مظاہرین کو روکنے کے لیے چین کی سیکورٹی فورس پوری طرح تیار، لی جارہی ہے موبائل فون کی تلاشی

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے ملک بھر میں کوویڈ-19 کے خلاف ہورہے مظاہروں کے دباو میں بھلے ہی کچھ رولس میں نرمی برتی ہو لیکن وہ اقتدار کی سلامتی یقینی بنانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتنا چاہتی ہے۔ وہ بڑے پیمانے پر اُتھل پتھل کو دور کرنے کے لیے ضروری مشنری قائم کرتے ہوئے حکومت دہائیوں سے ایسے چیلنجوں کے لیے تیار کررہی ہے۔ شروعات میں کالی مرچ کے اسپرے اور آنسو گیس کے استعمال کر کے ہلکا ردعمل دینے کے بعد پولیس اور نیم فوجی دستوں نے جمعہ کو شہر کی سڑکوں پر جیپوں، وینوں اور بکتربند گاڑیوں کے ساتھ بڑی تعداد میں طاقت کا مظاہرہ کیا۔ شہریوں کے شناختی کارڈس کی جانچ کے ساتھ مشتعل افراد کی پہچان کے لیے عہدیداروں نے فوٹو، میسیج یا ممنوعہ ایپس کے لیے لوگوں کے موبائل فون کی تلاشی لی ہے۔ وہ احتجاجی مظاہروں میں ان کی شراکت اور مظاہرین سے صرف ہمدردی رکھنے والے لوگوں تک کی پہچان میں مصروف نظر آئی۔ لوگوں کی نامعلوم تعداد حراست میں لی گئی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کسی پر الزام لگیں گے یا نہیں۔ زیادہ تر مظاہرین نے اپنا غصہ زیرو کوویڈ پالیسی پر مرکوز رکھا لیکن کچھ نے پارٹی

اور صدر شی جن پنگ سے اقتدار چھوڑنے کی مانگ بھی کی جسے برسراقتدار جماعت سالوں تک جیل کی سزا کے لئے مناسب مانتی ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com