کُھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں

(پی ایف آئی پر پابندی کے پس منظر میں) 

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

      بالآخر پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ذمے داروں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کرنے اور انہیں داخلِ زنداں کرنے کے بعد اس پر پابندی عائد کر دی گئی _ ان پر الزام ہے کہ ان کی سرگرمیاں ملک کی سالمیت ، وجود اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور ان سے امن و امان کو شدید چیلنجز درپیش ہیں ، اس لیے کہ ان کے نظریات فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ختم کردینے والے اور منافرت پھیلانے والے ہیں ، نیز یہ لوگ غیر قانونی کاموں میں ملوّث ہیں _

          ہر شخص اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ ان لوگوں پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ اب تک ثابت نہیں کیے جاسکے ہیں ، محض الزامات ہیں ، جب کہ دوسری طرف ملک کی نام نہاد عظیم تر ثقافتی تنظیم ‘آر ایس ایس’ کی سرگرمیاں ملک میں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے رہی ہیں ، اس کے کارکنان تشدّد اور قتل کی متعدّد وارداتوں میں ماخوذ ہیں ، اس کے متعدد کارکنوں نے حلف نامہ داخل کرکے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں بم دھماکوں کی متعدد کارروائیوں میں اس کا ہاتھ ہے _

            ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر حکومت کے پاس پی ایف آئی کے خلاف کچھ ثبوت ہیں تو وہ اس کا معاملہ عدالت میں لے جاتی ، ثبوت پیش کرتی اور پی ایف آئی کے ذمے داروں کو بھی صفائی کا موقع دیتی ، پھر اگر اس کا جرم ثابت ہوجاتا تو اس کو چاہے جتنی سخت سزا دی جاتی ، کوئی اس کے خلاف آواز نہ اٹھاتا اور حکومت کی جانب داری بھی ثابت ہوجاتی _ لیکن حکومت تو یہ چاہتی ہی نہیں ہے _ اسے تو فرقہ وارانہ منافرت کا ماحول گرم رکھنا اور اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنا ہے _

          حیرت ہوتی ہے کہ پی ایف آئی کی خلافِ قانون سرگرمیوں کا ثبوت پیش کرنے کے بجائے سراسر جھوٹے الزامات لگاکر اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے _ اس کا اظہار اس وقت ہوا جب چند ایام قبل پونے میں پی ایف آئی کے ایک احتجاجی مظاہرے میں اس کے کارکنوں نے ‘پی ایف آئی زندہ باد’ کے نعرے لگائے تو کہا گیا کہ ان لوگوں نے ‘پاکستان زندہ باد’ کے نعرے لگائے تھے اور یہ ملک سے غدّاری ہے _ گودی میڈیا بھی اسے لے اُڑا اور اس کا بھونپو اتنی زور سے اور اتنی کثرت سے بجایا گیا کہ ملک کے شہری اس پر یقین کرلیں _ بعد میں جب اس معاملے کی تحقیق کی گئی تو وہ سراسر جھوٹا نکلا _ یہی معاملہ دیگر الزامات کا بھی ہے _

          سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کے پاس کچھ ثبوت ہیں تو وہ انہیں کیوں نہیں پیش کرتی؟ وہ اس کا معاملہ عدلیہ میں کیوں نہیں لے جاتی؟ پی ایف آئی کے ذمے داروں کو الزامات پر صفائی کا موقع کیوں نہیں دیتی؟ بغیر ثبوت پیش کیے کسی تنظیم پر پابندی عائد کرنا سراسر ظلم ہے ، جو کسی بھی طرح قابلِ گوارا نہیں ہے _ جمہوری قدروں کی پامالی ہے ، جن کا عَلَم بلند کیا گیا ہے _ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، جس کی دہائی دی جاتی ہے _

          بعض خبریں ایسی منظرِ عام پر آئی ہیں کہ حکومت کے ذمے داروں نے پی ایف آئی پر پابندی عائد کرنے سے قبل مسلمانوں کے بعض طبقات کی نمائندہ شخصیات اور بعض دینی تنظیموں کے ذمے داروں کے ساتھ میٹنگ کی تھی ، جس میں اپنے ارادے کا اظہار کیا تھا اور سب نے اس کی تائید کی تھی _ ممکن ہے ، ایسا ہوا ہو _ اب تک بعض سرکردہ لوگوں کے جو بیانات سامنے آئے ہیں ان سے اس کا اشارہ ملتا ہے _

       حیرت ہے کہ مسلمانوں کے مختلف گروہ اور افراد ایک اسلام پسند گروہ کے قتل کی دستاویز پر دستخط کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں _ ان میں وہ بھی ہیں جو کبھی ‘خلافت’ کے عَلَم بردار تھے اور پوری دنیا میں اسلامی نظام قائم کرنے کا اعلان کرنے والوں کی کھلی حمایت کررہے تھے _ وہ بھی ہیں جو کبھی اُن لوگوں کے ساتھ تھے ، لیکن کچھ اختلافات کی وجہ سے ان سے علیٰحدگی اختیار کرلی تھی _ کچھ سجادہ نشیں اور مقبروں کے محافظ ہیں ، جو انہیں وہابی سلفی اسلام کا پرچارک کہہ کر ان کی جڑ کاٹنا چاہتے ہیں _ کچھ منہجِ سلف کے دعوے دار ہیں ، جو انہیں ‘خوارج’ کہہ کر ان کے گم راہ ہونے پر مہرِ تصدیق ثبت کررہے ہیں اور ان الفاظ میں اپنا جوشِ خطابت دکھا رہے ہیں ، جیسے اللہ کے رسولﷺ نے ‘پی ایف آئی’ والوں کا نام لے ان کے گم راہ ہونے کی خبر دی تھی _

           یہ تمام لوگ اطمینان رکھیں کہ ایک دن سب کو مرنا ہے اور اللہ کے حضور پہنچنا ہے _ وہاں چرب زبانی کا موقع نہ ہوگا ، کیوں کہ منھ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب کا کچّا چٹّھا ان کے سامنے ہوگا _ یہ لوگ اِس وقت چاہے جتنا بڑھ بڑھ کر باتیں کرلیں ، دشمن کا پھندا ان کی گردنوں سے بھی قریب ہورہا ہے _ اسی طرح دیگر مسلم دینی اور سماجی تنظیموں کے وہ ذمے داران بھی اطمینانِ خاطر جمع رکھیں جو اس صریح ظلم پر خاموش ہیں اور سوچتے ہیں کہ اس موقع پر ‘چُپ کا روزہ’ ان کے گرد حفاظت کا حصار کھینچ دے گا _ وہ اس خام خیالی میں نہ رہیں _ یقینی طور پر اگلا نمبر ان کا ہے _ نواز دیوبندی نے ان کے بارے میں پہلے ہی پیشین گوئی کردی ہے :

جلتے گھر کو دیکھنے والو پھونس کا چھپّر آپ کا ہے

 آگ کے پیچھے تیز ہوا ہے آگے مقدّر آپ کا ہے

 اُس کے قتل پر میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا

 میرے قتل پر آپ بھی چپ ہیں اگلا نمبر آپ کا ہے

        یہ نظریاتی جنگ ہے _ ایک طرف ہندوتوا کے عَلَم بردار ہیں تو دوسری طرف اسلام کے عَلَم بردار _ ہندوتوا کے عَلَم بردار اس کا غلبہ چاہتے ہیں اور وہ ان تمام تنظیموں اور افراد کو ، جنہیں اپنی راہ کا روڑا سمجھتے ہیں ، راستے سے ہٹانے چاہتے ہیں _ اس صورت حال میں قابلِ مبارک باد ہیں وہ لوگ جو اپنے اسلامی تشخّص پر اصرار کررہے ہیں اور مسلمان کی حیثیت سے ہی جینا اور مرنا چاہتے ہیں _ ان کے لیے اللہ کے رسول ﷺ کی یہ بشارت موجود ہے :” بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ” (مسلم: 145)” اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا ہے اور ایک وقت آئے گا جب وہ پہلے کی طرح اجنبی بن جائے گا _ پس مبارک ہو اجنبیوں کے لیے _“

           اسی طرح وہ لوگ بھی قابلِ مبارک باد ہیں جو اس ظلم کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں _ ان کی آواز چاہے جتنی نحیف ہو ، لیکن وہ بارگاہِ الٰہی میں معذور قرار پائیں گے کہ انھوں نے حق اور اہلِ حق کی حمایت کی ذمے داری ادا کردی ہے _

         میرا ایمان ہے کہ تاریکی چاہے جتنی گھٹاٹوپ ہو ، سپیدۂ سحر ضرور نمودار ہوگا _ اہلِ حق کو چاہے جتنا ستایا جائے ، ایک دن ضرور ان کا اقبال بلند ہوگا _ بس شرط ہے کہ وہ آزمائشوں پر صبر کریں اور استقامت کا مظاہرہ کریں _ ظالموں کی ہلاکت یقینی ہے _ قرآن کہتا ہے : إِنَّ مَوۡعِدَهُمُ ٱلصُّبۡحُۚ أَلَیۡسَ ٱلصُّبۡحُ بِقَرِیبࣲ (ھود: 81)” ان کے عذاب کا وقت مقررہ صبح ہے _ کیا صبح قریب نہیں؟!“

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com