کرونا سے غور و فکر کے نئے دروازے کھلے: مولانا خالد سیف الله رحمانی

ندوہ میں دوروزہ فقہی سمینارکی نشستیں جاریں، مختلف مسائل پر غوروخوض، ملک کے مختلف حصوں سے علماء کی شرکت

لکھنؤ : اجتہاد کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا،بدلتے ہوئے حالات کے لحاظ سے اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے،کرونا کے مسائل نے علماء کے اندر دقت نظر پیدا کیا اور ان کے سامنے غورو فکر کے نئے دروازے کھلے،انہوں نے کرونا کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بڑی جانفشانی کی اور قدیم اصول وضوابط کا ازسر نو مطالعہ کیا اور تمام مسائل کا بڑی باریکی سے احاطہ کیا۔

ان خیالات کا اظہار مولانا خالد سیف الله رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مجلس تحقیقات شرعیہ کے سیمینارکی دوسری نشست میں کیا،انہوں نے کہاکہ کسی مسئلہ کی حقیقت کواس کے ماہرین سے سمجھیں اور اس کی تہہ تک پہونچنے کی کوشش کریں۔

واضح رہے کہ کل بعد نماز مغرب کرونا مسائل پر دو نشستیں منعقد ہوئیں،پہلی نشست کی صدارت مولاناعبیداللہ اسعدی شیخ الحدیث جامعہ عربیہ ہتھورا نے کی ، نظامت مولانا رحمت الله ندوی استاذ دارالعلوم نے کی،دوسری نشست کی صدارت مفتی انور علی اعظمی سابق مہتمم دار العلوم مئو نے کی ،اور نظامت مولانا محمد نصر الله ندوی استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء نے کی۔

مفتی عبد الرزاق قاسمی استاذدارالعلوم دیوبندنے کہا کہ نئے مسائل کو حل کرتے وقت شریعت کے حدود وقیود کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے،مفتی انور علی نے کہا کہ نصوص میں غور وفکر کرنے سے فکر ونظر میں وسعت پیدا ہوتی ہے،مجلس کے سکریٹری مولانا عتیق احمد بستوی نے اس مذاکرہ کی قیادت کی اور علماء کو قیمتی مشوروں سے نوازا۔

سمینار کی تیسری نشست کا موضوع تھا سرکاری قرضے اور موجودہ حالات میں ان کا حکم،اس نشست کی صدارت مولانا اختر امام عادل قاسمی نے کی، اورنظامت مولانا منور سلطان ندوی نے کی،اس نشست میں مجلس تحقیقات شرعیہ کے سکریٹری مولاناعتیق احمدبستوی نے پرمغزمحاضرہ پیش کیا،اور اس موضوع پر قدیم وجدیدعلماء کی آراء کاتجزیہ کیااور موجودہ حالات میں اس میں وسعت پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا،مفتی عبد الرزاق نے اپنا وقیع مقالہ پیش کیا،علماء نے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، مولانا بلال حسنی ندوی ناظر عام ندوۃ العلماء نے کہا کہ آج کل قرض نہ ملنے کی وجہ سے ارتداد کے واقعات پیش آرہے ہیں،اور لوگ اپنے دین وایمان کا سودا کر رہے ہیں،علماء کو چاہئے کہ شرعی حکم بیان کرتے وقت حالات کی نزاکت کو ملحوظ رکھیں،مولانا اختر امام عادل نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ حاجت جب عام ہو جائے تو وہ ضرورت میں داخل ہوجاتی ہے،انہوں نے کہا کہ علماء کو فقہی قواعد کی روشنی میں نئے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے،یہ عصر حاضر کی ضرورت ہے،اور یہ ذمہ داری علماء ہی انجام دے سکتے ہیں۔

اس موقع پر مولانا واضح رشید ندوی کی کتاب “باکمال ہستیاں” کا اجرا مولانا خالد سیف الله رحمانی کے ہاتھوں ہوا،اس کو مولانا محمد وثیق ندوی نے مرتب کیا ہے،مولانا خالد سیف الله رحمانی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ مولانا واضح رشید ندوی کی فکر اسلامی اور مغربی افکار ونظریات پر بڑی گہری نظر تھی،ان کا قلم بڑا متوازن اور سیال تھا،ان کے قلم سے گراں قدر کتابیں منظر عام پر آئیں۔

نشست کا آغاز مولانا ظفر الدین ندوی استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء کی تلاوت سے ہوا،مولانا کمال اختر ندوی نے مندوبین اور مہمانوں کا استقبال کیا اور انتظام کی نگرانی کی۔

اس موضوع پر مفتی عثمان بستوی ،مفتی مصطفی عبدالقدوس ندوی،مفتی انورعلی ،مفتی ظہیرالحسن کانپور،مفتی نذیراحمدکشمیری وغیرہ نے اظہارخیال کیا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com