مسلم پرسنل لاء: ایک بار پھر قانون کی زد میں

پروفیسر اخترالواسع

 حالیہ دنوں میں ملک کی عدالت عالیہ کے اندر پھر سے مسلم پرسنل لاء کے چند مسائل کو زیر بحث لانے کی راہ اختیار کی گئی ہے۔ان میں طلاق احسن، حلالہ اور تعدد ازدواج پر بحث متوقع ہے۔ یہ عجیب بد قسمتی ہے کہ ملک میں باشندوں کو در پیش بے شمار سنگین مسائل کے ہوتے ہوئے مسلم پرسنل لاءکے ان مسائل کو شد ومد کے ساتھ نہ صرف بار بار اٹھایا جاتا ہے بلکہ ملک کے فرقہ ورانہ ماحول کو ان بنیادوں پر گرم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو مسلمانوں کی داخلی زندگی کا حصہ ہیں، اور ان کے لئے مذہبی شناخت کا درجہ رکھتے ہیں۔

 یوں تو ملک عزیز میں مسلمانوں کے چند ہی ایسے عائلی مسائل ہیں جن پر انھیں دستور کے مطابق اسی طرح عمل کرنے کی آزادی دی گئی ہے جس طرح دوسری مذہبی اقلیتوں اور کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو حاصل ہے۔ یہ مسائل مسلمانوں کے مذہب اور ان کی شرعی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ کوئی موجودہ دور کی پیداوار بھی نہیں ہیں بلکہ اسلام کے آغاز سے یعنی ڈیڑھ ہزار برس سے مسلمانوں کی زندگی میں رچے بسے ہیں۔ اور پھر نہ صرف اس ملک کے مسلمان بلکہ پوری دنیا میں رہنے والے اسلام کے پیرو کار‘ ان پر عمل کرتے ہیں۔ پھر بھی ان پر قانونی داؤ پیچ کی نئی بزم سجائی جاتی ہے، اور ملک وقوم کے وسائل کا کافی حصہ ان پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔

 حلالہ کے مسئلہ کو لے لیجئے، پچھلے دنوں میں اس پر کافی بحثیں کی گئی ہیں، اور اسلامی قانون کے ماہرین نے یہ بات واشگاف کر دی ہے کہ حلالہ اسلامی قانون میں سرے سے نہیں ہے۔ یہ مسلم پرسنل لاء میں کہیں بھی درج نہیں ہے۔سماج میں اگر کہیں یہ چیز موجود بھی ہے تو وہ اسی طرح سماجی برائی ہے جیسی صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے یہاں ایسی بہت سی برائیاں پائی جاتی ہیں۔ اسلام کی نظر میں حلالہ جیسا عمل لعنت کا مستحق ہے۔ ابو داؤد شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حلال بنانے والے اور حلال کروانے والے دونوں پر لعنت کی ہے۔ (ابو داود، حدیث نمبر: 2076) قرآن کریم میں دراصل اس ضمن میں ایک استثنائی صورت کو بیان کیا گیا ہے۔ اگر کسی خاتون کو تین طلاق ہو گئی ہے تو وہ اب اپنے اسی طلاق دینے والے شوہر کے ساتھ نیا نکاح نہیں کر سکتی ہے۔ ہاں دوسری جگہ اس کا نکاح ہو سکتا ہے، اور دوسرا نکاح بھی کسی وجہ سے ختم ہو جائے تو اب وہ اپنے پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔ گویا تین طلاق کے بعد اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہونے کی یہ ایک امکانی صورت ہے۔ تو پھر اس کا تعلق اس بدترین عمل سے کیسے ہو سکتا ہے جو سنجیدہ نکاح نہیں بلکہ جنس وزر کا منصوبہ بند کھیل ہو۔

 جہاں تک طلاق احسن کا معاملہ ہے، تو یہ طلاق دینے کا ایک سنجیدہ اور معقول طریقہ ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ اگر صلح صفائی کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں، اور وہ دونوں فریق علاحدگی ہی کو اپنے لئے بہتر سمجھنے لگ جائیں تو ایسی صورت میں شوہر‘ بیوی کی پاکی کے دنوں کا انتظار کرے اور پاکی کے دنوں میں شوہر صرف ایک طلاق رجعی دے۔ اس طلاق کے بعد میاں بیوی ایک ہی چھت کے نیچے رہیں گے اور تین ماہ کی عدت کے گذرنے کا انتظار کریں گے۔ اس دوران دونوں کو اپنے فیصلہ پر نہ صرف ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنے کا موقع ملے گا، بلکہ ایک چھت کے نیچے ہونے کی وجہ سے اس بات کا بھی نفسیاتی طور پر قوی موقع ہوگا کہ زبانی یا کسی ازدواجی نوعیت کے ذریعہ دونوں طلاق سے رجوع کر لیں۔ عدت کی مدت پوری ہونے کے بعد یہ طلاق جو رجعی تھی ‘ اب بائن ہو جائے گی، یعنی اب رجوع کرنے کا اختیار ختم ہو جائے گا اور دونوں علاحدہ ہو جائیں گے، لیکن چونکہ یہاں ایک طلاق رجعی ہی دی گئی ہے اس لئے عدت کی مدت گذرنے پر یہ طلاق بائن ہو جانے کے بعد بھی ان دونوں کو از سر نو نکاح کر کے نئی زندگی کے آغاز کا موقع باقی رہے گا، اور نئے نکاح کے بعد دو طلاق کے اختیارات باقی رہیں گے۔ یہ طلاق احسن ہے۔

 اس کے بعد طلاق کی دوسری قسم طلاق حسن ہوتی ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان نا اتفاقی‘ صلح صفائی کی تمام تر کوششوں کے بعد بھی اس مرحلہ کو پہنچ جائے کہ وہ دونوں علاحدگی کو اپنے لئے بہتر سمجھنے لگیں تو ایسے موقع پر عورت کی پاکی کے دنوں میں شوہر ایک طلاق رجعی دے۔ اس طلاق کے بعد دونوں میاں بیوی ایک ہی چھت کے نیچے رہیں گے، بہت ممکن ہے کہ دونوں اپنے فیصلے پر شرمندہ ہوں، اور ازدواجی زندگی کو برقرار رکھنے پر آمادہ ہو جائیں، تو شوہر کا زبان سے رجوع کر لینا یا دونوں کا ازدواجی طور پر ساتھ رہنے لگ جانا کافی ہوگا، اور بغیر کسی مزید عمل کے وہ دونوں میاں بیوی ہو جائیں گے۔ لیکن اگر اگلی ماہواری کے بعد پاکی کے دن آجانے تک وہ دونوں اپنے سابق رائے پر باقی رہتے ہیں تو شوہر دوسری طلاق دے گا۔ اب پھر دونوں ایک ہی چھت کے نیچے رہیں گے ، اور انھیں اپنی ازدواجی زندگی کے آغاز کا سابق طریقہ پر موقع باقی رہے گا۔ پھر اگلی ماہواری کے بعد پاکی کے دنوں میں وہ اپنے سابق فیصلے اور عمل پر برقرار ہیں تو شوہر اب تیسری اور آخری طلاق دے گا اور اس طرح تین طلاقیں مکمل ہو جائیں گی۔ اس کے بعد بیوی اپنی عدت پوری کرے گی اور دونوں میں دائمی جدائیگی ہو جائے گی۔ یہی طلاق حسن ہے۔ اس میں نہ صرف سنجیدگی سے اور ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ غور کرنے کے لئے ایک لمبا وقفہ مہیا ہوتا ہے بلکہ ایک چھت کے نیچے دونوں کے رہنے سے اس بات کا بھی نفسیاتی طور پر قوی امکان پیدا ہوتا ہے کہ وہ طلاق سے رجوع ہو جائیں۔ طلاق کی یہ صورت طلاق حسن کہلاتی ہے۔ اور دیکھا جا سکتا ہے کہ اس میں نہ صرف سوچ سمجھ کر دونوں کی رضا مندی کے ساتھ طلاق کا فیصلہ لیا جا رہا ہے، بلکہ کم وبیش تین ماہ کی مدت بھی اس طرح گذرتی ہے کہ دونوں ایک ہی جگہ ہوتے ہیں اور طلاق سے با آسانی رجوع کر لینے کا قدم قدم پر موقع مہیا رہتا ہے۔ کیا طلاق دینے کی ان دونوں سے بہتر بھی کوئی صورت ہو سکتی ہے۔

 زیر بحث ایک مسئلہ تعدد ازدواج کا بھی ہے۔ ایک سے زائد شادی کو قرآن نے سماج کے گمبھیر مسئلہ کے حل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسلامی شریعت نے گھر کی تمام تر مالی ذمہ داری اور خاتون اور بچوں کی کفالت صرف مرد پر رکھی ہے۔ چاہے عورت کتنی ہی مالدار ہو، یہ ذمہ داری قانوناً مرد ہی پر ہوتی ہے۔ بیوی کے لئے علاحدہ رہائش کی فراہمی بھی مرد کی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام نے جنسی بے راہ روی پر سخت روک لگائی ہے۔ زنا کو سماج کا سنگین جرم اور اس کی آمدنی کو حرام بنایا ہے۔ سماج کو پاکیزہ رکھنے کے لئے اسلام نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ کوئی مرد یا عورت بے شادی شدہ نہ رہے۔ نوجوان مرد وعورت ہی نہیں بلکہ طلاق یافتہ اور بیوہ خواتین و مرد بھی شادی کے بندھن سے جڑ جائیں۔ اس تصور کی عملی صورت گری کو معقول طریقہ پر پیش کرتے ہوئے قرآن نے کہا ’اگر تم عدل اور انصاف کر سکتے ہو اور تمہارے اندر مالی اور جسمانی استطاعت ہے تو ایک سے زائد خواتین کے قانونی ذمہ دار بن سکتے ہو، اور یہ اجازت بھی چار تک ہی محدود رہے گی، اور اگر ایسی مالی اور جسمانی حیثیت نہیں ہے تو پھر ایک نکاح پر ہی اکتفاءکرو‘۔ اسلام میں ازدواجی ناانصافی پر سخت ترین وعید بھی سنائی گئی ہے۔ یہی ہے تعدد ازدواج۔ اور چونکہ یہ مزید ذمہ داریوں کا اٹھانا ہے اس لئے مسلم سماج میں بالخصوص موجودہ وقت میں ایک سے زائد نکاح کی مثالیں بہت ہی کمیاب بلکہ ہمارے ملک میں نایاب کہی جا سکتی ہیں۔ تعدد ازدواج کی یہ روح ہمیں پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کے نکاحوں کے اندر ملتی ہے کہ آپ نے 54 سال کی عمر کے بعد ان بیوہ اور مطلقہ خواتین سے نکاح فرمائے جن کی ذمہ داریوں کو اٹھانا آپ نے ضروری سمجھا، اور جہاں سے ازدواجی روابط کے بڑے انسانی اور سماجی مصالح تھے۔ آج بھی اگر سماج کو جنسی پاکیزگی سے آراستہ رکھنا ہے اور بے شادی شدہ کمزور خواتین کو صرف سامان تفریح نہیں بلکہ بیوی کے قانونی مقام اور اعلیٰ حیثیت پر لانا ہے جہاں انھیں نہ صرف شوہر کی جائیداد میں حصہ ملے بلکہ اس کی اور اس کے بچوں کی ہر طرح کی کفالت ہو، اور عزت وسکون کی زندگی وہ گذار سکیں، تو اس کے لئے اسلام کے اس معقول تعدد ازدواج سے بہتر کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔ تعدد ازدواج مردوں کے لئے ایک ذمہ داری اور خواتین کے لئے حقیقی معنوں میں اعزاز ہے۔

(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) ہیں)

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com