سماج میں بڑھتی منافرت کو روکنے کے لیے منظم کوشش ہونی چاہیے: محمد خالد

صحت مند معاشرے کے قیام میں باہمی تعلقات کی اہمیت پر مذاکرہ

لکھنؤ: آپس میں بڑھتی ہوئی منافرت کو دیکھتے ہوئے سماج کے بااثر اور شہر کی معزز شخصیات کی آج ایک اہم میٹنگ ’صحت مند معاشرے کے قیام میں باہمی تعلقات کی اہمیت‘ پر ہوئی۔ جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف شعبہئ زندگی سے تعلق رکھنے والے اشخاص نے شرکت کی۔ اس طرح کی میٹنگ اس سے قبل بھی انسٹی ٹیوٹ فار سوشل ہارمونی اینڈ اپلفٹمنٹ کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔ اسی کڑی کے سلسلہ میں آج دوبارہ میٹنگ بلائی گئی۔

انسٹی ٹیوٹ فار سوشل ہارمونی اینڈ اپلفٹمنٹ کے سکریٹری جنرل محمد خالد نے اس طرح کی مہم چھیڑنے کے پیچھے کے مقاصد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج سماج میں جو بکھراؤ کی فضاء بڑھتی جارہی ہے اور لوگوں میں آپسی منافرت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کو روکا جائے، سماج میں آپسی محبت و اخوت کی فضاء کو بڑھاوا دیا جائے۔ بڑھتی منافرت کو روکنے کے لیے منظم کوشش ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو بکھرتا ہوا سماج ہے اسے ہم کیسے بکھرنے سے روکیں!یہ خواہش ہم میں سے بہت سے افراد کی ہے اور اسی خواہش کی بنیاد پر ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ سماج کا بکھراؤ ایسا ہے کہ کوئی بھی شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ سماج میں بکھراؤ نہیں ہو رہا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سماج کو کچھ دینے کی بھی بات کریں۔ سماج کے لیے تعلیم اور صحت ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس کی اپنی اہمیت بھی ہے لیکن اس کا حصول ہر ایک کے لیے یکساں نہیں ہے۔ سرکار کے بہت سے اسکول موجود ہیں اور اس کے اسٹرکچر میں جیسا تعلیمی نظام ہونا چاہیے ویسا نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں سماج کے ذمہدار طبقہ کو سوچنا چاہیے اور حکومتوں کو اس جانب توجہ دلائیں تاکہ سبھی لوگوں کے لیے بہتر صحت اور تعلیم کا حصول ممکن ہو سکے۔

سبکدوش آئی جی آفتاب احمد خان نے مذاکرہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت مند سماج کے لیے صحت مند ذہنیت کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ سماج کے ہر طبقہ میں ایک دوسرے پر یقین کم ہو گیا ہے اور کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں پر لوگوں کا اکٹھا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم سماج میں پھیلی ہوئی منافرت سے نجات چاہتے ہیں اور لوگوں کے درمیان پہلے جیسی محبت و الفت کو بڑھاوا دینا چاہیے۔

معروف صحافی آنند وردھن نے کہا کہ سماج میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں کہیں نہ کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے۔ کوئی بھی مذہب یہ نہیں سکھاتا ہے کہ ہم کسی سے نفرت کریں۔ یہ ہر مذہب کی تعلیم ہے اگر کوئی مذہبی ہے تو وہ نفرتی ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ نفرت کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے مذہب کو یا تو جانتے نہیں ہیں یا اس پر صحیح طریقہ سے عمل نہیں کرتے ہیں۔

آنند وردھن نے کہا کہ جس حساب سے ملک میں نفرت بڑھ رہی ہے اس سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ وقت بہت قریب ہے کہ جب اس نفرت سے ہر گھر کو آگ لگنے والی ہے۔ ایسے ماحول میں ہمیں ہر طرح سے کوشش کرنی ہوگی اور اس کے لیے شروعات خود سے اور اپنے گھر سے کرنی ہوگی۔

صحافی سشیل دوبے نے کہا کہ آج کا سماج پہلے والا سماج نہیں رہا۔ ہمیں اپنے چھوٹوں سے یہ بات بتانی ہوگی کہ یہ ملک کس طرح کا ملک تھا آپسی محبت و تعاون اس ملک کی اصل پہچان تھی جس کو دھیرے دھیرے اب مٹایا جا رہا ہے۔ اس ملک کے تیوہاروں میں ہم آپس میں گلے ملتے ہیں اس گلے ملنا کا اصل پیغام ہمیں سمجھنا چاہیے۔ ہم ایک دوسرے سے تین مرتبہ گلے ملتے ہیں، جس کا مفہوم ہے کہ ہم آپ کے تھے ہم آپ کے ہیں ہم آپ کے رہیں گے۔

ارشد اعظمی نے کہا کہ ہم اسلام کو ماننے والے لوگ ہیں۔ محمد صل اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کو ہم نے خود فراموش کر دیا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے پڑوسیوں کے ساتھ بہترین سلوک رکھنے کے خصوصی ہدایت فرمائی ہے۔ ہمیں بلا تفریق مذہب و ملت تمام ضرورتمندوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔

پروگرام کنونیر ڈاکٹر معید نے کہا کہ ہمیں اپنے ماتحتوں کو یہ تربیت دینی ہوگی کہ انسانیت کے ناطے ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنی ہوگی، ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی۔ ہمیں سبھی کے سکھ اور دکھ میں شریک ہونا چاہیے۔ صحت، تعلیم وغیرہ کے میدان میں ہم کوئی بڑا کام تو نہیں کرسکتے لیکن سرکاری کاموں کو بہتر بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں جو انسانیت کے لیے ایک عظیم تحفہ ہوگا۔

مذاکرہ میں سوربھ سنہا، ڈاکٹر بی پی سنگھ، ڈاکٹر شہلا، انجینئر سید شعیب، اطہر کریم قدوائی، کرشن کانت تیواری، ڈاکٹر محمد آصف، ایڈوکیٹ محمد راشد، ویر کمانڈر روجیو کھرے، ڈاکٹر حسان وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com