یتی نرسمہانند نے پھر اُگلا زہر، کہا – ہندوؤ! ہر گھر ترنگا مہم کا بائیکاٹ کر بھگوا جھنڈا لگاؤ، پیسہ مسلمانوں کو جا رہا ہے!

ہندوستان کی آزادی کے 75 سال پورے ہونے کے موقع پر مودی حکومت کی طرف سے آزادی کے امرت مہوتسو کے تحت ‘ہر گھر ترنگا’ مہم چلائی جا رہی ہے۔ وہیں غازی آباد واقع ڈاسنا دیوی مندر کے پیٹھادھیشور اور جونا اکھاڑے کے مہامنڈلیشور یتی نرسنہانند گری نے اس مہم کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے ہندوؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم کا بائیکاٹ کریں۔ ‘دینک بھاسکر’ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے ہندوؤں سے کہا ہے کہ ”ترنگے کا بائیکاٹ کرو، کیونکہ اس ترنگے نے تمھیں ہی برباد کر دیا ہے۔ ہر ہندو کے گھر پر ہمیشہ بھگوا پرچم ہونا چاہیے۔”

اس رپورٹ کے مطابق نرسنہانند کا کہنا ہے کہ ”اس ملک میں ترنگے کے نام پر ایک بہت بڑی مہم چل رہی ہے۔ یہ مہم ہندوستان کی برسراقتدار پارٹی چلوا رہی ہے۔ ترنگے بنانے کا سب سے بڑا آرڈر بنگال کی ایک ایسی کمپنی کو دیا گیا ہے جس کا مالک صلاح الدین نام کا ایک مسلمان ہے۔” انھوں نے مزید کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے پاکھنڈی ہندو ہیں۔ ہندوؤں کے دلال مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی بات کرتے ہیں، وہ چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ کرنا چاہیے، لیکن حکومت بننے کے بعد وہ سرکاری ٹھیکے بھی مسلمانوں کو دے دیتے ہیں۔

نرسنہانند گری اتنے پر ہی خاموش نہیں ہوئے۔ انھوں نے زہر افشانی کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ مہم ہندوؤں کے خلاف سازش ہے۔ ہندوؤ! اگر زندہ رہنا ہے تو مسلمانوں کو پیسے دینے والی اس مہم کا بائیکاٹ کرو۔ گھر پر ترنگا لگانا ہے تو کوئی پرانا ترنگا لگا لو، لیکن اس طرح سے صلاح الدین کو ایک پیسہ بھی مت دو۔” وہ مزید کہتے ہیں ”ان لیڈروں کو سبق سکھاؤ۔ کسی بھی مسلمان کے پاس جب ہندو کا پیسہ جاتا ہے تو وہ جہاد کے لیے زکوٰۃ دیتا ہے اور وہی زکوٰۃ کا پیسہ ہندوؤں اور ہندوؤں کے بچوں کے قتل کے لیے کام آتا ہے۔ ترنگے کا ہی بائیکاٹ کرو، کیونکہ اس ترنگے نے تمھیں ہی برباد کر دیا ہے۔ ہر ہندو کے گھر پر ہمیشہ بھگوا پرچم ہونا چاہیے۔”

نرسنہانند گری کی زہر اگلے والی یہ ویڈیو وائرل بھی ہو رہی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نرسنہانند کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نرسنہانند گری کے زہریلے الفاظ کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی بار وہ متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔ اس سے پہلے ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں نرسنہانند گری نے کہا تھا کہ ”مہاتما گاندھی نے ہزاروں ہندوؤں کا قتل کروا دیا، ہندوستان میں مسلمانوں کا اختیار کروا دیا۔ ان کی وجہ سے 100 کروڑ کی ہندو کمیونٹی کے پاس آج بھی ایک انچ رہنے کے لیے اپنی جگہ نہیں ہے۔ آج بھی اس کی وجہ سے ہمارے سَنت مہاتما جیل جا رہے ہیں۔” وائرل ویڈیو میں نرسنہانند گری نے مہاتما گاندھی کو لے کر کئی نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا تھا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com