بلقیس بانو کے مجرموں کو رہا کرنے سرکار کا شرمناک فیصلہ: پروفیسر اختر الواسع

نئی دہلی: (ملت ٹائمز) مشہور دانشور اور سماجی بنیاد گذار پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے آج ایک بیان میں اس بات پر سخت رنج و غم کا اظہار کیا ہے کہ گجرات سرکار نے ۲۰۰۲ء میں ہوئے گجرات فسادات کے دوران پانچ مہینے کی حاملہ بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی طور پر زنا باالجبر کرنے والوں اور تقریباً ایک درجن بے قصور و معصوم لوگوں کا جس میں بلقیس بانو کی تین سال کی بیٹی بھی تھی، کے قاتلوں پر رحم کرتے ہوئے ان ۱۱لوگوں کو رہا کر دیا گیا جن کو باضابطہ عدالتوں سے عمر قید کی سزائیں دی گئی تھیں۔

 پروفیسر واسع نے کہا کہ حکومت گجرات نے یہ فیصلہ آزادی کے امرت مہوتسو پر ان لوگوں کے لیے کیا جنہوں نے فرقہ وارانہ منافرت کے نتیجے میں ایسی بہیمانہ اور وحشیانہ حرکتیں کیں اور ساری دنیا میں وطنِ عزیز کی بدنامی کا سبب بنے تھے۔ سب سے افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت گجرات نے یہ بدبختانہ قدم اس دن اٹھایا جب وزیر اعظم شری نریندر مودی، لال قلعہ کی فصیل سے دنیا کو عورتوں کے احترام، توقیر اور قومی تعمیر میں موثر حصہ داری کی تلقین کر رہے تھے۔ اس طرح حکومت گجرات کا یہ فیصلہ خود وزیراعظم کی ہتک اور توہین والا ہے۔

 پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے گجرات میں ایسا ہوگا، یہ ناقابل یقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ اور سپریم کورٹ نے بھی اس طرح کے بے رحم لوگوں کے لیے رحم کی کسی بھی درخواست کو قبول نہ کئے جانے کے لیے احکامات دیے اور فیصلے سنائے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت گجرات اپنا فیصلہ واپس لے اور اور ان مجرموں کو ایک بار پھر جیل میں ڈال دیا جائے تاکہ دنیا میں ملک کا وقار مجروح نہ ہو اور خواتین سمیت تمام مظلوموں کا ملک کے قانون میں اعتماد بحال ہو سکے۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *