کچی آبادی کے مکینوں کو پیشگی اطلاع کے بغیر بے دخل نہیں کیا جا سکتا، دہلی ہائی کورٹ نے ‘ڈی ڈی اے’ کو لگائی پھٹکار

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کو قومی راجدھانی دہلی میں کچی آبادی (جھگی جھونپڑیوں) کے باشندگان کو بے دخلی کا سامنا کرنے کے لیے مناسب وقت دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو بغیر کسی نوٹس کے بے گھر نہیں کیا جا سکتا۔ راتوں رات جھگیوں کو ہٹانے کی ڈی ڈی اے کی کارروائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جھگی جھونپڑی کے رہائشیوں کو بغیر نوٹس یا بغیر پیشگی اطلاع کے بلڈوزر چلاکر بے گھر نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس سبرامنیم پرساد نے منگل کو جاری کردہ ایک حکم میں کہا، ”ڈی ڈی اے کو ایسی کسی بھی کارروائی کو شروع کرنے سے پہلے ڈی یو ایس آئی بی (دہلی شہری پناہ گاہوں کو بہتر بنانے والے بورڈ) کے ساتھ مشاورت سے کام کرنا ہوگا اور لوگوں کو کسی نوٹس کے بغیر علی اصبح یا دیر شام ان کی دہلیز پر بلڈوزر چلاکر انہیں پوری طرح سے بے گھر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے افراد کو مسماری سے متعلق سرگرمی شروع کرنے سے پہلے مناسب مدت دی جانی چاہیے اور انہیں عارضی رہائش فراہم کی جانی چاہیے۔”

شکرپور میں واقع کچی آبادی کے رہائشیوں کی تنظیم ‘شکرپور سلم یونین’ کی طرف سے ہائی کورٹ میں دائر کردہ عرضی میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 25 جون کو بغیر کسی اطلاع کے ڈی ڈی اے کے اہلکار علاقے میں پہنچے اور 300 کے قریب جھگیوں کو مسمار کر دیا۔ عرضی میں مزید کہا گیا کہ مسماری کا عمل 3 دن تک جاری رہا اور متعدد رہائشی، جن کی جھونپڑیوں کو گرایا گیا، اپنا سامان بھی نہیں اٹھا سکے۔ دریں اثنا، ڈی ڈی اے کے اہلکاروں کے ساتھ موجود پولیس افسران نے مکینوں کو موقع سے ہٹا دیا تھا۔

دلائل سننے کے بعد عدالت عالیہ نے کہا کہ ڈی ڈی اے کی طرف سے کسی شخص کو تجاوز کرنے والا قرار دے کر، اس کی رہائش گاہ سے راتوں رات ہٹانے کی کارروائی قبول نہیں کی جا سکتی۔ ڈی ڈی اے کو اس طرح کا کوئی بھی اقدام لینے سے قبل ڈی ایس یو آئی بی کے ساتھ مشاورت سے کام کرنا ہوگا۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسے افراد کو مناسب مدت دی جانی چاہیے اور انہدام کی کوئی سرگرمی شروع کرنے سے پہلے انھیں عارضی رہائش فراہم کی جانی چاہیے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com