”مہدویت و مسیحیت “ کا جھوٹا دعویدار ہے شکیل بن حنیف جمعیت علماء ڈھاکہ کے زیر اہتمام عظیم الشان اجلاس عام سے مفتی جنید عالم ندوی قاسمی کا خطاب

موتیہاری: (فضل المبین) جمعیت علماء ڈھاکہ کے زیر اہتمام ڈھاکہ حلقہ کے بلوا گواباری میں فتنہ شكیلیت کے خلاف عظیم الشان اجلاس عام کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں کثیر تعداد میں مقامی لوگوں کے ساتھ علاقائی لوگوں نے بھی شرکت کی ۔

اس موقع پر اجلاس کے مہمان خصوصی دار العلوم الاسلامیہ مجھولیا کے سکریٹری و معہد الدراسات العلیا پٹنہ کے صدر مفتی مولانا جنید عالم ندوی قاسمی نے فتنہ شکیلیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ : شکیل بن حنیف کی پیدائش دربھنگہ بہار میں ہوئی، وہ ملازمت کی تلاش میں دہلی آیا اور وہیں پر تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوا، لیکن ذہنی بگاڑ اور عہدہ کی ہوس کی وجہ سے اس نے بعض بھولے بھالے جماعت کے ساتھیوں کو اپنا ہمنوا بنانا شروع کیا اور پہلے مہدی پھر مہدی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ: شکیل بن حنیف کا فتنہ امت کا بڑا بدترین فتنہ ہے، اسکی وجہ ہیکہ یہ شخص انتہائی سازشی اور خطرناک شخص ہے، جو ایسے سادہ لوح جدید تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں جو دین سے بلکل دور ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ شکیل بن حنیف اپنی پوری سرگرمی کے ساتھ خفیہ انداز میں تحریک چلاتے ہیں اور ہمارے علاقہ میں ہی ہمارے نوجوانوں پر محنت کرتے ہیں اور ہم کو اس بات کی خبر تک نہیں ہوتی، اور جب ایک بڑی تعداد گمراہ ہوجاتی ہے تو اس کے بعد یہ اسکی تشہیر کرتے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ ہماری ناواقفی یا بے خبری کی یہ صورت حال تشویش ناک ہے۔ مولانا نے تفصیل سے حضرت عیسٰی اور مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث میں وارد تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ مہدویت و مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے شکیل بن حنیف پر سچے مہدی کی کوئی علامت منطبق نہیں ہوتی۔ اس کے تمام دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور وہ محض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نہ وہ سچے مہدی کی طرح خاندان نبوت سے تعلق رکھتا ہے، نہ وہ مدینہ سے ہے، نہ اس کے ہاتھ پر عراق کے ابدال نے بیعت کی ہے، نہ اس نے قسطنطنیہ فتح کیا ہے، اور نہ ہی وہ شکل وصورت میں حدیث میں وارد علامتوں کا حامل ہے۔ بہر حال شکیل بن حنیف اور اس کے متبعین راہ راست سے منحرف ہیں اور اسلامی مسلمہ عقائد کے منکر ہیں جن کے اقرار کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ مفتی صاحب نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ مہدی اور مسیح سے متعلق جو احادیث صحیحہ متواترہ ہیں ان احادیث کو اپنے اوپر چسپاں کرنے والا شکیل بن حنیف اور اسکے حواری جو شکیل کو مہدی یا مسیح مانتے ہیں وہ سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ضرورت اس بات کی ہیکہ امت مسلمہ کو یکجا ہوکر ان فتنوں کا تعاقب کرنا چاہئے، لوگوں کو قادیانی اور شکیلوں کے مکر و فریب سے اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت سے واقف کروانا چاہئے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ: نئی نسلوں کو دینی تعلیم دینا یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے دینی تعلیم کے حصول کے بعد ہم طرح کے فتنوں کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں ۔

وہیں جمعیت علماء مشرقی چمپارن کے جنرل سکریٹری مولانا جاوید عالم قاسمی نے کہا کہ: نے کہا کہ فتنہ شکیلیت درحقیقت فتنہ ارتداد ہے ہمارے مسلمان نوجوان بھولے بھالے کم پڑھے لکھے شکار ہوتے جا رہے ہیں یہ ان دنوں مشرقی چمپارن اور اس کے اطراف وغیرہ میں اس کے ماننے والے مرد و خواتین چپکے چپکے ھمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اس فتنہ شکیلیت فتنہ ارتداد کا شکاربنا رہے ہیں اس فتنہ کی حقیقت سے ہمارے مسلمان نوجوان مردوں عورتوں کو باخبر ہونا چاہئے اور اس کی حقیقت کو جاننا چاہیے تاکہ اس کے مکروفریب کے جال میں نہ پھنسیں اور نوجوان اسکے متعلق دینی کتابوں کی اسٹڈی کریں مطالعہ کریں ۔

ڈھاکہ جامع مسجد کے امام و خطیب مولانا نذر المبین ندوی ( نائب صدر جمعیت علماء مشرقی چمپا رن ) نے جمعیت کی جانب سے تمام لوگوں کا بالخصوص باشندگان بلوا کا شکریہ ادا کیا، ساتھ ہی ساتھ مکھیا فاروق اعظم کے ہمت و حوصلہ کو بھی سراہا جن کی محنت و مشقت سے پروگرام مثالی بنا ۔

انہوں نے کہا کہ: فتنہ شكیلیت کے خلاف تحریک میں اس سرزمین کی تاریخ لکھی جائے گی، وہیں اجلاس کا اختتام مولانا عبد السلام قاسمی صدر جمعیت علماء مشرقی چمپارن کی دعاؤں پر ہوا ،

اجلاس کا آغاز قاری مصطفیٰ کی تلاوت سے ہوا جبکہ نظامت مولانا محمد جاوید مظاہری نے کی ۔

موقع پر پروگرام کے کنوینر فاروق اعظم مکھیا ، مولانا امان اللہ مظاہری ، مفتی ثناءاللہ قاسمی ، مولانا صدر عالم ندوی ، مفتی محمد احمد قاسمی ، قاری علاالدین ایمانی ، مولانا حسین اختر ، حاجی اسید ، حاجی شمیم ، پپپو خان ، خورشید خان ، ڈاکٹر نسیم اختر ، ڈاکٹر عمیق احمد ، ڈاکٹر خالد انور ایم ایل سی ، چئرمین امتیاز اختر ، محمد رضوان ، ماسٹر نسیم اختر و غیرہ نے شرکت کی ۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com