دہلی فسادات سے منسلک ایک معاملے میں عمر خالد اور خالد سیفی بری، کڑکڑڈوما کورٹ نے سنایا فیصلہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طلبا لیڈر عمر خالد اور خالد سیفی کو دہلی کی ایک عدالت سے بڑی راحت ملی ہے۔ دراصل دہلی فسادات کے ایک معاملے میں ملزم بنائے گئے عمر خالد اور خالد سیفی کو دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ نے بری کر دیا ہے۔ ان دونوں کو فروری 2020 میں راجدھانی دہلی کے چاند باغ علاقے میں ہوئے پتھربازی کے اس معاملے میں پہلے ہی ضمانت مل چکی تھی، لیکن دوسرے معاملے میں یہ جیل میں بند ہیں۔

واضح رہے کہ دہلی فسادات کے سلسلے میں ایک پولیس کانسٹیبل کے بیان کی بنیاد پر ان دونوں کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔ اپنے بیان میں کانسٹیبل نے کہا تھا کہ 24 فروری 2020 میں چاند باغ پلیا کے پاس جمع ایک بڑی بھیڑ نے پتھر بازی کی تھی۔ کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ پتھر بازوں میں خالد سیفی اور عمر خالد بھی شامل تھے۔ حالانکہ کورٹ نے اخذ کیا کہ ان دونوں کے خلاف کوئی سیدھے ثبوت نہیں ہیں، جس کی بنیاد پر کورٹ نے انھیں اس کیس میں الزام سے آزاد قرار دے دیا۔ فی الحال دونوں ملزمین یو اے پی اے معاملے میں عدالتی حراست میں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں سی اے اے-این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو لے کر تشدد پیدا ہو گیا تھا، جس نے فوراً ہی فرقہ وارانہ فسادات کی شکل اختیار کر لی تھی۔ ان فسادات میں 53 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور 700 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اس دوران سی اے اے-این آر سی کے خلاف ہو رہے احتجاجی مظاہروں میں عمر خالد، خالد سیفی اور صفورا زرگر جیسے کئی طلبا لیڈروں نے حصہ لیا تھا، جنھیں دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com