’دہلی کے مسلمان سیاست میں ایک نئے مسیحا کی تلاش میں ہیں‘

ایم سی ڈی الیکشن 2022: کانگریس ویسی نہیں رہی ،’ آپ‘ سے بھی مایوسی، ایم سی ڈی الیکشن 2022 گراؤنڈ رپورٹ: بلدیہ کے 250 وارڈوں کےلئے 4 دسمبر کو ووٹنگ ہوگی، الیکشن نتائج 7 کو آئیں گے 

نئی: : (منہاج احمد) کارپوریشن انتخاب 2022 میں کون جیتے گا؟ دہلی کے ووٹروں سے پوچھا؟، اس سوال کا کوئی سیدھا جواب نہیں ہے۔ 4 دسمبر کو جن کی انگلیاں ای وی ایم کے ذریعے اپنے کونسلروں کا انتخاب کریں گی، نمائندہ ”ہمارا سماج“ ووٹروں کے مزاج کو محسوس کرنے کے لیے باہر نکلا ۔ ”سماج “ ٹیم ان علاقوں کا دورہ کیاجو گذشتہ دو تین سالوں سے مسلسل سرخیوں میں تھے۔ چاہے وہ 2019 کے آخر میں تشدد ہو یا شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف مہینوں سے جاری احتجاج۔ شاہین باغ کی سڑکوں پر دادی، بچے، بوڑھے چار مہینے تک سخت سردی میں بیٹھے رہے۔ پھر کوویڈ آیا اور میڈیا نے ایک مخصوص طبقے کو ’ذمہ دار‘ قرار دیا۔ وہ علاقہ نظام الدین کا تھا، وہ جگہ مرکز تھی اور تبلیغی جماعت کے مسلمان کٹہرے میں کھڑے کئے گئے تھے۔ ’ہمارا سماج “ ٹیم نے جامعہ نگر اور نظام الدین کا دورہ کیا۔ یہاں اکثرےت سے رہنے والے مسلمانوں اور ان نمائندوں سے بات کی جو کسی نہ کسی پارٹی ،این جی اوز یاپھر سیاسی پس منظر سے نظر آئے ۔ ایک بات مشترک ےہ تھی کہ ایک درد جو واضح طور پر نظر آرہا تھا وہ تھا دہلی میں حکمراں عام آدمی پارٹی کی طرف سے ’دھوکے‘کا۔ یہاں کے لوگوں کو لگتا ہے کہ جب ’آپ‘ کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا تو وہ نہ صرف خاموش رہی بلکہ ان کے خلاف باتیں کرنے لگی۔بی جے پی کے خلاف غصہ پہلے سے تھا ہی۔ سی اے اے کے خلاف مظاہروں میں بھی یہی غصہ نظر آیا۔ آج بھی یہاں کے لوگ بی جے پی سے اتنے ہی ناراض ہیں۔ انہیں کانگریس کی حکومت یاد ہے، لیکن اس پارٹی کی سیاسی طاقت نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک میں کم ہوگئی ہے۔ اب جامعہ اور نظام الدین کے لوگوں سے بات چیت میں سیاسی پارٹیوں سے مایوسی نظر آرہی ہے۔ کہیں نہ کہیں کسی کونے میں امید ہے کہ شاید کوئی ایسا آئے جو سیاست میں ان کا مسیحا بن جائے۔”آپ“ سے جامعہ اور نظام الدین کے مسلمانوں کی ناراضگی دو وجوہات کی بنا پر قابل فہم تھی۔ پہلا- کووڈ کے دوران نظام الدین مرکز کو بند کروانا اور دوسرا – شاہین باغ کے مظاہرین کے ساتھ نہ کھڑا ہونا! نعمان، جو جامعہ نگر میں چائے کا ایک اسٹال چلاتے ہیں، کو ’آپ‘ سے شدید ناراضگی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ‘انہوں نے (عام آدمی پارٹی) ہمارے مرکز پر انگلی اٹھائی۔ مولانا سعد صاحب کو گرفتار کرنے کی کوشش۔ جامعہ کے لوگوں نے یقینی طور پر حال ہی میں کھولے گئے محلہ کلینک کی تعریف کی۔ ایک شخص نے شکایت کی کہ اروند کجریوال ٹھیک ہیں لیکن منتخب ہونے والے ایم ایل اے اور کونسلر اپنے تکبر میں رہتے ہیں۔ جامعہ میں ملاقات کرنے والے ایک شخص نے الزام لگایا کہ ’مرکز پر حملہ کجریوال جی نے کیا تھا۔ جس عمارت کو سیل کیا گیا وہ کجریوال نے بنایا تھا۔ این آر سی کے جو دھرنے چل رہے تھے انہوں نے کہا کہ ہمیں دو گھنٹے کے لیے پولیس دیں، میں پورا دھرنا ختم کر دوں گا۔ مصطفی آباد میں طاہر حسین پر لگائے گئے الزامات اور انہیں پارٹی سے نکالنے کا الزام، کس بنیاد پر؟ آج بھی وہ غریب بندہ جیل میں ہے۔نظام الدین مارکیٹ کے قریب ایک جگہ بچے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ مرکز کے مفتی صاحب پاس بیٹھے تھے۔ بی جے پی کو بدعنوان لوگوں کی پارٹی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحول بہت خراب ہو گیا ہے۔ مفتی صاحب نے ایک شعر پڑھا، ’چمن میں ہر کے پھول ہو سے بات بنے… تمہی تم ہو تو کیا تم ہو، ہم ہم ہیں تو کیا ہم ہیں‘۔ مفتی صاحب نے آپ کی ’مفت‘ اسکیموں کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے ذریعے پارٹی عوام کو غیر قانونی طریقے سے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اس نے مچھلی اور چارے کی مثال دی۔ جعفرآباد فسادات کے بارے میں بات کرتے ہوئے مفتی نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ان لوگوں پر واٹر کینن چلائی جو انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پھر مفتی صاحب نے مرکز کو تالے لگانے اور مولانا سعد کے خلاف کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو کووڈ کا ذمہ داٹھہرایا۔ جامعہ نگر کے لوگوں نے یقینی طور پر کہا کہ ایم سی ڈی کی اتھارٹی کو تبدیل کیا جانا چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بی جے پی کے بجائے کوئی اور پارٹی دہلی میونسپل کارپوریشن پر قبضہ کرے۔ اس بار مسلمانوں کی حمایتی ہونے کا دعویٰ کرنے والی’ اے آئی ایم آئی ایم‘ نے دہلی میونسپل کارپوریشن انتخاب میں 100 سے زیادہ سیٹوں پر مشترکہ نمائندہ کھڑے کئے ہیں۔ جامعہ اور نظام الدین کے کچھ لوگ پارٹی لیڈر اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی سے متاثر ہوئے، لیکن ان پر بھروسہ کرنے پر راضی نہیں ہوئے۔ نعمان کی دکان پر چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے ہمیں عظیم ڈیری کے رہائشی محمد مرسلین ملے۔ مرسلےن اویسی کو اچھا آدمی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’وہ ہمارے ہر مسئلے میں بولتا ہے، صاف بولتا ہے‘۔’ اگرچہ انہوں نے کہا کہ یہاں ان کا زیادہ ’زور‘ نہیں ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com