ڈاکٹر یامین انصاری کے منتخب مضامین کا مجموعہ ’صدائے دل‘ کی تقریب رسم اجراء

نئی دہلی: (وسیع الر حمن عثمانی) روزنامہ انقلاب کے ریزیڈنٹ ایڈیٹرڈاکٹر یامین انصاری کے منتخب مضامین کامجموعہ ’صدائے دل‘ کی تقریب رسم اجرا ء نظام الدین میں واقع غالب اکیڈمی میں عمل میں آئی۔ تقریب کی صدارت سابق ممبر پارلیمنٹ شاہدصدیقی نے کی۔انہوں نے کہا کہ بیشتر صحافی دماغ سے لکھتے ہیں اگر اس میں دل شامل نہ ہو تو صحافت کمزوراور بے معنی ہوجاتی ہے اور یہ مشن کی جگہ ایک پیشہ بن جاتی ہے،مگر یامین انصاری کی صحافت میں دل اور دماغ دونوں شامل ہیں اور یہی خوبی ان کی کتاب صدائے دل میں ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج اردو کے صحافی شکایتیں کرتے ہیں یہ بالکل مناسب بات نہیں ہے آج کی صحافت کا دور سب سے بہترین دورہے آج تمام تک آسانیاں اور سہولیات موجود ہیں پہلے کے صحافیوں نے صحافت کو زندہ رکھنے کے لئے بڑی قربانیاں دیں، آج قارئین کی تعداد کم ضرور ہوئی ہے حوصلے اور ہمت کے ساتھ اس کو بڑھایا جا سکتا ہے، روزنامہ انقلاب اس کی زندہ مثال ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر ابن کنول نے کہا کہ صحافت بہت مشکل فن ہے، ادیب جو افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد، محقق، شاعر ہے صحافت ان میں سب سے زیادہ مشکل فن ہے، ایک ادیب کو لکھنے سے پہلے بہت وقت ملتا ہے مگر صحافی کے ساتھ ایسا نہیں ہے اگر صحافی بہت دیر تک سوچے گا تو وہ پیچھے رہ جائے گا، اسے تو ایک یومیہ مزدور کی طرح کام کرنا پڑتاہے،دوسرا ادیب مبالغہ سے کام لے لیتا ہے مگر صحافی ایسا نہیں کر سکتا، اس کو توبس سچ بیان کرنا ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا، تو وہ اپنے پیشے کے ساتھ دیانتداری نہیں کررہا۔ انہوں نے کہا کہ صدائے دل جو مضامین کا مجموعہ ہے،اس میں صحافت، ثقافت، ادب اور دیگر موضوعات پر لکھا گیا ہے، ایک صحافی کے لیے مختلف موضوعات پر دسترس حاصل کرنا بڑی کامیابی اور صلاحیت کی بات ہے جو سبھی میں نہیں ملتی۔

مہمان اعزازی پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ ہر کالم کی اپنی اہمیت ہوتی ہے لیکن ڈاکٹر یامین کے کالم کا معاملہ یہ ہے کہ یہ صحیفہ دل ہیں، اس کے لئے میں ان کومبارک باد پیش کرتا ہوں،یعنی جو یہ دیکھتے ہیں وہی لکھتے ہیں، لوگوں کو ملک کے موجودہ حالات پرتشویش ہے، میں سمجھتا ہوں کہ رات چاہے کتنی لمبی ہو، ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہئے، صبح ضرور ہوگی، سرکاروں کی مخالفت وطن کی مخالفت نہیں ہے،اس فرق کوہمیں سمجھنا چاہئے۔ مہمان اعزازی روزنامہ انقلاب کے ایڈیٹر ودود ساجد نے کہا کہ بہت سے لوگوں کی تحریریں ان کی تقریروں سے میل نہیں کھاتی اور بہت سے لوگوں کی تقریریں ان کے عمل سے میل نہیں کھاتی،یہ بڑا مشکل ہے بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کی تقریریں، تحریریں اور عمل آپس میں میل کھائیں لیکن صدائے دل کے عنوان سے جو مضامین چھپتے ہیں ڈاکٹر یامین ان کا مجسمہ ہیں، میں امید کرتا ہوں کہ’صدائے دل‘ کی جتنے عرصہ میں آئی ہے اس سے کم عرصہ میں دوسری کتاب جلد ہی سامنے آئے گی۔

سابق ایڈیٹر شکیل حسن شمسی نے کہاکہ یامین انصاری کومیں جانتا تھااور ان کی صحافتی صلاحیتوں کامعترف تھا، جس کے لئے میں نے ان کو ریزیڈنٹ ایڈیٹر بنایا، یہ پہلے ایسے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہوں گے جنہیں ایڈیٹر اپنی تحریر لکھ کر پڑھنے کے لئے دیتا تھا،میں موضوع گفتگو لکھ کر ان کوپڑھنے کے لئے دیتا تھا اور یہ اس کو پڑھ کرمجھے تبدیلی کے لئے کہتے تھے اور میں اس کو کیا کرتا تھا، میں آج ان کی صلاحیتوں کے اعتراف کے لئے یہاں آیا ہوں میری خواہش ہے کہ ان کی کتاب صدائے دل بے حد مقبول ہو۔ڈاکٹر یامین انصاری نے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کتاب کا تعارف پیش کیا۔دیگر مقررین میں سینئر صحافی سہیل انجم، ڈاکٹر شفیع ایوب،سراج نقوی، ڈاکٹرابھے کمار، متین امروہوی (منظوم)احمد علی برقی (منظوم) نے کتاب پر اظہار خیال کیا۔تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر حفیظ الر حمن نے بخوبی انجام دیے۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *