آسام-میگھالیہ سرحد پر پولیس فائرنگ کے نتیجے میں 6 افراد کی ہلاکت کے بعدمیگھالیہ کے 7 اضلاع میں تشدد ، انٹرنیٹ خدمات منقطع

شیلانگ: (ایجنسیاں) آسام-میگھالیہ سرحد پر منگل کی صبح پولیس کی فائرنگ میں 6 افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں آسام کا ایک فارسٹ گارڈ بھی شامل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ سرحد سے ملحقہ جنگل سے ٹرک کے ذریعہ لکڑی اسمگل کر رہے تھے۔ جب آسام پولیس اور محکمہ جنگلات نے انہیں مغربی جینتیا پہاڑیوں کے مکروہ میں روکا تو فائرنگ شروع ہوگئی۔اس واقعہ میں مرنے والے 5 افراد کا تعلق میگھالیہ سے ہے۔ یہ خبر پھیلتے ہی میگھالیہ کے 7 اضلاع میں تشدد پھوٹ پڑا۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما کے حکم پر ان اضلاع میں 48 گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔ ان میں ویسٹ جینتیا ہلز، ایسٹ جینتیا ہلز، ایسٹ کھاسی ہلز، ری بھوئی، ایسٹ ویسٹ کھاسی ہلز، ویسٹ کھاسی ہلز اور ساﺅتھ ویسٹ کھاسی ہلز شامل ہیں۔ حادثہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ جو بھی ہوا بہت افسوسناک ہے۔ میگھالیہ پولیس نے اس واقعہ میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔ منگل کی صبح ہونے والی فائرنگ میں 6 افراد کی ہلاکت کی اطلاع سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیل گئی۔ اس کے بعد میگھالیہ کے 7 اضلاع میں تشدد شروع ہو گیا۔ امن و امان کی بگڑتی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا۔ واٹس ایپ، فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب اگلے 48 گھنٹوں تک بند رہیں گے۔ پولیس نے ان اضلاع میں نفری بڑھا دی ہے۔

آسام اور میگھالیہ کے درمیان سرحدی تنازع 50 سال سے زیادہ پرانا ہے۔ اس سال کے شروع میں دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور کونراڈ کونگکل سنگما نے دہلی میں ایک معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد 12 انتہائی متنازع علاقوں میں سے 6 کی ریاستی حدود کا تعین کیا گیا۔ ایم او یو پر دستخط کے وقت وزیر داخلہ امت شاہ بھی موجود تھے۔ ایم او یو پر دستخط کرنے کے بعد آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے کہا تھا کہ یہ ہمارے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ اس ایم او یو کے بعد ہمارا مقصد باقی متنازع مقامات کا مسئلہ جلد حل کرنا ہے۔ ہم شمال مشرقی خطہ کو ملک کی ترقی کا انجن بنانے کی سمت کام کریں گے۔ آسام اور میگھالیہ کے وزرائے اعلیٰ نے جانچ اور غور کے لیے وزارت داخلہ کو ایک مسودہ بھیجا تھا۔ آسام اور میگھالیہ کی حکومتیں 884 کلومیٹر طویل سرحد پر 12 میں سے 6 حصوں میں سرحدی تنازع حل کرنے پر متفق ہیں۔ 36.79 مربع کلومیٹر اراضی کے لیے بھیجی گئی سفارشات کے مطابق آسام 18.51 مربع کلومیٹر اپنے پاس رکھے گا اور بقیہ 18.28 مربع کلومیٹر میگھالیہ کو دیا جائے گا۔ دونوں ریاستوں کے درمیان یہ معاہدہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ تنازع کافی عرصہ سے چل رہا ہے۔ یہ 1972 میں شروع ہوا جب میگھالیہ کو آسام مسے الگ کیا گیا۔ نئی ریاست کی تشکیل کے معاہدہ میں حد بندی کے دوران کئی علاقوں سے متعلق تنازعات سامنے آئے۔ 14 مئی 2010 کو کامروپ، آسام کی سرحد سے متصل مغربی کھاسی پہاڑیوں کے لینگپیہ میں آسام پولیس کے اہلکاروں کی فائرنگ میں 4 کھاسی دیہاتی مارے گئے تھے جبکہ 12 زخمی ہوگئے تھے۔ 26 جولائی 2021 کو اب تک کا بدترین تشدد ہوا جس میں آسام پولیس کے 6 اہلکار ہلاک اور دونوں ریاستوں کے تقریباً 100 افراد اور سیکورٹی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔آسام-میگھالیہ سرحدی تنازع میں 6 علاقے تاراباری، گیجانگ، ہاہم، بوکلاپارہ، کھاناپارہ-پلنگ کاٹا اور راتچیرا شامل ہیں۔ جو میگھالیہ میں مغربی کھاسی پہاڑیوں، ری-بھوئی اور مشرقی جینتیا پہاڑیوں کے اضلاع کا حصہ ہیں اور آسام کی طرف سے کچھار، کامروپ (میٹرو) اور کامروپ اضلاع کا حصہ ہیں۔ بین ریاستی سرحد سے متصل 36 متنازع گاؤں میں سے 18.29 مربع کلومیٹر کے کل جغرافیائی رقبہ کے ساتھ 30 میگھالیہ میں رہیں گے جبکہ 18.51 مربع کلومیٹر آسام میں آ گئے ہیں۔ واقعہ کے بعد حکومت آسام نے مغربی جینتیاکے ایس پی کا تبادلہ کردیاہے۔ مقامی پولیس اور محکمہ جنگلات کے افسران کو معطل کردیا ہے اور معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com