کانفرنس کی تیاریاں بڑے پیمانے پر جاری،شہر سمیت اطراف شہر سے کثیر تعداد میں لوگوں کے آنے کی خبریں
کانپور: شہر کے لوگوں میں اپنے ایمان کے تحفظ کیلئے فکر پیدا ہو رہی ہے۔ 6؍نومبر بروز اتوار بعد عشاء رجبی گراؤنڈ پریڈ میں ہونے والی ایک روزہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوت وتحفظ حدیث کانفرنس کی تیاریاں زور و شور سے بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ کانفرنس کے روح رواں جمعیۃ علماء اترپردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی صدر مجلس تحفظ ختم نبوت کانپورنے کہا کہ شہر و اطراف شہرکے لوگوں کی بڑی تعداد ایمان کی حفاظت کیلئے تشویش میں مبتلا ہیں، لوگ اپنے ایمان و اپنے بچوں اور گھر والوں کے ایمان کوبچانے کا طریقہ سیکھنے کیلئے پریڈ گراؤنڈپہنچنے کیلئے پرجوش ہیں۔ کارپوریٹروں اور سماجی خدمتگاروں نے پریڈ گراؤنڈ کی صفائی،پانی اور دیگر ضروریات پر کام کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کیلئے شہر و اطراف شہر میں کئی مساجد میں ائمہ کرام و علماء کانفرنس کے مقاصدکو سمجھاتے ہوئے لوگوں سے کثیر تعداد میں کانفرنس میں شرکت کی اپیلیں کررہے ہیں۔
حضرت نبی کریم ﷺ کو نبی ماننا اور آخری نبی ماننا، قرآن کو آخری کتاب، آپؐ کی شریعت اور آپؐ کے لائے ہوئے دین کو آخری دین ماننا یہ ایمان کے بنیادی عقائد میں داخل ہے ان میں سے کسی چیز کے انکار کر دینے سے آدمی کافر و مرتد ہو جاتا ہے۔ نبوت اللہ کی ایک رحمت ہے یہ کسی کی عبادت و ریاضت اور مجاہدہ پر نہیں ملتی بلکہ اللہ تعالیٰ انسانوں میں جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔حضرت محمدﷺ نبوت و رسالت اور اس رحمت کی آخری کڑی ہیں اور نبوت و رسالت کے محل کی آخری اینٹ ہیں اب اس میں کمی زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اللہ کی اس رحمت سے صبح قیامت تک لوگ فیض یاب ہوتے رہیں گے۔ مولانا عبد اللہ نے کہا کہ شہر کے ساتھ ساتھ اطراف شہر اناؤ، ہردوئی، فتح پور، قنوج، فرخ آباد، کانپور دیہات، ہمیرپور، اورئی، جالون، اٹاوہ، اوریا سمیت دیگر اضلاع سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے بسوں و دیگر سواریوں سے آنے کی خبریں ہیں۔ مولانا نے تمام شہر و اطراف کے فرزندان توحید، عاشقان نبیؐ، فدایان صحابہؓ، ومحبان اولیاء اللہ سے درخواست ہے کہ کانفرنس میں مع دوست واحباب کے شرکت فرمائیں اور علماء کرام کے نورانی وعرفانی بیانات سے مستفیض ہوں اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق ہوں۔

Leave a Reply