مسلم مجلس مشاورت کے دستور میں ترمیمات کو ارکان مشاورت نے دی منظوری

نئی دہلی: (پریس ریلیز) ہندوستانی مسلمانوں کی وفاقی تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ارکان نے مشاورت کے دستورکے کچھ حصوں میں ترمیمات منظور کی ہیں۔ ان ترمیمات کا عمل دہلی میں منعقد 22مئی 2022ء؁ کی مجلس عام کے متفقہ فیصلے کے بعد شروع ہوا تھا اور دستور کی نظر ثانی کے لیے مشاورت کی تنظیمی رکن آل انڈیا مومن کانفرنس کے صدر جناب فیروز احمد انصاری صاحب کو مقرر کیا گیا تھا۔اس کمیٹی کے دیگر ارکان میں مولانا عبد الحمید نعمانی صاحب اور جناب سید تحسین احمد صاحب شامل تھے۔شرکاء اجلاس عام نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مشاورت کے1964ء؁ کے دستور کے رہنما اصولوں کو سامنے رکھ کر ترمیمات کی سفارشات کی جائیں، کیونکہ مشاورت کے2006ء؁ میں نافذ کیے گئے دستور کے نفاذ کے بعد مشاورت کی وفاقی حیثیت بری طرح متاثر ہوئی اور اس وفاقی ادارے میں انفرادی ارکان کی بحتاط ہو گئی ہے۔

 کمیٹی کے کنوینر جناب فیروزاحمد صاحب نے22مئی 2022ء؁ کی مجلس عام کی میٹنگ کی تاثرات کو سامنے رکھنے کے ساتھ ساتھ سن 2010ء سے 2016ء؁ کے درمیان دفتر مشاورت کو ترمیمات کے تعلق سے ملنے والے سفارشات اور تجویزات کو سامنے رکھ کر صدر مشاورت جناب نوید حامد صاحب کو مجوزہ ترمیمات کا مسودہ 17جولائی2022ء؁ کو پیش کیا تھا۔

 اس مسودہ پر مشاورت کے اہم اراکین جن میں خصوصی طور پر جماعت اسلامی ہند کے جناب ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب،اگنو کے سابق پروائس چانسلر جناب پروفیسر بصیر احمد خان صاحب،انڈین نیشنل لیگ کے صدر جناب محمد سلیمان صاحب،مشاورت کے جنرل سکریٹری جناب شیخ منظور احمد صاحب،جمعیت اہل حدیث ہند کے ڈاکٹر شیث تیمی صاحب وغیرہم شامل تھے کے ساتھ صدر مشاورت نے مشوروں کے بعد مجوزہ ترمیمات کے مسودہ کومشا ورت کی مجلس عاملہ کے ارکان کی رائے اور تاثرات حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھااور ان سے حاصل ہوئے مشوروں کو مسودہ میں شامل کیا گیا۔

مجلس عاملہ کے ارکان کے ذریعہ حاصل ہوئی اکثریتی رائے کی روشنی میں دستوری ترمیمات کے اس مجوزہ مسودہ کو مشاورت کے دستور کی دفعہ 28 کے تحت مشاورت کے ارکان مجلس عام کو ریفرنڈم کے لیے روانہ کر دیا گیااور مجوزہ ترمیمات کے اس ریفرنڈم میں مشاورت کے62.53فیصد ارکان نے اپنے رائے دہندگی کا استعمال کیا اور ترمیمات کی ہر شق پر مشاورت کے مفادات کو دیکھتے ہوئے ووٹنگ کی۔ریفرنڈم میں بھیجے گئے مجوزہ ترمیمات کے مسودہ کی ہر شق کو70 فیصد سے زائد ارکان مشاورت نے اپنی مثبت رائے سے پاس کیا جن میں مشاورت میں شامل12میں سے9 تنظیموں کا مثبت رائے بھی شامل ہے۔یہاں یہ تحریر کرنا ضروری ہے کہ مشاورت میں سابقہ اداوار میں جب بھی ترمیمات ہوئی ہیں وہ ریفرنڈم کے ذریعہ ہی کرائی گئی ہیں۔ریفرنڈم کی گنتی کی نگرانی ڈاکٹر محمد شیث تیمی اور مجلس عاملہ کے رکن سید تحسین احمد نے کی۔

پاس کیے گئے مسودہ کے بعد مشاورت کی وفاقی حیثیت مزید مضبوط ہوگی کیوں کہ ترمیم شدہ دستور میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ مشاورت کی کسی بھی تنظیمی رکن جماعت کا مشاورت میں غلبہ نہ ہو۔ نئے دستوری ضابطوں کے حساب سے مشاورت میں شامل کسی بھی تنظیمی جماعت کے نمائندوں کے علاوہ اب انفرادی ارکان کے زمرے میں شامل کیے جانے والے ارکان مشاورت کسی بھی تنظیمی جماعت سے وابستہ نہیں ہو سکتے۔ وفاقی ادارے کو مزید متحرک اور نمائندہ بنانے کے لیے مشاورت کی مجلس عاملہ میں خواتین، پسماندہ برادریوں کے نمائندوں کی نشستوں کو مختص کرنے کے ساتھ ساتھ جنوبی ہندوستان کی چار ریاستوں تمل ناڈو، کیرلہ، کرناٹک اور تلنگانہ کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں کے نمائندوں کے لیے بھی سیٹیں مختص کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ نئے دستور کے حساب سے مسلم خواتین اور طلباکی تنظیموں کو رکن بنانے کے لیے دستوری طور پر دروازے کھولے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کوئی بھی ایسی سماجی و فلاحی ادارہ جو تین سے زائد ریاستوں میں کام کرتا ہوگاان کو بھی مشاورت کا رکن بنایا جائے گا۔ ترمیم شدہ دستور کو یکم اکتوبر2022ء؁ سے نافذ کر دیا گیاہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com