی اہمیت سے واقف کراتے تھے۔ جب آپ ہجری تاریخ کا استعمال کریں گے تو یقینا اس کا ثواب اور اجر ملے گا۔

جلسہ کی صدارت شہری صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں اور نظامت مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے فرمائی۔ اس موقع پر نائب صدر محمود عالم قریشی، مولانا محمد انیس خاں قاسمی،

قاضی شریعت مولانا محمد انعام اللہ قاسمی، حامد علی انصاری، مولانا فرید الدین قاسمی، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مفتی اظہار مکرم قاسمی، قاری عبد المعید چودھری، حافظ محمد ریحان، مولانا سمیع اللہ جامعی، مولانا امیر حمزہ قاسمی، حافظ عبد الرشید، آفاق نعمانی، قاری محمد شفیق، حافظ محمد سلمان، مولانا محمد انس قاسمی، مولانا ابو اسامہ قاسمی، مولانا مفتاح قاسمی، مولانا محمد جاوید قاسمی، مولانا ایاز ثاقبی، محمد شفیع، مولانا قناعت اللہ مظاہری کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *