مدارس اسلامیہ میں عصری علوم کی شمولیت قابل ستائش: آل انڈیاعلماءبورڈ

ممبئی: (طفیل ندوی) انجمن اسلام میں آل انڈیا علماء بورڈ کے ارکان عاملہ کی میٹینگ منعقدکی گئی جس میں بورڈ کے نائب صدر مولانا نوشاد احمد صدیقی نے کہا کہ بہت عرصے سے ملک کے علماء و دانشوران کا مطالبہ تھا کہ مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں مرور زمانہ کے اعتبار سے تبدیلی کی جائے کیونکہ نصاب بدلتے حالات کے منظر نامہ کا نام ہے نہ کہ جمود کا لیکن ہمیشہ کی طرح ہربار ہمارے اکابر اسے مسترد کردیا کرتے تھے ،لیکن فی الوقت علماءودانشوران نے متفق طورپر تبدیلی نصاب و نظام پر آمادہ ہوگئےجوایک خوش آئندقدم ہے، اس تبدیلی سے جہاں زمانہ شناس علماء و ائمہ پیدا ہوںگے وہیں عصری علوم کی طرف قدم بڑھانیوالے طلبہ کا مستقبل بھی ان شاءاللہ تابناک ہوگا،بورڈ کےقومی جنرل سیکرٹری علامہ بنی حسنی نے کہا کہ مدارس شکچھاکے مندر ہیں جہاںغریبوں کی اولاد نہ صرف پڑھتی ہے بلکہ مکمل قیام وطعام کیساتھ ان کی پرورش بھی کی جاتی ہےجس کی مدارس اسلامیہ کوئی فیس نہیں لیتا اس لئے ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ بعض مدارس میں اگرتعمیری اعتبارسے کاغذات میںکچھ کمی بھی پائی جائے تو اسے تحفظ دیا جائے نہ کہ بلڈوزر چلاکراسےزمیں بوس کردیاجائےگفتگوجاری رکھتےہوئےمولانا محمد شمیم اختر ندوی ناظم تنظیم بورڈ نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح ہمارے ارکان عاملہ کی یہ میٹنگ بلائی گئ تھی جس میں کچھ ضروری امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے بالخصوص ملک کے بدلتے حالات اور علماء کو روزگار سے جوڑنے سے متعلق گفتگو کی گئی ہے اور عنقریب اسی پس منظر میں۸؍ اکتوبر کو علماء بورڈ کا ایک اہم کنوینشن انجمن اسلام سی ایس ٹی ممبئی میں منعقد ہونے جارہا ہے، ملک کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ متحدہ سماج کی تشکیل پر زور دیں اور فروعی اختلافات سے اپنے سماج کو بچائیں،مزید علماء بورڈ کے ریاستی صدر اور کنوینشن کے کنوینر قاری محمد یونس چودھری نے کہا کہ اس وقت ہماری مکمل توجہات ۸؍ اکتوبر کو ہونیوالے پروگرام کی تیاری پر مرکوز ہے جس کی صدارت حضرت مولانامحمدسفیان صاحب قاسمی( مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند،جانشین حجۃ الاسلام حضرت مولاناقاسم نانوتوی) ؒاورسرپرستی شمس العلماءحضرت مولاناسید اطہرعلی اشرفی (ناظم اعلی سنی دارالعلوم محمدیہ ممبئی) فرمائیںگے،جس میں ملک کےمختلف صوبے اور شہر سے مکاتب فکر کے علماء و دانشوران، بطور خصوصی حضرت مفتی عزیزالرحمن فتحپوری (مفتی اعظم مہاراشٹر)شاہی امام حضرت مولانانیازاحمدقاسمی(دہلی)مولاناعرش اعلی فریدی (پٹنہ)مفتی طاہرحسین مظاہری(دہلی)الحاج سیدشمشادقادری(حیدرآباد)مفتی محمدحذیفہ قاسمی (بھیونڈی)مفتی اشفاق احمدقاضی (جامع مسجد ممبئی )مفتی محمدانصارقاسمی ،مولانانظیرالاسلام مظاہری، مولاناعبدالقدوس شاکرحکیمی، مفتی قاضی انوراشرف قادری،مولاناثابت علی نقشبندی ،ڈاکٹر شیخ احمداشرفی،ڈاکٹر محمدیونس صدیقی(صدر مولاناآزادپیرامیڈیکل کالج ہاسپٹل) شرکت فرمائیں گے،اس سلسلےمیں مشہور کالم نگار وکنوینر جناب سلیم الوارے نے کہا کہ آل انڈیا علماء بورڈ کے پلیٹ سے سر دست سو علماء کرام کو روزگار سے جوڑنے کی کوشش کے ذیل میں انہیں ابتدائی طب کی تعلیم دی جائے گی اور یہ سلسلہ پورے ملک میں شروع ہوگا ، ہمارے خیال سے یہ ملک کی واحد ملی جماعت ہے جو علماء کرام کو خود کفیل بنانے کی طرف مثبت قدم بڑھارہی ہے ،اس سے جہاں علماء میں خوشحالی آئیگی وہیں حق گوئی و بیباکی کے ساتھ ان میں کام کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوگا ۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com