فلسطینی علاقوں میں شہری ہلاکتیں، اقوام متحدہ کی طرف سے مذمت

اسرائیلی فوج اور اسلامی جہاد نے جمعرات کے روز بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ میں ایک عمارت پر فضائی حملے کر کے فلسطینی عسکریت پسند گروپ اسلامی جہاد کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو ہلا ک کر دیا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسلامی جہاد کے راکٹ لانچنگ یونٹ کے سربراہ علی غالی اور دو دیگر عسکریت پسندوں کو خان یونس میں ایک رہائشی کمپلکس میں نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ غالی نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل کے خلاف راکٹ حملوں کی ہدایت دی تھی اور ان میں حصہ لیا تھا۔

اسرائیلی حکام نے بتایا کہ فلسطینی عسکریت پسندوں نے بدھ کے روز اسرائیل پر 400 سے زائد راکٹ داغے لیکن زیادہ تر راکٹ یا تو کھلے علاقوں میں گرے یا انہیں ناکام کردیا گیا۔ جنوبی اسرائیل میں راکٹ حملوں سے چار مکانات کو نقصان پہنچا۔

تحمل سے کام لینے کی اقوام متحدہ سربراہ کی اپیل

غزہ میں فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی کے دوران عسکریت پسندوں اور شہریوں سمیت 20 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش نے شہریوں کی ہلاکتوں کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے انہیں فوراً روکنے کی اپیل کی۔

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا کہ انہوں نے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ گوٹیرش نے غزہ سے اسرائیل پر اندھا دھند راکٹ داغنے، جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، کی بھی مذمت کی۔

فرحان حق کا کہنا تھا، “سکریٹری جنرل تمام متعلقہ فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور دشمنی کو روکنے کے لیے کام کریں۔” اسلامی جہاد کے ترجمان داؤد شہاب نے بتایا کہ مصر نے جنگ بندی کے لیے ثالثی شروع کردی ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے اسرائیلی سرکاری خبر رساں ادارے کے اے این کو بتایا کہ وہ مصر کی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

تقریباً روزانہ فضائی حملے اور راکٹ فائرنگ

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے منگل سے لے کر اب تک 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں راکٹ لانچنگ کے مقامات شامل ہیں۔ اس نے جب سے غزہ پر تازہ فضائی حملے شروع کیے ہیں اس کے بعد سے اسلامی جہاد کے تین کمانڈر ہلا ک ہو چکے ہیں۔ یہ فضائی حملے ایسے وقت کیے گئے ہیں جب غزہ کی پٹی میں اسرائیلی اور عسکریت پسندوں کے درمیان پہلے سے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

گزشتہ ہفتے اسلامی جہاد کے ایک سینیئر رکن کی اسرائیلی حراست میں بھوک ہڑتال کے دوران موت کے بعد سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان کی موت کے بعد عسکریت پسندوں نے جنوبی اسرائیل کی طرف کئی راکٹ داغے جس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی حملے کیے۔ بدھ کے روز ایک ٹیلی ویژن خطاب میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسلامی جہاد کو شدید دھچکا لگا ہے لیکن انہوں نے خبر دار کیا کہ مہم “ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ “ہم دہشت گردوں اور انہیں بھیجنے والوں سے کہتے ہیں: آپ ہر جگہ ہماری نگاہ میں ہیں۔ آپ چھپ نہیں سکتے اور آپ پر حملہ کرنے کے لیے جگہ اور وقت کا انتخاب ہم کرتے ہیں۔”

اسلامی جہاد، حماس کے مقابلے بہت چھوٹی تنظیم

اسلامی جہاد، ایک ایرانی حمایت یادفتہ عسکریت پسند گروپ ہے، جو غزہ کی پٹی پر کنٹرول رکھنے والے عسکریت پسند گروپ حماس سے کافی چھوٹا ہے۔ یورپی یونین، امریکہ اور کئی دیگر ملکو ں نے اسلامی جہاد اور حماس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کررکھا ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com