عربی مدارس میں عصری تعلیم کے سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند کا فیصلہ مستحسن: انیس الرحمن قاسمی

دیوبند: (پریس ریلیز) ملک کی ممتاز شخصیت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب قومی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل و چیرمین ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن پٹنہ گزشتہ دودن بہ روز منگل، بدھ مؤرخہ  27/28 ستمبر کو دیوبند کے یادگار سفر پر تھے، وہی دیوبند جہاں دینی علوم کا سب سے مرکزی ادارہ دارالعلوم دیوبند واقع ہے، بعد میں اسی کا ایک حصہ دارالعلوم وقف دیوبند کے نام سے منظر عام پر آیا، دینی علوم کی حفاظت اور فروغ و اشاعت میں اس کی ناقابل فراموش خدمات سے کون ناواقف ہوگا، آج چہار دانگ عالم میں اس کے تربیت یافتہ علماء و فضلاء اپنی گراں قدر خدمات سے دنیا کی تقدیر سنوارنے میں مصروف عمل ہیں، خصوصاً برصغیر میں اسلامی علوم اور تہذیب و تمدن کی بقاء اسی مینار نور سے وابستہ رہی ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ تا قیامت اس کے فیوض کا سلسلہ جاری رکھے! اس سفر کے دوران کئی اہم شخصیات سے آپ کی ملاقات ہوئی اور طلبہ کے درمیان خطاب ہوا، سب سے پہلے قائد جمعیۃ علمائے ہند و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب سے ملاقات ہوئی اور مختلف موضوعات پر تبادلہ خیالات ہوا، خصوصاً ملک کے موجودہ حالات، نصاب تعلیم اور مختلف تنظیموں اور مسالک کے مابین اتحاد و اتفاق پر گفتگو ہوئی، حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب نے دارالعلوم کے قدیم نصاب تعلیم کی تفصیلات بتلائیں، جس میں حساب، ریاضی، انگریزی اور دیگر عصری علوم شامل تھے اور دسویں تک کے عصری علوم کو دوبارہ داخل نصاب کرنے کا خاکہ بتایا، یہ پوچھے جانے پر کہ اس سلسلے میں دارالعلوم نے اپنا کوئی نصاب اور تعلیمی پالیسی تیار کرلی ہے؟ مولانا ارشد مدنی نے جواب میں فرمایا کہ یہ ابھی تیاری کے مراحل میں ہیں، اس کے بعد ملک کے موجودہ حالات کی سنگینی، معاشی ابتری اور ہندو مسلم منافرت کی شدت پر تبصرے ہوئے اور اس کے حل پر کچھ دیر گفتگو ہوئی۔ دوسری اہم ملاقات مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب سے ہوئی، اس ملاقات میں دارالعلوم دیوبند نے لاک ڈاؤن کے دوران اصلاح معاشرہ کی غرض سے کتابوں کی تالیف اور گرد و نواح میں اساتذہ کی تقاریر کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اس کے متعلق خصوصی گفتگو ہوئی، مولانا انیس الرحمن صاحب نے کہا کہ یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہونا چاہیے اور جن موضوعات پر اب تک کتابیں نہیں لکھی گئی ہیں، ان پر کتابیں لکھی جانی چاہئیں اور ملک کے طول و عرض میں ایک نیٹ ورک قائم کرکے اس کام کو منظم کرنا چاہیے، یہ کام دارالعلوم دیوبند سے بہتر کوئی ادارہ یا تنظیم انجام نہیں دی سکتی، مولانا نعمانی سیاتحادامت کے موضوع پر گفتگو ہوئی مولانا انیس الرحمن قاسمی نے ان سے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کے بزرگوں کی اس تمنا کو عملی جامہ پہنا کر امت واحدہ بنا نے کوشش کی جائے اور مدارس اسلامیہ کو اس طرف متوجہ کیا جائے، انہوں نے مدارس میں عصر ی تعلیم کو بقدر ضرورت فروغ دینے کے موضوع پر گفتگو کی آور مہتمم صاحب نے اس بارے میں آئندہ کے لئے طریقہ کار کیا ہوگا اسے بتایا۔اس کے بعد مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند حضرت مولانا سفیان صاحب قاسمی سے ملاقات ہوئی اور مختلف موضوعات پر نہایت سنجیدہ گفتگو ہوئی، مسلم اداروں اور تنظیموں کی صورت حال، امت میں موجود انتشار و افتراق اور دیگر داخلی و خارجی چیلنجز اور ان کے حل پر کافی دیر تک بات چیت ہوتی رہی۔ اسی دوران ڈائرکٹر حجۃ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند حضرت مولانا ڈاکٹر شکیب قاسمی سے خوشگوار ملاقات ہوئی اور اکیڈمی کی علمی و تحقیقی سرگرمیوں پر گفتگو ہوئی، حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے انہیں مبارکباد پیش کی اور کئی اہم مشوروں سے نوازا، اس کے علاوہ بھی کئی اہم اساتذہ اور شخصیات سے مفید ملاقاتوں کا سلسلہ رہا، اس سفر میں طلبہ کے مابین بھی حضرت کی مختصر تقریریں ہوئیں، سب سے پہلے طلب? بہار، جھارکھنڈ، اوڈیشہ و نیپال کی مرکزی انجمن بزم سجاد میں حضرت والا نے طلبہ کی کثیر تعداد کو خطاب کیا، جس میں اعلی علمی و تحقیقی ذوق کو پروان چڑھانے پر زور دیا، زبان و ادب، تاریخ و سماج، علم الاصول اور جدید سائنسی تحقیقات میں دلچسپی پیدا کرنے کی ترغیب دی اور اس کے علاوہ بھی متعدد موضوعات پر فکر انگیز گفتگو فرمائی، دوسرے دن طلبہ چمپارن کی انجمن میں آپ کی بصیرت افروز تقریر ہوئی، اس سفر میں آپ کچھ اداروں میں بھی تشریف لے گئے، ان کی کارکردگیوں کا جائزہ لے کر انہیں سراہا اور اپنے مفید مشوروں سے نوازا۔

اس سفر میں حضرت کے ساتھ مولانا مشہود الرحمن شاہین جمالی صاحب ناظم اعلی مدرسہ امدادالاسلام صدربازار میرٹھ اور مولانا عبدالرشید رہبر، جناب حاجی صلا ح الدین صاحب میرٹھ  حاجی ارشد صاحب مولانا مقصود صاحب ودیگر حضرات شریک سفر تھے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com