بنگلور یونیورسٹی کو بھگوا رنگنے کی کوشش کیمس میں گنیش مندر تعمیر کی مخالفت میں طلبہ کا احتجاج

بنگلور: (نازلی صدیقی) بنگلور یونیورسٹی میں گنیش مندر تعمیر کا تنازعہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ مندرکی تعمیر کی مخالفت میں چہار شنبہ سے احتجاج جاریِ ہے۔ بنگلور یونیورسٹی کے طلباء نے جمعرات کو کیمپس میں گنیش مندر منتقل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ طلباء نے کہا کہ رجسٹرار اور وائس چانسلر کی مخالفت کے باوجود بروہت بنگلورو مہانگرا پالیکے (بی بی ایم پی) یونیورسٹی کے احاطے کے اندر مندر کی منتقل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

معاملہ یہ ہے کہ میسور روڈ پر بنگلور ر یونیورسٹی کے گنان بھارتی کیمپس میں یہ گنیش مندر موجود تھا تاہم سڑک کی توسیع کے موقع پر بی بی ایم پی نے بنگلور یونیورسٹی میں مندر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

یونیورسٹی کے طلباء نے بی بی ایم پی کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئےکہا کہ یونائیٹڈ گرانٹس کمیشن (یو جی سی) گائیڈ لائن کے مطابق یونیورسٹی تعلیم حاصل کرنے کی جگہ ہے نہ کہ مذہب پر عمل کرنے کی۔

طلباء نے یہ بھی کہا کہ بی بی ایم پی “یونیورسٹی کو بھگوا بنانے” کی کوشش کر رہی ہے اور مندر پر ہی صرف پیسہ خرچ کر رہی ہے۔

طلباء اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایس ایم جے شنکر نے جاے تعمیر پہنچ کر بی بی ایم پی عملے سے کام روکنے کی اپیل کی،اس کی باوجود کام جاری رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی معلومات نہیں ہے جس میں انہیں کیمپس کے اندر ایک مندر بنانے کی اجازت دی۔تاہم عملے نے وضاحت کی کہ مندر بنانے کا فیصلہ اس وقت لیا گیا جب کے آر وینوگوپال وائس چانسلر تھے۔

 ایک طالب علم نے کہا کہ مندر کے بجائے وہاں طلباء کے لئے لائبریری بنایا جانا چاہیے۔

کرناٹک میں حجاب تنازعہ کے دوران ایجوکیشن منسٹر نے امتحانات کے موقع حجاب پہننے والے اساتذہ کو احتجاجی عمل میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے خلاف فیصلہ کیا اور کہا کے یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جبکہ اب خود بی بی ایم پی ایک تعلیمی ادارے میں ایک مندر منتقل کر رہی ہے۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *