جودھپور: (ملت ٹائمز) آج مولانا آزاد یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور اور خسرو فاوَنڈیشن نئی دہلی کے اشتراک سے ایک روزہ سیمینار کا انعقاد ہوا جس کا عنوان تھا ’مذہب جوڑنے کے لیے ہے، توڑنے کے لیے نہیں ۔ ‘‘ اس سیمینار کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مذہبِ اسلام کے علاوہ ہندو دھرم، سکھ مت، کبیر پنتھ، عیسائی مذہب اور جین دھرم کے مذہبی رہنما اور دانشور شریک ہوئے ۔
اس سیمینار کی صدارت سروودے تحریک کی راجستھان میں سرگرم رہنما اور مشہور گاندھی وادی محترمہ آشا بوتھرا نے کی اور مہمانِ خصوصی کے طور پر خسرو فاوَنڈیشن کے چیئرمین پدم شری پروفیسر اخترالواسع تھے ۔ پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ مذہب کوئی بھی ہو وہ انسانوں کو جوڑنے کا کام کرتاہے ۔ یہ انسان ہیں جو ایک دوسرے کے بیچ میں دراریں ڈالتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہندوستان کے مفاد میں ہے، وہ ہندوستانیوں کے مفاد میں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام ہو یا کوئی بھی دوسرا مذہب، وہ سبھی انسانوں کی محبت اور ان کے لیے صلہ رحمی کا سبق دیتے ہیں ۔ اس لئے ہمارے اپنے مفاد میں بھی ہے اور ہندوستان کے مجموعی مفاد میں ہے کہ ہم نفرتوں کی دیواروں کو توڑیں ، ایک دوسرے کے قریب آئیں ۔ انہوں نے مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور میں سیمینار کے انعقاد کے لیے انہیں مبارکباد دی کہ بلاشبہ یہی وہ یونیورسٹی ہے جہاں یہ سیمینار ہونا چاہیے تھا ۔ اس لیے کہ مولانا آزاد قومی وحدت اور انسانی ایکتا کے سب سے بڑے نقیب تھے ۔
مولانا آزاد یونیورسٹی کے چانسلر الحاج محمد عتیق نے کہا کہ ہ میں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے مذاہب بدنام ہوں اور انسانوں کو تکلیف پہنچے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد یونیورسٹی میں بغیر کسی تخصیص کے ہم نئی نسل کو تعلیم دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں ۔ جودھپور کے کبیرپنتھ کے مذہبی رہنما سنت مادھو داس نے کہا کہ یہ سیمینار تمام مذاہب کو قریب لانے کی بہت اچھی کوشش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہ میں نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کائنات میں سب سے اہم انسان ہیں اور ان کے بیچ میں دوری پیدا کرنے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کبیر کے پریم کے ڈھائی اکچھر کو عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ عیسائی مذہب کی نمائندگی کرتے ہوئے فادر جتیندر ناتھ نے کہا کہ بلاشبہ مذہب جوڑنے کے لئے ہے، توڑنے کے لیے نہیں ۔ یہی سچ ہے ۔ اور جو بھی اس کے خلاف کام کر رہا ہے وہ صحیح نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بائیبل محبت کا مجموعہ ہے اور یسوع مسیح پیار کے پیغمبر ہیں ۔ اس لیے انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی ہر کوشش کرنی چاہیے ۔ شہر قاضی سید واحد علی صاحب نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے امن و سلامتی کا نمائندہ مذہب پیش کیا اور تمام انسانوں کو محبت کا درس دینے والا بنایا اور کہا کہ تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے ۔ سِکھ مذہب کی طرف سے بولتے ہوئے گرنتھی سردار جے پال سنگھ نے کہا کہ ہ میں حسد سے بچنا چاہیے، جس کی وجہ سے انسان انسانوں سے دور ہو رہے ہیں ۔ ہ میں کرم اور دھرم کی صحیح پیروی کرکے خود کو انسان ثابت کرنا چاہیے ۔ ہندو دھرم گرو مہنت رودر گری جی نے کہا کہ تمام دھرموں میں ایک ہی بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہم سچائی کی پیروی کریں اور تمام انسانوں کو اپنے اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے راشٹر دھرم کو ہی نبھانا چاہیے اور کسی مذہب کو برا نہیں سمجھنا چاہیے ۔
سابق وائس چانسلر اور مشہور جین دانشور پروفیسر سوہن راج تاتیڑ نے کہا کہ ہر مذہب نے ایک ہی تعلیم دی ہے اور وہ یہ کہ ہم اچھے انسان بنیں ۔ وہی سچا مذہبی بھی ہے جو سچا انسان ہے ۔ جب زمین ایک،آسمان ایک، سورج اور چاند ایک، اور ان سب کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے تو پھر انسان کیوں ایک نہیں ہو سکتے؛ 238 طلبہ و طالبات کی نمائندگی کرتے ہوئے حیات خان نامی طالبہ نے کہا کہ مذہب کردار سازی کرتا ہے، محبت سکھاتا ہے، انسانوں کو سچا مذہب، ہر طرح کی فکری پریشانیوں اور دباوَ سے بچاتا ہے ۔ مذہبی یکجہتی ہی اس ملک کی معاشی ترقی کی ضامن بھی ہے ۔ مولانا آزاد یونیورسٹی کے اساتذہ کی نمائندگی کرتے ہوئے عبداللہ خالد نے تمام مذہبی گروہوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہ میں ان قوتوں سے دور رہنا چاہیے جو ہ میں الگ کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے خسرو فاوَنڈیشن کی ستائش کی ایسا اہم سیمینار اس نے یہاں منعقد کیا جہاں ہندوستان میں موجود تمام مذاہب کے دھرم گرو تشریف لائے ۔ آخر میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے محترمہ آشا بوتھرا نے کہا کہ آج کے موضوع پر اس سیمینار کا اہتمام ہوا، یہ پوری طرح کامیاب ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ہ میں اپنے عمل سے خود مثال قائم کرنی ہوگی اور ان تمام قوتوں کو جو نفرت پھیلا رہی ہیں ، دوری پیدا کر رہی ہیں ، انہیں ناکام بنانا ہوگا ۔ پروگرام کی نظامت مولانا شاہد حسین ندوی نے کی اور شکریہ یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار محمد امین نے کیا ۔
اس سیمینار میں اس وقت ایک جذباتی ماحول پیدا ہو گیا جب خسرو فاوَنڈیشن کے چیئرمین اور مولانا آزاد یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اخترالواسع نے اسٹیج پر موجود تمام مذہبی رہنماؤں سے کہا کہ وہ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ان کو بلند کرکے یہ عہد کریں کہ وہ محبت کے پیغام کو عام کریں گے، مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے بیچ میں دوری کم کرنے کو اپنی جیسی کوشش کریں گے، جس پر مختلف مذاہب کے تمام رہنماؤں اور اسٹیج پر موجود تمام اہم افراد نے تائید کی اور ایسا ہی کیا ۔
اس پروگرام میں مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی کے صدر محمد علی چندریگر، جنرل سکریٹری نثار احمد خلجی، خازن حاجی محمد اسحق، سوساءٹی کے رکن جناب اسمعیل قریشی، ڈین اکیڈمکس عمران خان پٹھان اور کامرس ڈپارٹمنٹ کے ڈین نرنجن بوہرا شامل تھے ۔

Leave a Reply