اگر اگست مہینے تک تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہوسکی تو مجبوراً احتجاج کرنا ہوگا۔
سیتامڑھی: (ملت ٹائمز – معراج عالم) اقلیتی بہبود کے وزیر اور ضلع انچارج وزیر محمد زماں خان کی یقین دہانیوں کے باوجود مدرسہ کے اساتذہ کی 43 ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نہیں ہو سکی ہے۔ 23 جون 2021 کو وزیر انچارج سیتامڑھی کے دورے کے لیے طے شدہ پروگرام میں مدرسہ کے اساتذہ ڈسٹرکٹ گیسٹ ہاؤس کے کیمپس میں دھڑنے پر بیٹھ گئے۔ وزیر زماں خان اساتذہ کے پرامن احتجاج سے بے حد متاثر ہوئے اور اساتذہ کے صبر وتحمل کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے اساتذہ کو یقین دلایا کہ وزیر اعلیٰ وزیر تعلیم سے ملاقات کر کے تنخواہوں کی ادائیگی ایک ماہ کے اندرکرائیں گے۔ لیکن انچارج وزیر کی یقین دہانی کے باوجود تاحال تنخواہ کی ادائیگی نہیں ہو سکی۔ واضح رہے کہ ضلع سیتا مڑھی کے609 زمرہ کے اساتذہ مدارس کو 43 ماہ سے تنخواہ نہیں مل رہی۔ جس کی وجہ سے ان اساتذہ کے لیے ضروریات زندگی و بیوی بچوں کے ساتھ خاندان چلانا مشکل ہو گیا ہے، اگر اگست ما ہ کے اخیر تک تنخواہوں کی ادائیگی شروع نہ کی گئی تو مدرسہ کے اساتذہ اب احتجاج اور بھوک ہڑتال کرنا ان کی مجبوری ہو گی اور شروع کر دیں گے۔
محمد ارمان علی، سابق صدر مدرسہ رحمانیہ مہسول، مولانا محمد انوار الحق، عبدالودود مظاہری، مدرسہ یونین کے رہنما محمد جلال الدین قریشی عرف نہال، قاری محمد مشتاق احمد، مولانا ضیاءالرحمن قاسمی، محمد طالب حسین آزاد، محمد مناظرالاسلام، محمد اجمل مولانا محمد غفران، مولانا زاہد حسین انصاری، محمد صابر، محمدمختار، احمد رضا آرزو، مولانا نذیر، سلیم درانی نے کہا ہے کہ انچارج وزیر محمد زماں خان اقلیتی بہبود کے وزیر ہیں۔ ایسے میں ہمیں امید تھی کہ زیر التواء تنخواہ کی ادا ئگی ہو جائے گی۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ وزیرموصوف نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا اگر اساتذہ کی ہمدردیاں ان کے دل میں ہوتی۔مگر آج بھی اساتذہ کے صبر کا انتہا دیکھئے کہ تنخواہ ملنے کے انتظار میں آج تک امید لگائے بیٹھا دیکھ رہا ہے۔ عید بقرعید کا تہوار بھی گزر گیا۔ 2459+1 زمرہ کے تحت 609 زمرہ کے مدرسوں کے اساتذہ کے لیے روٹی کھانا مشکل ہو گیا ہے۔ اب دکاندار ادھار دینے کو بھی تیار نہیں۔ تہواروں کی بات کو چھوڑ کر خاندان کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اب تک سات اساتذہ بھی انتقال کر چکے ہیں۔

Leave a Reply