ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈین خواتین کو ملازمت کے بازار میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ مردوں سے کم کماتی ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس یکساں قابلیت اور تجربہ ہے۔
آکسفیم انڈیا کی امتیازی رپورٹ سنہ 2022 خواتین کی کم اجرت کے لیے تعصبات کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دیگر پسماندہ کمیونٹیز کو بھی ’جاب مارکیٹ‘ میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں ذات پات کے نظام کے نچلے حصے میں رہنے والے، قبائلی اور مسلم کمیونٹی کے افراد شامل ہیں۔
آکسفیم انڈیا کے سی ای او امیتابھ بہار نے کہا کہ ’لیبر مارکیٹ میں امتیازی سلوک تب ہوتا ہے، جب ایک جیسی صلاحیتوں کے حامل لوگوں کے ساتھ ان کی شناخت یا سماجی پس منظر کی وجہ سے مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق ’خواتین اور دیگر سماجی زمروں کے لیے عدم مساوات صرف تعلیم یا کام کے تجربے تک ناقص رسائی کی وجہ سے نہیں بلکہ امتیازی سلوک کی وجہ سے ہے۔‘
آکسفیم کے محققین نے سنہ 2004 سے سنہ 2020 تک مختلف سماجی گروپوں کے درمیان ملازمتوں، اجرتوں، صحت اور زرعی قرض تک رسائی کے سرکاری اعداد و شمار کو دیکھا اور امتیازی سلوک کو درست کرنے کے لیے شماریاتی ماڈلز کا استعمال کیا۔
انھوں نے دیکھا کہ اوسطاً ہر ماہ مردوں نے عورتوں کے مقابلے میں 4,000 روپے زیادہ کمائے۔ غیر مسلموں نے مسلمانوں سے 7,000 روپے زیادہ کمائے اور ذات پات کے نظام اور قبائلیوں نے دوسروں کے مقابلے میں 5,000 روپے کم کمائے۔
خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے لیے انڈیا پر تنقید کی جاتی ہے، جہاں سالانہ لاکھوں لڑکیوں کو اسقاط حمل کے ذریعے دنیا میں ہی نہیں آنے دیا جاتا، جس کی وجہ سے جنسی تناسب میں خوفناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ پیدائش کے وقت سے ہی خواتین کی اکثریت امتیازی سلوک، تعصب، تشدد اور نظر اندازی کا سامنا کرتی ہے، جس کا انھیں عمر بھر سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بات بھی اچھی طرح سے معلوم ہے کہ لیبر فورس میں صنفی عدم مساوات ہے۔ عام طور پر افرادی قوت میں خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔
انڈین حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2020-21 میں خواتین کی لیبر مارکیٹ میں کل تعداد 25.1 فیصد بنتی ہے جو کہ برازیل، روس، چین اور جنوبی افریقہ جیسے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہ صرف کافی کم ہے بلکہ ملک کے اندر بھی اس میں بہت بڑی کمی واقع ہوئی ہے یعنی یہ 2004-05 میں 42.7 فیصد بنتی تھی۔
آکسفیم رپورٹ کے مطابق یہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ اس مدت کے دوران انڈیا میں تیز رفتار اقتصادی ترقی کے باوجود افرادی قوت سے خواتین کو باہر رکھنے کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں وبائی مرض نے اس رجحان کو تیز کیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران چونکہ ملازمتیں کم ہو گئیں تو اس وجہ سے سب سے زیادہ خواتین کو گھر بھیجا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صنفی امتیاز کی اعلیٰ ڈگری بہترین تعلیم یافتہ خواتین کے ایک بڑے طبقے کی مظہر ہے، جو گھریلو ذمہ داریوں یا سماجی حیثیت کی وجہ سے لیبر مارکیٹ میں شامل نہیں ہونا چاہتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے علاوہ تاریخی طور پر مظلوم گروہ جیسے دلت (اچھوت)، قبائلی اور مذہبی اقلیتیں جیسے کہ مسلمان بھی ملازمتوں، ذریعہ معاش اور زرعی قرض تک رسائی میں امتیازی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض کے ابتدائی مہینوں کے دوران بے روزگاری میں سب سے زیادہ اضافہ 17 فیصد مسلمانوں کے لیے ہوا ہے۔
امیتابھ بہار کہتے ہیں کہ ہندوستانی معاشرے میں امتیازی سلوک کا زوال نہ صرف سماجی اور اخلاقی ہے بلکہ اقتصادی بھی ہے، جس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا کو امتیازی سلوک سے پاک کرنے کے لیے حکومت، سیاسی جماعتوں، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا چاہیے۔
(بشکریہ بی بی سی اردو)

Leave a Reply